MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پرامن سوات اور پی ڈی ایم کا منفی پروپگنڈہ

0 367

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سوات کو پاکستان کا سویٹزرلینڈ کہتے ہیں۔ سوات سر سبز و شاداب وسیع ميدانوں کے علاوہ تجارت کا مرکز بھی ہے۔
ماضی قریب میں سوات طالبان کا گڑھ تھا, خوبصورت وادی کو طالبان نے دہشت کدہ بنا ڈالا تھا وہاں طالبان کی دادا گیری کی وجہ سے ذرائع ابلاغ پر  پابندی عائد تھی، طالبان اپنے نافرمانوں کو سرعام پھانسی دیکر اپنی دہشت میں اضافہ کیا کرتے تھے, انہوں نے لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا۔ المختصر طالبان نے سوات کو جہنم بنا نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی پھر پاک فوج کے جوانوں نے طالبان کی گند سے وادی کو پاک کیا, بعد ازاں معمولات زندگی کی بحالی میں بھی دھرتی کے بیٹے پیش پیش رہے, پاک فوج کی جراتمندانہ خدمات کے بعد سوات میں سیاحت کا شعبہ پھر سے فعال ہوا ہے, چند روز قبل خیبرپختونخوا کے علاقے سوات میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی واپسی کی اطلاعات پر مقامی افراد تشویش کا اظہار کیا۔ مقامی رہنماؤں کی جانب سے سوات کے مختلف مقامات پر احتجاجی جلسوں اورریلیوں کا سلسلہ ہوا, جس میں حکومت پر زور دیا گیا کہ دہشت گردوں کی واپسی کا راستہ روکا جائے۔
ریلی کا انعقاد  پی ڈی ایم اور سوات قومی جرگہ نے کیا, اس ریلی کا ایجنڈا دہشت گردی، انٹرنیٹ کی بندش اور رات کو نامعلوم افراد کی طرف سے گھروں پر پتھراؤ کے خلاف کیا تھا۔ جس میں پختون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین، ایم این اے محسن داوڑ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما مختیار یوسفزئی، اے این پی کے ایوب اشعری، پی پی پی رہنما ڈاکٹر امجد اور مقامی عمائدین نے ریلی سے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ سوات میں سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کی موجودگی کے باوجود عسکریت پسندوں کی واپسی ہوئی ہے, پیپلز پارٹی کے مقامی رہنما ڈاکٹر نے کہا کہ، “2022 کا سوات 2007 کے سوات سے مختلف ہے, اب عسکریت پسندوں کی باتوں میں نہیں آئیں گے۔ اس بار ہم صرف مذمت نہیں کرینگے ۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ترجمان مختیار یوسفزئی نے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے شرپسندوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے تو مقامی باشندوں کی جانب سے ان کے ساتھ “آہنی ہاتھوں” سے نمٹا جائے گا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت اور سیکورٹی فورسز باہمی تعاون کے ساتھ قبائلی علاقوں کے مکینوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں, آرمی چیف نے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے پاکستانی قوم اور مسلح افواج کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ “سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب توجہ دی جائے, جس کی پہلی ترجیجی بہتر تعلیم کا حصول ہے.دراصل سوات میں جان بوجھ کر طالبان کی آمد کا منفی پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے تاکہ پاک فوج اور افواج کے درمیان دوریاں پیدا کی جائیں اور پاکستان کی سیاحت پر منفی تاثر پڑے جس سے پرامن پاکستان کا تاثر خراب ہو, ان خرافات کا مقابلہ کرنے کے لیے سوات میں پولیسنگ اور گورننس میں بہتری کی ضرورت ہے۔
آئیں ذرا پختون تحفظ موومنٹ کی منی ٹریل پر ایک مختصر سی نظر ڈالتے ہیں, اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں اپنی پہلی ریلی کے لیے پی ڈی ایم کو فروری 2018 میں مبینہ طور پر بھارتی ایجنسی را سے فنڈز ملے،  22 مارچ 2018 کو را نے دوبارہ فنڈنگ کی تاکہ پی ڈی ایم کے کارکنوں کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کیا جاسکے, 8 اپریل 2018 کو منظور پشتین کے کزن اور ایک قریبی دوست نے قندھار میں بھارتی قونصل خانے کا دورہ کیا، جہاں فنڈز کا تبادلہ ہوا۔ 8 مئی 2018 کو جلال آباد میں ہندوستانی قونصل خانے نے پی ڈی ایم کو ریاست مخالف بیانیہ کے لئے رقم دی,
