شہباز تتلہ قتل کیس، مفخر عدیل نے عمر قید کی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
لاہور(مسائل نیوز) شہباز تتلہ قتل کیس، سابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے عمر قید کی سزا کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا۔سابق ایس ایس پی مفخر عدیل نے وکیل کی وساطت سے اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی۔درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کے برعکس عمر قید کی سزا سنائی ،سابق ایس ایس پی مفخر عدیل ٹرائل کورٹ نے شواہد کا قانونی طور پر جائزہ نہیں لیا۔
خیال رہے کہ 27 مئی کو لاہور سیشن کورٹ کابڑا کیس بڑا فیصلہ آگیا فاضل عدالت نے بڑے قتل کیس کا فیصلہ سنا یا۔ سابق اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل شہباز تتلہ اغوا و اندھے قتل کی واردات میں ملوث ایس ایس پی مفخر عدیل کو عمر قید کی سزا سنا دی ۔عدالت نے دوشریک ملزمان کو بری کر دیا.ایڈیشنل سیشن جج شبریز اختر راجہ نے قتل ٹرائل کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا ،عدالت میں مجموعی طور پر 28 گواہان کے بیان قلمبند کیے گئے۔
- Advertisement -
جیل حکام کی جانب سے ملزم مفخر عدیل کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا دیگر شریک ملزمان میں اسد سرور اور عرفان کو بری کر دیا غیرت کے نام پر اپنے قریبی دوست کو ساتھیوں کے ساتھ ملکر قتل کرنے والے ایس ایس پی مفخر عدیل کی پنجاب پولیس کی جانب سے گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی شہباز تتلہ کے اغوا کا مقدمہ 7 فروری 2020 کو تھانہ نصیر آباد میں درج کیا گیا تھامقتول سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہباز عرف تتلا کی جانب سے فرہاد علی شاہ ایڈووکیٹ نے ٹرائل کے دوران دلائل پیش کیے اور عدالت کو بتایا کہ ایس ایس پی مفخر عدیل کے علاوہ دیگر ملزمان میں اسد بھٹی اور کانسٹیبل عرفان قتل میں ملوث ہیں دوران تفتیش ایس ایس پی مفخر عدیل نے شہباز تتلہ کو درندگی سے قتل کرنے کا اعتراف کر لیا تھا ایس ایس پی مفخر عدیل نے اعتراف کیا تھا کہ شہباز تتلہ کو درندگی سے قتل کرکے لاش کو تلف کر دیا تھا ملزم نے شریک ملزم اسد بھٹی کی معاونت سے شہباز تتلہ کو قتل کیا تھا ملزم نے تیزاب کا ڈرم پھینکنے کی جگہ کی بھی نشاندہی کی تھی شہبازن تتلہ کو نشے کی حالتن میں ملزم شفیق بھٹی نے منہ پر تکیہرکھ کرموت کے گھاٹ اتارا تھا۔