MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ٹھپہ مافیا کے تحت آنیوالے نمائندے بلوچستان کے وسائل لوٹ رہے ہیں، ڈاکٹر مالک

0 361

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

قلات (مسائل نیوز) نیشنل پارٹی کے سربراہ وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں ٹھپے کے پیداوار نمائندوں کو پارلیمنٹ میں لاکر حقیقی سیاسی نمائندوں کا مینڈیٹ چراکر انہیں باہر رکھا گیا تاکہ بلوچستان کے وسائل لوٹیں ٹھپے کے پیداوار پانچ سے زائد حکومتی نمائندوں کے زیر سایہ قلات تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے ،اسلام اور قوم پرستی کے نام پر عوام کو ورغلا کر خود وفاق اور صوبائی حکومتوں کے برابر مزے لوٹ رہے ہیں قلات میں سیاسی تبدیلی شروع ہوچکی ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے قلات میں بیاد سابق سینیٹر میر حاصل خان بزنجو مرحوم کے یاد میں گرینڈ شمولیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔قلات مقامی ریسٹ ہاو¿س میں منعقدہ شمولیتی جلسہ منعقد کیا گیا جس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوئی جس کی سعادت حافظ زکریا نے حاصل کی اسٹیج سیکریٹری کے فرائض کامریڈظہوربلوچ اور مقبول گل محمدشہی نے سرانجام دیے قبل ازیں مرکزی قائدین کا منگچر اور گرانی کے مقام پر پرتپاک استقبال کیا گیا قائدین کو جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ لایا گیا اس موقع پر جلسے سے سابق سینیٹرمیرکبیراحمد محمدشہی ، مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی ، مرکزی رہنماءسابق صوبائی وزیر میر رحمت صالح بلوچ، صوبائی جنرل سیکریٹری محمد بخش بلوچ ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اسلم بلوچ ، مرکزی خاتون سیکریٹری یاسمین لہڑی ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری عبدالرسول بلوچ، مرکزی رہنماءڈاکٹر محمدرمضان ہزارہ، میر حاجی یعقوب لانگو ، چیئرمین بی ایس او زبیر بلوچ، صوبائی ترجمان علی احمد لانگو، ضلعی صدر قلات عبدالستار بلوچ، اسرار محمد حسنی پنجگور، نئے شمولیت اختیار کرنے والے حاجی غلام قادر عمرانی، محمد عارف قلندرانی، انجینئر پیربخش مینگل ، حفیظ صائد مینگل ، ودیگر نے خطاب کیا جلسے میں حسبِ روایت بلوچستان اور دنیا بھر کے شہداءکے یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قلات جیسا تاریخی قدیم شہر تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے حالانکہ آج بھی یہاں سے پانچ حکومتی نمائندے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن انہیں عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے انہوں نے کہا کہ آج تین طبقات معاشرے کو ورغلا کر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں ایک ملکی سالمیت کو خطرہ ہے کا نعرہ لگا کر ماروائے قانون اقدامات اٹھاکر اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں دوسرا طبقہ بلوچ ننگ و ناموس خطرہ میں کا نعرہ لگا کر نوجوانوں کو انتہاءپسندی پر ورغلا کر پہاڑوں پر بھیجتے ہیں اور خود اقتدار ودیگر آسائشوں کے مزے لوٹتے ہیں تیسرا طبقہ اسلام خطرے میں ہے کا نعرہ لگا کر اقتدار حاصل کرکے اسلام سے زیادہ اسلام آباد کے لئے کوشش کرتے ہیں آج تک اسلام ، ساحل وسائل کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ اب صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں باقاعدہ شامل ہیں انہوں نے کہا کہ آج کا جلسہ نیشنل پارٹی کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی ہے سیاسی وزن رکھنے والے حقیقی رہنماو¿ں کو نیشنل پارٹی میں شامل ہونے پر خوش آمدید کہتے ہوئے مبارکباد پیش کرتے ہیں بابائے جمہوریت مرحوم سابق سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کی حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد میں اس کی ہمت جرائت ، استقامت ، کو سلام پیش کرتے ہیں اب قلات میں نیشنل پارٹی کے برف پگھل گیا ہے اب شمولیتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگابحیثیت دارالخلافہ قلات کو ترقی یافتہ اور ماڈل ضلع بننا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے پسماندہ ضلعوں میں شمار ہورہا ہے جس کی اصل وجہ قلات سے غیرسیاسی لوگوں کا منتخب ہونا ہے قلات سے منتخب ہونے والے دو صفحہ کی کارکرد گی نہیں دکھا سکتے ہیں پاکستان کے سردترین شہروں میں شمار ہوتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے اس سخت سردی میں قلات قدرتی گیس سے محروم ہیں قلات میں گیس کی دریافت ہونا یہاں کے عوام کی بدبختی ہے کیونکہ سوئی سے دریافت ہونے والا گیس یہاں کے لوگوں کو میسر نہیں لاہور مظفرآباد کراچی کے لوگ مستفید ہورہےہیں پھر قلات کے عوام کو کیسے مل سکتا ہے نیشنل پارٹی واحد پارٹی ہے جو ساحل وسائل کے علاوہ مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے ببانگ دہل آواز اٹھاتی رہتی ہے نشتر ہسپتال واقعہ میں نظر آنے والے سینکڑوں لاشوں کے لیے غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہیے کیونکہ ان نعشوں کی لباس بلوچ لباسوں سے ملتے ہیں انہوں نے کہا کہ ووٹ کی پرچی کے ذریعے عوام اپنے اور اپنے حلقے کی قسمت بدل سکتے ہیں۔نیشنل پارٹی کے قائدین کو منتخب کرکے اسمبلیوں تک پہنچایا تو میں یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ بلوچستان اور بلوچ قوم کی تقدیر بدل دیں گے پھر میں دیکھتا ہوں کس کو جرائت ہوگی کہ ملازمتوں کو کون بیچ سکتا ہے کون عوامی فنڈز کو ہڑپ کرسکتا ہے 2011.12 میں قلات اور بلوچستان میں حالات مخدوش تھے پانچ ںجے غیراعلانیہ کرفیو لگتا تھا نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس حالات کو بدل دیا لوگ سکھ کا سانس لیا،حالیہ سیلابی صورتحال کے بعد بلوچستان کے طول و عرض میں متاثرین حکومتی امداد کے منتظر ہیں جب آواران میں زلزلے آیا تو ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے زلزلہ متاثرین کی بحال کرکے واپس آیا جو حقیقی قائد کی نشانی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نئے شمولیت اختیار کرنے والے ساتھیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں قلات والے وہ بھی دن تھے جب مکران کے لوگ پڑھنے کے لیے قلات آیا کرتے تھے بدقسمتی سے آج قلات میں تعلیم سمیت دیگر سہولیات سے محروم ہیں سیاسی کارکنوں کا حقیقی ٹھکانہ نیشنل پارٹی ہے جہاں جمہوری فیصلے ہوتے ہیں موروثی سیاست نہیں چلتی آج بلوچستان میں بنی حکومت ٹھپے کی پیداوار ہے ان افراد کو سیاسی جماعتوں کو دور رکھنے کے لیے الیکٹ کیا گیا ہے امید ہے کہ قلات کے عوام نیشنل پارٹی کو منتخب کریں گے ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ ان افراد کو منتخب کریں جو عوام کے حقوق پر سمجھوتہ اور سودے بازی نہیں کرتے ہیں راتوں رات پارٹیاں بناکر ہمارے وسائل لوٹتے ہیں اس روش کو بدلنا ہوگا۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.