اسلام آباد(مسائل نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شکور شاد نے اسپیکر کو استعفے دینے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔شکور شاد نے استفعیٰ منظوری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔شکور شاد نے موقف اپنایا ہے کہ قومی اسمبلی کی نشست سے استفعیٰ نہیں دیا۔پارٹی ہیڈ آفس کے کمپیوٹر آپریٹر کے لکھے استعفوں پر 123 ارکان کے استعفے لیے گئے۔
استعفے اسپیکر کو بھیجے،نام لکھا نہ تاریخ ڈالی۔پارٹی نے بتایا استعفے پارٹی ڈسپلن رکھنے کے لیے ہیں۔عمران خان سے اظہار یکجہتی اور سیاسی مقاصد کے لیے دستخط کیے۔استعفوں کی منظوری عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی ہے۔ الیکشن شیڈول معطل،سیٹ خالی کرنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔عبدالشکور شاد نے 2018 کے عام انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 246 لیاری سے شکست دی تھی۔
دوسری جانب اندرونی ذرائع کے مطابق یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا پی ٹی آئی کے ایم این اے نے پی ٹی آئی میں تنظیمی اختلافات کے باعث سیاست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال رہے پی ٹی آئی کے ایم این اے عبدالشکور شاد نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1977 میں محمد ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دوران کیا، جب وہ جامعہ کراچی میں زیر تعلیم تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور اکتوبر 1978 میں شاد کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) قیادت کے حق میں ایک ریلی کے بعد ان کے والد کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایک انٹرویو میں عبدالشکور شاد نے کہا تھا کہ 1989 میں بے نظیر بھٹو نے انہیں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی میں انسپکٹر مقرر کیا، جہاں انہوں نے 2002 تک کام کیا۔1981 میں انہیں جامعہ کراچی میں پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا تھا اور اسی سال انہیں پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکرٹری کا اضافی چارج دیا گیا۔
Get real time updates directly on you device, subscribe now.