MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بھارت کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں ، پاکستان

1 462

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (ویب ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مثبت تعلقات چاہتے ہیں ، مسئلہ کشمیر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،بھارت نے دکھلاوے کے طور پر افغانستان کیلئے 50000 ٹن گندم کی امداد کا اعلان کیا ، بدترین انسانی بحران کا سامنا کرنے والے افغانوں کیلئے ایک دانہ بھی نہیں بھیجا، بھارت نے جان بوجھ کر گندم کی امداد کا اعلان کیا تھا پاکستان اپنے زمینی راستوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کردے گا تاہم اس کے برعکس ہوا ، سی پیک ملک کی لائف لائن اور مستقبل ہے، سی پیک ترقیاتی منصوبوں پر کام تیز کر دیئے گئے ہیں اور صنعت کاری کے اگلے مرحلے سے خطے میں معاشی خوشحالی آئے گی۔

ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ بھارت انسانیت کے خلاف جرم کر رہا ہے اور نسل کشی کی تمام حدیں پار کر رہا ہے تاہم دنیا نے اس کے وحشیانہ مظالم پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، عالمی برادری بھارت کو چین کیلئے ایک کاﺅنٹر ویٹ کے طور پر دیکھ رہی ہے تاہم یہ اپنے لئے ایک کاﺅنٹر ویٹ بن گیا ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کے بحران کا حل امریکی انتظامیہ پر منحصر ہے کیونکہ پابندیوں میں نرمی کئے بغیر افغانستان کی ترقی کو یقینی بنانا اور معمولات زندگی بحال نہیں کئے جا سکتے، عالمی برادری پرامن ملک کیلئے افغانوں کو اپنا نظام آسانی سے چلانے کیلئے مدد فراہم کرے۔

- Advertisement -

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں پہلے سے ہی چالیس لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں اور افغانستان میں کسی بھی قسم کی بدامنی سے پاکستان میں بڑے پیمانے اس کے منفی اثرات پھیلیں گے، دنیا اور مقامی میڈیا مجھ پر طالبان کا ترجمان ہونے کا الزام لگا رہا ہے لیکن یہ میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے ملک کی حفاظت کروں اور بڑھتے ہوئے خطرات پر تشویش کا اظہار کروں۔ مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ اگر ہمارے پڑوس میں آگ لگتی ہے تو اس کا اثر ضرور ہوگا لہذا وہ افغانستان میں جاری انسانی بحران کو بار بار جھنجھوڑ رہے ہیں کیونکہ اس کے پاکستان پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو تسلیم کرنے جیسی کوئی چیز نہیں ہے

بلکہ ریاستوں کو تسلیم کیا جاتا ہے، افغانستان ایک تسلیم شدہ ریاست ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ افغانستان میں بینکنگ کا نظام درہم برہم ہے جسے بحال کیا جانا چاہیے تاکہ مقامی عوام اور بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں افغانستان میں عام لوگوں کی مدد کریں، ہم دنیا کو افغانستان کی حمایت پر قائل کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر باڑ لگانے اور انتظام کے حوالے سے حکومتی سطح پر بہت مثبت ردعمل آیا لیکن مقامی سطح کے مسائل کو نظر انداز کیا جانا چاہیے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.