MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سلطنتِ پاکستان ۔۔۔۔!!

0 271

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالمکار: جاوید صدیقی

- Advertisement -

تاریخ کے اوراق میں دیکھتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا انگریزوں اور ہندوؤں سے اسلامی معاشرے کی تشکیل کے حصول کیلئے جنگوں و دجل کا لامتناہی سلسلہ جاری رھا اور تاریخ ھمیں یہ بھی بتاتی ھے کہ اشاعت اسلام، فروغ اسلام، تحفظ اسلام، تشخص اسلام اور مسلم امہ کی بقاء و سلامتی کیلئے تحاریک وجود میں آتی رھیں ان سب کا مجموعی جائزہ اور بزرگان دین اسلافین و اولیاء کرام کی مختلف مقامات فارس، عراق، افغانستان اور عرب سے ہجرت کے مطالعہ و آگاہی سے معلوم ھوا کہ اس خطے ھند کو دین اسلام میں بڑی خاص مقام حاصل ھے اس بابت کئی احادیث، فرمودات اور اولیاء و اسلافین کئی تصوف حکایات، واقعات اور سوانح حیات میں موجود تحریریں ھیں۔ بحرحال ھم قریب ترین ماضی کی طرف چلتے ھیں جب ھند میں مسلمانوں نے اپنے تشخص اور آزادی کیلئے نعرہ لگایا اور ایک جھنڈے تلے ایک لیڈر کی سربراہی میں لاکھوں مسلمان متحد ھوگئے۔ اس تحریک میں نہ ذات پات تھی نہ قبیلہ و قوم اور نہ رنگ و نسل، نہ زبان و کلچر اور نہ ہی ثقافت، رسم و رواج سب کے سب ایک مسلم قوم، ایک سچے پکے آزاد مسلم ریاست کے خواں تھے تاکہ اپنی آزاد مسلم ریاست میں قرآن و سنت اور شریعت کے مطابق ایک خالصتاً مسلم ریاست قائم کرسکیں۔ لاکھوں جانی و مالی قربانی کے بعد مملکت اسلامی ریاست پاکستان کا وجود دنیا کے نقشے پر 14 اگست 1947ء کو ابھرا۔ بانی پاکستان علالت کے باعث ایک سال زندہ رھے پھر آپ کے مخلص ایماندار دیانتدار سچے ساتھی نواب لیاقت علی خان نے پاکستان کے نظام ریاست کو سنبھالا مگر افسوس آپ کو جلد شہید کردیا گیا۔ تب سے ابتک پاکستان جس جس طرح گزرتا رھا ھے آپ سب جانتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طور پر عوامی مملکت ھے اور یہی وجہ ھے کہ یہ ملک عوام کی قربانیوں سے حاصل ھوا اس سے قبل کہ عوامی نمائندگان کا کیا کردار رھا ھم دیکھتے ھیں کہ فوج نے اقتدار کے معاملات میں مسلسل مداخلت جاری رکھی کہنے کو تو عوامی حکومتیں تھیں مگر درحقیقت پس پردہ اسٹیبلشمنٹ ان حکومتوں کو چلاتی رھیں۔ ریٹائرڈ جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب نے پختہ یقین دلایا کہ فوج آئندہ سیاست میں ہر گز مداخلت نہیں کریگی. عوامی نمائندے اپنا فیصلہ خود کریں اور خود ہی عوام کو جواب دیں۔ فوج کی طرف سے فیصلہ اور موقف آیا کہ ملک کو یہی سیاستدان بگاڑنے میں اپنا کردار ادا کرتے رھے ہیں اور سارا کا سارا الزام اسٹبلشمنٹ اور فوج پر تھوپ دیتے ھیں، اس فیصلے کے بعد سیاست دانوں کو جب چھپنے کی جگہ نہیں ملی تو انھوں نے فوج کی ہرزہ سرائی کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ فوج کے سینئرز فور اسٹارز نے عہد کرلیا ھے کہ وہ سیاست سے ہرگز ہرگز دور رھیں گے اگر ملک
