قومی اسمبلی اجلاس:سرکاری افسران کی تنخواہوں اور پنشن سے واجبات وصولی کامعاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا
اسلام آباد(مسائل نیوز)قومی اسمبلی نے سرکاری افسران کی تنخواہوں اور پنشن سے واجبات وصولی کامعاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم دورانی کی سربراہی میں منعقد ہوا۔پارلیمانی سیکرٹری برائے ہاؤسنگ محمود شاہ نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے وفاقی سیکرٹریوں کو دو پلاٹ دینے کی منظوری دی تھی ،اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس حکم کو غیر قانونی قرار دیا تھااب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے ،۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رہنما مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ سرکاری افسران گورنمنٹ رہائش گاہوں کے نادہندہ ہیں یہ سابق افسران کروڑوں روپے کے نادہندہ ہیں مگر کوئی ان سے پوچھتا نہیں ،ہم سیاست دان نادہندہ ہوجائیں تو الیکشن نہیں لڑسکتے۔ اس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے ہاؤسنگ محمود شاہ نے کہا کہ حکومت کو تجویز دینگے کہ وہ نادہندہ سرکار ی افسران کی تنخواہوں اور پنشن سے واجبات وصول کریں، اس پر ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم دورانی نے یہ معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس میں وفاقی وزراء کی عدم حاضری پر اپوزیشن کے رہنما غوث بخش مہر نے کہا کہ ایوان میں ایک بھی وزیر نہیں ہے۔ پہلی تینوں قطاریں خالی ہیں،اس ہاوس کو غیر سنجیدہ لیا جا رہا ہے۔وزرا کی عدم حاضری کا نوٹس لیا جائے۔اس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ وزرا کی عدم حاضری کا پہلے ہی نوٹس لیا ہوا ہے