اسلام آباد(مسائل نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر کسی کے دباؤ میں آ کر فیصلہ نہیں کریں گے۔انہوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے متنازع بیان پر انہیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔متنازع بیان پر قانونی کارروائی سے قبل مکمل تحقیقات کی جائیں گے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ آرمی چیف کی تقرری کو متنازع بنانا کسی صورت ملک اور قوم کے مفاد میں ہیں بلکہ وہ اسے دشمنی سمجھتے ہیں۔اتحادی حکومت میں اہم فیصلوں میں مشاورت ہوتی ہے اور فوج کی جانب سے موصول ہونے والے ناموں کو اتحادی رہنماؤں کے سامنے رکھا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت میں توسیع سے متعلق بات قبل از وقت اور غیر ضروری ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ افغانستان میں ڈرون حملوں کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کیا۔جبکہ قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی پاک فوج کی قیادت کی مشاورت سے ہوگی، 5 سینئرترین جنرلز میں کوئی بھی ایک دوسرے سے کم نہیں ہے،آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے، عمران خان جلسوں میں اداروں کو خراب کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جلسوں میں اداروں کو خراب کرنا چاہتا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیراعظم کے پاس ہے، آرمی چیف کی تعیناتی پاک فوج کی قیادت کی مشاورت سے ہوگی، 5 سینئرترین جنرلز میں کوئی بھی ایک دوسرے سے کم نہیں ہے۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ پہلے کہتا تھا غیرملکی سازش ہے، امریکا نے یہ سارا کچھ کروایا ہے، یہ آدمی کنفیوزڈ ہیں اسے کچھ سمجھ نہیں کہ کیا کہنا ہے اور کیا کہہ جاتا ہے۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.