پی ڈی ایم کے رہنما ارمان لونی کی ہلاکت کے بعد
31 مارچ 2019 کو  پشاور میں  احتجاجی ریلی نکالنے کے لیے مبینہ طور پر افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس سے رقم جمع کی, اس احتجاج کو بلوچ علحیدگی پسند تحریکوں کے حامی اور مقامی نیوز چینل کے مالک محمد اسماعیل یون  نے بھرپور کوریج کی. منظور پیشتن ملک دشمن عناصر کے ہاتھ کا کھلونا ہے, منظور پشتین کے مطابق ریاستی اداروں نے ہمیشہ پشتونوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔ ہمارے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا گیا اور عدالتوں سے ہمیں کبھی انصاف نہیں ملا, جبکہ مسلح افواج میں پشتونوں کی بڑی تعداد بھرتی اور اعلی عہدے پر فائز ہے, درحقیقت منظور پشتین اپنے ہی لوگوں کے لئے خطرہ ہے کیونکہ منظور پشتین ہمیشہ سے کنٹرول فریک رہا ہے، ریاست مخالف تقاریر کرنے کی بنا پر منظور پشتین کو جنوری 2020 میں گرفتار کیا گیا تو افغانستان کی پوری قیادت نے احتجاج کیا,سابق
افغان صدر اشرف غنی نے ٹویٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے ردعمل کا اظہار کیا تھا کہ وہ پی ٹی ایم کے سربراہ کی گرفتاری سے “پریشان” ہیں اور انہوں نے پشتین کی “فوری رہائی” کا مطالبہ کیا, سابق صدر حامد کرزئی نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انہیں گرفتاری پر تشویش ہے اور انہوں نے منظور پشتین کی “فوری” رہائی کا مطالبہ کیا۔ آخر اس احتجاج اور مطالبے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے? پی ڈی ایم پاک فوج مخالف باتیں تو کرتی ہے مگر طالبان کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتی ہے, جس سے واضح ہوتا ہے پی ڈی ایم کی ڈور کہاں سے ہلالی جا رہی ہے, اس بات سے ہر ایک واقف ہے کہ
افغانستان کے دورے پر پی ٹی ایم کے رہنماؤں کو ملٹری پروٹوکول ملتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے غیر ملکی عناصر کے ساتھ مضبوط روابط ہیں پی ٹی ایم سرحد پر باڑ لگانے کے خلاف ہے، تاکہ دہشت گرد آزادانہ طور پر آئیں اور معصوم پشتونوں کو قتل کریں۔ یہ عناصر پاکستان, افغانستان کی سرحد کے خلاف بیانیہ پھیلانے میں بہت فعال اور متحرک ہیں, یہ لوگ پاک افغان سرحد کو ڈیورنڈ لائن کہتے ہیں جو ریاست پاکستان کے خلاف ہے۔
پی ٹی ایم کو اندرونی اختلافات کی وجہ سے متعدد مسائل کا سامنا ہے جس میں مالی مسائل بھی شامل ہیں, منظور پشتین اب مختلف اضلاع میں عوامی اجتماعات منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ عطیات جمع کر سکے. اسی لئے یہ عناصر سوات میں دہشتگردوں کی آمد کا جھوٹ بول کر ملک کے امن کو سبوثار کرکے خواہاں ہیں تاکہ ان کی منقطع غیر ملکی فنڈنگ بحال ہوسکے۔ پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسلح ارکان کی مبینہ موجودگی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سوات اور دیر کے درمیان پہاڑوں پر چند مسلح افراد کی موجودگی پائی گئی جو کہ بظاہر اپنے آبائی علاقوں میں دوبارہ آباد ہونے کے لیے افغانستان سے چوری چھپے آئے ہیں۔
مذکورہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پہاڑوں میں ان کی محدود موجودگی اور نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کر لیے ہیں۔
یاد رہے سوات سے لے کر وزیرستان آپریشن تک ہماری مسلح افواج نے قوم کو دہشت گردی کی لعنت سے محفوظ رکھنے کے لیے بہادری سے جنگ لڑی ہے, جسے کسی صورت رائیگاں جانے نہیں دیا جائے گا, انشا الله

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.