22 کروڑ لوگوں کے وزیر اعظم کو گھر بھیجا گیا،اس وقت بائیکاٹ کا خیال نہیں آیا،فواد چوہدری
اسلام آباد(مسائل نیوز) سابق وزیر اطلاعات اور تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ پر سیاسی بوجھ نہ ڈالیں،کل کو جج بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ میں بائیکاٹ کرتا ہوں۔ فل کورٹ بینچ بنانا نہ بنانا ججز کا اختیار ہے۔ پرویزالہٰی کے 186،حمزہ شہباز کے179 ووٹ تھے،179 والے کو وزیراعلیٰ ،جبکہ 186ووٹ والے کو اپوزیشن میں بٹھا دیا گیا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ 22 کروڑ لوگوں کے وزیر اعظم کو گھر بھیجا گیا،اس وقت مٹھائیاں بانٹی گئیں،اور بائیکاٹ کا خیال نہیں آیا انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا گروپ کے ساتھ مل کے سازشیں بنائی جارہی ہیں،عمران خان کے خلاف کیوں سازش کی گئی،اس کے کردار شرمندہ ہیں۔ جب نتیجہ آیا تو حمزہ شہباز کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا،کیوں چمٹے رہے،ہم نے مریم صفدر کی پنجاب ضمنی الیکشن میں شکست تسلیم کرنے کے بیان کو سراہا تھا،انہیں اپنی ناکامی پر سیاسی قیادت تبدیل کرنا چاہیے تھی۔
جمہوریت چلتی ہے جہاں ہارنے والے ہار کو تسلیم کرے،اگر پارٹی ہر وقت سازشوں میں لگی رہے گی،ہم آگے نہیں جا سکیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ ابھی تک جتنے کیسز ہیں پوری دنیا میں سنیئر ججز چلا رہے ہیں،عوام کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کریں،سپریم کورٹ پر سیاسی بوجھ نہ ڈالیں،کل کو جج بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ میں بائیکاٹ کرتا ہوں۔ فل کورٹ بینچ بنانا نہ بنانا ججز کا اختیار ہے۔ ملیکہ بخاری کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالت نے ظرف کا مظاہرہ کیا،ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔ آئین واضح ہے،اگر عدالت پر الزامات لگائے،تو آپ بھی توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں،ملیکہ بخاری نے کہا کہ گزشتہ روز جتھے نے اعلیٰ عدالت پر حملہ کیا،نتائج سنگین ہونے چاہیے۔