پاکستان کی پچھہتر سالہ تاریخ کو دیکھیں تو معلوم ھوتا ھے کہ پاک فوج کی کمان کس کس کے ہاتھ میں کتنی مدت کیلئے رہی ۔؟ جنرل عاصم منیر نے ستر ویں آرمی چیف کے طور پر پاک فوج کی کمان سنبھال لی ہے، امید ھے پاکستان آزاد آگے بڑھتا رہیگا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! سنہ انیس سو باہتر عیسوی میں تعینات ہونے والے جنرل ٹکا خان کی سربراہی سے قبل آرمی چیف کا عہدہ کمانڈر ان چیف کے طور پر جانا جاتا تھا۔ سنہ انیس سو ستینتالیس عیسوی سے سنہ انیسسو باہتر عیسوی تک پاک آرمی کے چھ کمانڈر ان چیف رہے۔ ملک کے سب سے پہلے کمانڈر ان چیف کا نام جنرل سر فرینک میسروی تھا۔ دوسرے کمانڈر ان چیف جنرل ڈگلس گریسی نے سنہ انیس سو اڑتالیس عیسوی سے لے کر اپریل سنہ انیس سو اکیاون عیسوی تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ سنہ انیس سو اکیاون عیسوی میں تعینات ہونے والے جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فور اسٹار جنرل اور فیلڈ مارشل تھے۔ سنہ انیس سو اٹھاون عیسوی میں تعینات ہونے والے کمانڈر ان چیف جنرل موسیٰ خان آٹھ سال تک تعینات رہے۔ ملک کے پانچویں آرمی چیف جنرل یحییٰ خان اٹھارہ ستمبر سنہ انیس سو چھیاسٹھ عیسوی سے بیس دسمبر سنہ انیس سو اکہتر عیسوی تک ملک کے سپہ سالار رہے۔ چھٹے کمانڈر ان چیف جنرل گل حسن خان قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت ایک سال کیلئے فوجی سربراہ بننے والی شخصیت ہیں جو بیس دسمبر سنہ انیس سو اکہتر عیسوی سے دو مارچ سنہ انیس سو باہتر عیسوی تک فوجی سربراہ رہے جبکہ نئے آنے والے آرمی چیف جنرل ٹکا خان تین مارچ سنہ انیس سو باہتر عیسوی سے یکم مارچ سنہ انیس سو چھہتر عیسوی تک اس عہدے پر رہے۔ اس کے بعد یکم مارچ سنہ انیس سو چھہتر عیسوی کو جنرل ضیاءالحق کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے آرمی چیف تعینات کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے پانچ مئی سنہ انیس سو ساتتر عیسوی کو مارشل لاء لگایا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ جنرل ضیاء نے پاکستان کی تاریخ میں سب سے طویل عرصے یعنی گیارہ سال سے زائد تک آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا تھا۔ سترہ اگست سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی کو جنرل ضیاءالحق کی طیارہ گرنے سے ہلاکت کے بعد جنرل اسلم بیگ ملک کے نو ویں آرمی چیف بنے تھے۔ انہوں نے اگست سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی سے لے کر اگست سنہ انیس سو اکیانوے عیسوی تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس کے بعد جنرل آصف نواز کو سولہ اگست سنہ انیس سو اکیانوے عیسوی کو آرمی چیف تعینات کیا گیا، انہوں نے جنوری سنہ انیس سو تیرانوے عیسوی تک اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔جس کے بعد جنرل عبدالوحید کاکڑ سنہ انیس سو تیرانوے عیسوی سے جنوری سنہ انیس سو چھیانوے عیسوی تک آرمی چیف تعینات رہے۔
