سیاسی جوڑ توڑ
تحریر: اعجازعلی
عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی کہا تھا کہ جب میں ان کے گرد شکنجہ کسوں گا تو ان کی چیخیں نکلیں گی اور یہ سارے چور اکٹھے ھوجائیں گے آج ان کے وہ الفاظ تقریباً پوری قوم کی آنکھوں کے سامنے آچکے ہیں اور وہ کردار بھی۔
اپوزیشن ساڑھے تین سال کوشش کرتی رہی کہ کسی طرح تحریک انصاف کی حکومت کو گرایا جائے اور اس کیلئے اسمبلیوں کے اندر اور باہر ہر طرح کے حربے آزمائے گئے لیکن اپوزیشن کو ہر بار منہ کی کھانی پڑی اور عمران خان کو نقصان پہنچانے والے خودبخود بکھر کر رہ گئے اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی راہیں جدا ھوگئیں۔
کہتے ہیں کہ سیاست میں کبھی بھی کسی کیلئے بھی دروازے بند نہیں کرنے چاہییں کیونکہ کل کا حریف آج کا اتحادی بن سکتا ہے اس وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں میں کل کے دشمن آج کے اتحادی بنے ھوئے ہیں۔
اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کا چوتھا سال جاری ہے اور اب ڈلیور کرنے کا وقت ہے ظاہر ہے ہر حکومت کی پالیسی ھوتی ہے کہ وہ آخر سال میں پچھلے چار سال کی کسر نکال دیتی ہے اور عموماً سیاسی جماعتیں آخری سال ڈلیور کرکے اگلی حکومت بنا گئی ہیں اپوزیشن جس نے تحریک انصاف کے خلاف روز اول سے ہی کمر کس لی تھی اور اسے کھل کر کام نہیں کرنے دیا اس نے اس حکومت کو ختم کرنے کیلئے ترپ کا پتہ پھیکنے کا فیصلہ کرلیا
- Advertisement -
اپوزیشن اپنی کمان میں موجود آخری تیر چلانے کو تیار ہے اگر نشانے پر لگ گیا تو حکومت گئی اور نہ لگا تو اپوزیشن کو اگلے پانچ سال بھی انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
اپوزیشن کی بڑی جماعتوں سمیت پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نے سیاسی جوڑ توڑ شروع کردی ہے مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہبازشریف 14 سال بعد چوھدری برادران سے ملنے پہنچ گئے اور حکومت کیخلاف مدد مانگ لی۔
ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی میل ملاقاتوں میں مصروف ہیں سندھ میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے الگ الگ ایم کیو ایم سے ملاقاتیں کیں ہیں جبکہ حکومتی اتحادی جماعت جی ڈی اے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کے رابطے جاری ہیں اپوزیشن وزیراعظم کیخلاف اسمبلی میں دوبارہ عدم اعتماد لانے پر غور کررہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم نے لانگ مارچ اور دھرنے سمیت اسمبلیوں سے استعفوں کا پلان بھی بنا رکھا ہے
اپوزیشن حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہے حبکہ دوسری طرف حکومتی رائے یہی ہے کہ ان میل ملاقاتوں سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا بلکہ حکومت مزید مضبوط ھوگی۔
دونوں طرف سے دیکھا جائے تو محاذ فل گرم ہے لیکن اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کے اس جوڑ توڑ کو دیکھ کر جنگ دوئم عظیم کا ایک واقعہ یاد آجاتا ہے کہ جنگ کے دوران کچھ افسران ایک گاؤں میں چلے گئے اور بھرتی شروع کردی گاؤں کا سربراہ ایک مراثی تھا اس نے فوجی افسران کے ہاتھ ملکہ کے نام پیغام بھیجا کہ ملکہ صاحبہ اگر نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مراثیوں کے بچوں کو بھرتی کیا جارہا ہے اس سے بہتر ہے کہ آپ ہٹلر سے صلح کرلیں۔
اپوزیشن کا حال بھی یہی ہے کہ اگر حکومت گرانے کیلئے نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ مسلم لیگ ق,جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کا سہارا لیا جائے اس سے بہتر ہے اپوزیشن چپ سادھ لے اور حکومت کو اسکے حال پر چھوڑ دے عمران خان اور ان کے وزراء نے عوام کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اپوزیشن کچھ نہ بھی کرے تو اس حکومت کی موجودہ کارکردگی اس حکومت کو گرانے کیلئے کافی ہے۔
عمران خان اور تحریک انصاف کے پاس بہترین موقع ہے کہ ڈلیور کرجائیں تاکہ اگلے پانچ سال کیلئے راہ ہموار ھوسکے عمران خان صاحب کو چاپلوس وزراء اور مشیران کے چنگل سے نکلنا ھوگا جو ان کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں آخری سال شروع ھونے کو ہے اپوزیشن کیساتھ ساتھ حکومتی اراکین کو بھی عوام میں آنا ہے اور تحریک انصاف کی تاحال کارکردگی کوئی خاص اچھی نہیں ہے جسکی وجہ سے وزراء اور مشیران براہ راست عوام کے سامنے آنے سے کتراتے ہیں۔
عمران خان کو کرپٹ وزراء,مشیران اور بیوروکریسی سے جان چھڑانی ھوگی
جب عوام کے جائز کام ہی نہیں ھوں گے تو ظاہر ہے اس کا غصہ تو حکومت پر ہی اترے گا ملک میں مہنگائی,بیروزگاری اور غربت عروج پر پہنچ چکی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ھوشربا اضافہ ھوتا جارہا ہے بجلی کی قیمتیں بھی عوام کو جھٹکوں پر جھٹکے دے رہی ہیں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں 300 فیصد بڑھ چکی ہیں جس کی وجہ سے عام آدمی کا جینا بہت مشکل ھوچکا ہے وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کو اس حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ھوگا کیونکہ عوام کی یہی پریشانی اپوزیشن کا مضبوط ہتھیار ھوگا جس کو بنیاد بناکر وہ حکومت کیخلاف محاذ کھولنے کی تیاریوں میں مصروف ہے حکومت کو ان سارے پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ھوگا۔
فروری اور مارچ اس حکومت کیلئے بہت بھاری ہیں وزیراعظم نے پنجاب کے بلدیاتی الیکشن کو بطور چیلنج لیا ہے اور اپنے تمام کھلاڑیوں کو مورچے سنبھالنے کی ہدایت کی ہے یہ الیکشن حکومت اور اپوزیشن دونوں کی تیاریوں سے پردہ اٹھا دے گا کہ کس نے کتنی تیاری کی ہے جو پنجاب کا میدان مارے گا اگلے الیکشن میں وہی اکثریت سے کامیاب ھوگا۔
اب یہ وقت طے کرے گا کہ کون کیا ہے اور کس کا پلڑا بھاری ہے اپوزیشن میں موجود تمام جماعتیں تین تین چار چار باریاں لے چکی ہیں پچھلے بیس پچیس سال سے ایک ہی طرز کا چورن بیچا ہے تحریک انصاف کی پہلی باری ہے ظاہر ہے حکومت میں آنے کے بعد ان سے کافی غلطیاں بھی ہوئی ہیں لیکن عملی طور پر بہت اچھے کام بھی ھوئے ہیں جو پچھلے تیس پینتیں سال میں نہیں ھوسکے عوام اگلے پانچ سال کیلئے اسی کا انتخاب کرے گی جس نے بہتر ڈلیور کیا ھوگا۔