حکومت الیکشن کرانے میں 6 ماہ کی تاخیر کر سکتی ہے
اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر ایاز صادق کا کہنا ہے کہ حکومت الیکشن کرانے میں چھ ماہ کی تاخیر کر سکتی ہے۔انہوں نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف جلد الیکشن کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم حکومت انتخابات کرانے میں چھ ماہ کی تاخیر بھی کر سکتی ہے۔حکومت کے پاس یہ کارڈ بھی ہے کہ اگر ملک میں معاشی ایمرجنسی کی صورت حال ہو تو الیکشن میں چھ ماہ کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
جب کہ گزشتہ روز وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب،راولپنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی،اسٹیبلشمنٹ آپ کو الیکشن کی تاریخ لیکر نہیں دے سکتی۔ الیکشن کی تاریخ لینی ہے تو سیاستدان بنیں،عمران خان اپنی ضد چھوڑیں اور سیاستدانوں میں واپس آئیں اور مذاکرات کریں۔
پی ڈی ایم اور مولانا فضل الرحمٰن سے ملیں،نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کرنا چاہیں تو وہ انکار نہیں کریں گے۔
- Advertisement -
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ میں بھی عمران خان کی مدد کیلئے تیار ہوں،میں آپکو سیاسی مخالف سمجھتا ہوں لیکن دشمن نہیں،عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آئیں اور سیاست کا حصہ بنیں۔ سیاستدانوں میں بیٹھتے ہیں،فیصلوں میں تبدیلی ہوتی ہے۔ساتھ بیٹھیں تاکہ ملک آگے بڑھے،مہنگائی اور معاشی تباہی بھی آپ کے ذمہ ہے۔کسی نے تاریخ لینی ہوتی تو لے چکے ہوتے۔
اجتماع سے کوئی بھی دہشت گرد فائدہ اٹھا سکتا ہے،ہم نے حکومت کی طرف ایڈوائزری جاری کی ہے کہ کسی بھی شخص کو جلسہ گاہ میں بغیر تلاشی داخل نہ ہونے دیا جائے اور جلسے کے اسٹیج کو بلٹ پروف رکھا جائے۔اسٹیج کی انٹری کو محدود کرکے اس پر نظر رکھی جائے۔جلسے کے اطراف سخت حفاظتی انتطامات ہونے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فتنہ فساد مارچ ہے،یہ ترقی نہیں بلکہ پاکستان کی تباہی کا مارچ ہے،یہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے کا مارچ ہے۔اس مارچ کو نفرتیں بڑھانے کیلئے استعمال کیا جائے گا اور یہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کا مارچ ہے۔