بارہ ویں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نے جنوری سنہ انیس سو چھیانوے عیسوی سے سنہ انیس سو اٹھانوے عیسوی تک ذمہ داریاں ادا کی۔ تیرہ ویں آرمی چیف پرویز مشرف اکتوبر سنہ انیس سو اٹھانوے عیسوی سے لے کر نومبر سنہ دو ہزار ساتھ عیسوی تک پاک فوج کے سربراہ رہے۔ اس کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی سے نومبر سنہ دو ہزار تیرہ عیسوی تک فوج کے سپہ سالار رہے جس کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے نومبر سنہ دو ہزار تیرہ عیسوی سے نومبر سنہ دو ہزار سولہ عیسوی تک فرائض انجام دیے۔ ملک کے سولہ ویں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنا عہدہ نومبر سنہ دو ہزار سولہ عیسوی کو سنبھالا تھاجو انتیس نومبر سنہ دو ہزار بائیس عیسوی تک آرمی چیف رہے۔۔۔۔معزز قارئین!! سنہ انیس سو سینتالیس سے سنہ دو ہزار بائیس تک آپ خود حساب جوڑ سکتے ہیں کہ آمر اور جمہوریت کا کتنا عرصہ برسرِ اقتدار رھا جمہوریت ھو یا آمریت عوام نے دونوں کو دیکھا کہ آمر اور جمہوریت نے مملکت پاکستان کو اسلامی نظام کے برخلاف سلطنت بنائی رکھی جو تا حال جاری ھے ایک واضع بات سامنے یہ آتی ھے کہ عوامی یعنی جمہوری حکومتوں میں ہمیشہ بے انتہا لاقانونیت عروج پر رہی اور بے امنی، بے سکونی، عدم تحفظ، قتل غارت گری، ٹارگٹ کلنگ، چوری، ڈکیتی، رشوت ستانی، لوٹ مار، مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، اقربہ پروری، تعصب، عصبیت، لسانیت، مسلکیت، بیروزگاری، جرائم، منشیات اور اسمگلنگ میں بے انتہا اضافہ ہی رھا لیکن آمر حکومتوں میں ایسا کچھ نہ تھا۔ آمر حکومتوں میں اداروں کے اندر نظم و ضبط دیکھنے کو ملتا تھا۔ روزگار بآسانی اور تحفظ و امن و امان و سکون میسر تھا۔ تھانے نیک نیتی ایمانداری و دیانتداری کیساتھ خدمت سے سرشار تھے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق عوام کا کہنا ھے کہ جمہوریت بہت بڑا دھوکہ ھے اس جمہوریت سے جب تک جان نہ چھڑائی جائیگی تب تک یہ اشرفیہ ملک و قوم کو ترقی و خوشحال ھونے نہیں دیں گے۔ عوام اسٹبلشمنٹ سے پوچھتی ھے کہ جب چھاؤنی میں بہترین نظام مروج کرکے لوگوں کی زندگی جنت بناتے ہیں تو اقتدار میں آکر کیوں نہیں سول لوگوں کی زندگیوں کو کیوں نہیں بہتر استوار کیا۔ کیا ھماری نسلیں اس غلیظ خبیث گندے کیچڑ سے بھی بدتر جمہوریت کے نظام کو صفحہ ہستی سے مٹا نہیں سکتے کب تک مورثی سیاست کے راجہ مہاراجہ ھم عوام کے سینے پر چڑھیں گے کب تک عوام کو غربت کی چکی میں پیستے کچلتے رھیں گے۔ نجانے کب ایمان یافتہ سپہ سالار آئیگا جو ان سب منافقین سیاستدانوں کی نسلوں کا خاتمہ کرکے اس ملک کو آزاد کرائے گا کیونکہ پاکستان حقیقت میں سلطنت پاکستان ھے کیونکہ یہ جھوٹ فریب منافقت سے لبریز ھوکر پاک نہیں رھا اسی لیئے اسے پاک نہیں کہہ سکتے۔ غلاظت شدہ سلطنت پاکستان کو سلطنت کا قتل کرکے آزاد خودمختار اسلامی مملکت پاکستان اب ناگزیر ھوچکا ھے۔۔۔۔۔!!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.