MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

گورنر پنجاب کی برطرفی کے بعد گورنر ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی

0 423

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

لاہور(مسائل نیوز) وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر پنجاب کی برطرفی کے بعد سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ نے آئینی ماہرین سے مشاورت شروع کر دی۔انہوں نے کہا ہے کہ وہ برطرفی کے نوٹیفیکیشن کے حوالے سے وکلا سے مشاورت کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں گورنر ہاؤس آنے یا نہ آنے کا فیصلہ وکلا سے مشاورت کے بعد کروں گا۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جعلی حکومت غیر قانونی اقدام کر رہی ہے۔
میں وکلاء سے مشاورت کے بعد قانونی راستہ اختیار کروں گا ، صرف صدر مملکت ہی گورنر کو ہٹا سکتے ہیں۔گورنر ہاؤس پنجاب کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت کے نوٹیفیکیشن کے بعد عمر سرفراز چیمہ کی سیکیورٹی ہٹا لی گئی ہے ، اگر عمر سرفراز چیمہ گورنر ہاؤس آئے تو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

- Advertisement -

خیال رہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ، اس حوالے سے سینیئر جوائنٹ سیکرٹری کیبنٹ تیمور تجمل کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر عہدےسےہٹایا گیا ، اسپیکر پنجاب اسمبلی قائم مقام گورنر کے فرائض انجام دیں گے۔

حکومت پنجاب کے مطابق گورنرپنجاب کو ہٹائےجانے کے بعد ان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے ، عمرسرفراز چیمہ گورنر ہاؤس آئے تو داخل نہیں ہونے دیا جائےگا۔ بتاتے چلیں کہ گزشتہ روز صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ہٹانےکی وزیراعظم کی ایڈوائس مسترد کردی تھی ، ایون صدر سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ صدر مملکت کا کہنا ہےکہ گورنر پنجاب کو صدر پاکستان کی منظوری کے بغیر نہیں ہٹایا جاسکتا، آئین کے آرٹیکل 101کی شق 3 کے مطابق گورنر ، صدرکی رضامندی تک اپنے عہدے پر رہےگا ، گورنر پر بدانتظامی کاکوئی الزام ہے نہ کسی عدالت سے سزا ہوئی، گورنر پنجاب نے نہ ہی آئین کے خلاف کوئی کام کیا، اس لیے انہیں ہٹایا نہیں جا سکتا ، صدرکا فرض ہے کہ آئین کےآرٹیکل 41 کے مطابق پاکستان کے اتحاد کی نمائندگی کرے۔
صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات پر رپورٹ ارسال کی تھی، گورنر پنجاب نے وزیراعلٰی پنجاب کے استعفے اور وفاداریوں کی تبدیلی پر رپورٹ ارسال کی تھی، مجھے یقین ہےکہ گورنرکو ہٹانا غیر منصفانہ اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا، آرٹیکل 63 اے ممبران اسمبلی کو خریدنے جیسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ، اس مشکل وقت میں دستور پاکستان کے اُصولوں پر قائم رہنے کے لیے پرعزم ہوں، گورنر پنجاب کو ہٹانے کی وزیر اعظم کی ایڈوائس کومسترد کرتا ہوں-

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.