MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

معاشرے میں استاد کا مقام اور کردار

0 319

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

- Advertisement -

5 اکتوبر کو ہر سال پوری دنیا میں استادوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، کسی بھی مذہب معاشرے میں استاد کا بہت اہم کردار ہوتا ہے جب کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں استاد کے کردار سے انکار ممکن نہیں، اسلامی تعلیمات میں بھی استاد کو والد کے برابر درجہ دیا گیا ہے جو قومیں استاد کا احترام نہیں کرتی وہ کبھی ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتیں۔ استاد ہی انسان کا ایک ایسا روحانی پیشوا ہے کہ جس کی رہنمائی کی بدولت انسان زندگی میں اعلی مقام حاصل کرتا ہے اور استاد کے علم کے حوالے سے فراہم کردہ خدمات کی وجہ سے انسانی معاشرتی حیوانیت سے بالاتر ہو کر انسانیت کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ 5 اکتوبر 1994 سے لیکر اب تک ٹیچرز ڈے ہر سال بڑے جوش و جذبے اور عقیدت سے منایا جاتا ہے یہ بھی ایک خوشی کی بات ہے کہ کم از کم کوئی ایک دن تو استاد کے ادب و احترام کے لیے مخصوص ہے ورنہ 365 دن پاکستان میں کوئی عزت نہیں ہوتی، استاد بسوں میں دھکے کھاتے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں جاتے ہیں اور طلباء بڑی بڑی گاڑیوں میں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں آتے ہیں۔ آج میں اگر یہ آرٹیکل لکھ رہا ہوں تو یہ میرے استادوں کی محنت کا نتیجہ ہے جن کی تربیت نے مجھے اس قابل بنایا، استاد صرف اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں یا مدرسوں میں نہیں پائے جائے بلکہ ہر شعبے میں الگ الگ استاد ہوتے ہیں۔ استاد ہی وہ چراغ ہے جو جلتا ہے تو ہزاروں قندیلیں روشن ہوتی ہیں جو جہالت کی تاریکیوں کو علم کے نور سے روشن کرتا ہے۔ جو انسان کو زمین سے آسمان تک پہنچا دیتا ہے۔ بلاشبہ کسی قوم کی ترقی کا راز اس کی علمی استعداد میں پنہاں ہے۔ یاد رکھیں، تعلیم کا میدان ہو یا ہنر کا میدان دونوں میں اساتذہ کے بنا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہم تو اس راز کو سمجھ نا پائے لیکن اہل مغرب نے استاد کی اہمیت کو خوب جانا اور دل سے مانا ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال مشہور دانشور اشفاق احمد نے ایک بار اپنے مشہور ٹی وی پروگرام “زاویہ” میں کچھ یوں بیان کی کہ جب میں اٹلی کے شہر روم میں مقیم تھا تو ایک بار اپنا جرمانہ بروقت ادا نہ کرنے پر مجھے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ جب جج نے مجھ سے پوچھا کہ جرمانے کی ادائیگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ اس پر میں نے کہا کہ میں ایک ٹیچر ہوں اور کچھ دنوں سے مصروف تھا اس لئے جرمانہ ادا نہیں کر پایا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا جملہ مکمل کرتا، جج اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور بآواز بلند کہنے لگا: عدالت میں ایک استاد تشریف لائے ہیں۔ یہ سنتے ہی عدالت میں موجود سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ اس قوم کی ترقی کا راز کیا ہے۔ میرا ہر لکھا گیا آرٹیکل میرے استادوں کی مجھ پر کی گئی محنت کا ہی مرہون منت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کرام کو سلامت رکھے صحت کاملہ کے ساتھ برکت والی عمر دراز عطا فرمائے۔ آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.