MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اجتہاد

0 242

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

طارق خان ترین

ہماری بد قسمتی ہے کہ ایک مسلمان ہی مسلمان بھائی کا قتل کر کے انتقام کی اگ کو بجانے کی کوشش کر رہا ہے. ہمیں اپنے دینی تعلیمات کو سیکھنے کی اشد ضرورت ہے جو ہمیں اتحاد مسلم, اخوت اور رواداری کی تعلیم دیتا ہے. دین اسلام کی تعلیمات میں سے ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ اﷲ کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان سے تعلق ایک مضبوط عمارت کا سا ہے اس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپؐ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھایا کہ مسلمانوں کو اس طرح باہم وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہیے”. (صحیح بخاری و صحیح مسلم). پھر اسی طرح سے امت مسلمہ کو مزید سمجھایا گیا کہ حضرت نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ” سب مسلمان ایک جسم واحد کی طرح ہیں۔ اگر اس کی آنکھ دُکھے تو اس کا سارا جسم دُکھ محسوس کرتا ہے اور اسی طرح اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو بھی سارا جسم تکلیف میں شریک ہوتا ہے”۔ (صحیح مسلم). جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کس زوال اور پستی کے شکار ہوچکے ہے.

بلوچستان کے اس بےچین اور گھمبیر صورتحال میں یہاں کے لوگوں نے  ہمیشہ سے انہی صورتحال کا سامنا کیا ہے کہ ایک طرف عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے جس میں فوجی, ایف سی کے اہلکار, پولیس اور انٹیلیجنس اداروں کے اہلکار شہید ہورہے ہے تو دوسری طرف ناراض بلوچ افراد کے تنظیمی لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے دونوں اطراف سے مسلمان ہی مسلمان کے خون کا پیاسہ بن چکا ہے. قارئین کرام جب دو فریقوں کے درمیاں  کوئی تنازعہ بنتا ہے تو اس تنازعہ کو جنگ و جدل میں تبدیل ہونے سے پہلے مشائخ, علماء کرام اور قبائلی مشران اپنا موثر اور اہم ترین کردار نبھا کر تنازعہ کا تصفیہ کرادیتے ہے. مگر میرے پاس افسوس جیسے زوال پذیر لفظ کے سوا کوئی اور لفظ موجود نہیں کہ ایسے اکابرین کے ہوتے ہوئے بھی ریاست اور ناراض بلوچ افراد کے درمیان اور اگر کچھ نہیں کیا جاتا تو کم سے کم مذاکراتی کردارہی ادا کیا جاتا تو بھی بلوچستان کو ایسے گھمبیر مسائل کا سامنا نا کرنا پڑتا. اس توجہ طلب مسلے کو فراموش کیا جارہا ہے جسکی وجہ سے ملک دشمن قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہو رہے ہے اور پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. مگر بلوچستان کے باسی خصوصا نوجوان طبقہ اب اس بات کے متقاضی بن رہے ہے کہ مذاحمت کا راستہ اب بند کیا جانا چاہیے اور اکابرین دونوں فریقین  کو مذاکرات پر راضی کرے. جسکی مثال University of Gawadar  میں منعقدہ سیمینار ہے. یونیورسٹی آف گوادر میں 9 مارچ کو “بلوچستان میں مفاہمت” کے عنوان سے اس سیمینار میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ نوجوان طبقے نے بڑی کثرت سے شرکت کی اور اس سیمینار کے ذریعے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کو اب مذاحمت کی نہیں بلکہ نتیجہ خیز مزاکرات کی ضرورت ہے. اسی طرح نوجوانوں کی فقید المثال اجتماع نے Balochistan University of Engineering & Technology Khuzdar    میں “خوشحال بلوچستان مفاہمت کےساتھ” کے عنوان سے سیمینار میں شرکت کی. اس سیمینار سے شرکاء نے مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی قسمت ہر گز یہ نہیں ہوسکتی کہ یہاں پر ہمیشہ سے مزاحمت پسندی کے دروازے کھلے ہو اور مفاہمت کے دروازے بند ہو. مذاحمت نے نا تو پاکستان کی قسمت بدلی ہے اور نا ہی بلوچستان کی, اب یہ ناگزیر ہوچکا کہ ہمیں تمام تر مسائل کو نیک نیتی کے ساتھ ٹیبل پر لانے ہونگے تاکہ تاریکیوں کے اس دلدل سے بلوچستان اور پاکستان دونوں کو نکالا جاسکے.

- Advertisement -

جوڑ اور اجتماعیت کے اس دوڑ میں بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست اور سیاستدانوں کو نظر انداز کیا جائے. بد قسمتی ہے بلوچستان کی سرزمین کے لئے کہ سیاستدان محض اپنے شخصی اور پارٹی کے  ضائع شدہ مفادات کی تکمیل  لئے برسرپیکار رہے ہے.  اچھی گورنینس, اصلاحات, تعلیم, صحت اور روزگار کی فراہمی کے ساتھ ساتھ غربت اور احساس محرومی کے خاتمے میں سیاستدانوں کی جانب سے کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا گیا تو مفاہمتی عمل کے لئے تو انکے پاس شاید ہی وقت کی دستیابی ہو. 75 سالوں سے یہاں کے باسیوں  کی قسمت میں نا تو کوئی خاطرخواہ مثبت تبدیلی نظر ائی اور نا ہی بڑے بڑے دعوؤں سے یہاں کی پسماندگی کو ختم کیا گیا. سیاستدانوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے کو انقلابی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کہ جن سے یہاں کی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے.

مگر یہ سب ہوجانے کے بعد بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی قرارداد بلوچستان آسمبلی سے پاس کی گئی کہ جن سے براہراست بلوچستان کے نسلوں کا تعلق ہے. 17 فروری 2023 کو بلوچستان اسمبلی سے Truth & Reconciliation Commission کے حق میں قرارداد ایم پی اے ثناء بلوچ کی جانب سے پیش کیا گیا. “بلوچستان میں غربت کے خاتمے, قدرتی وسائل سے استفادہ, انسانی حقوق کی تشویشناک صورتحال میں بہتری, اچھی حکمرانی و دیرپا امن اور بلوچستان کے مسائل کا حل بندوق نہیں بلکہ بات چیت میں ہے” جیسے اہم ترین مسائل قرارداد کے متن میں شامل کئے گئے. بلوچستان کے عوام کی خوش نصیبی ہے کہ قرارداد کو نہ صرف بلوچستان آسمبلی میں پیش کیا گیا بلکہ اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور بھی کیا گیا. تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ایسی قرارداد جو اپنے نوعیت کے اعتبار سے ایک خاص اہمیت رکھتی ہو, کو کبھی آسمبلی میں ایسے اکثریت اور نیک نیتی کے ساتھ پاس نہیں کیا گیا. اسی طرح سے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے ناراض بلوچ افراد کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے, جس میں وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ ناراض ہو کر پہاڑوں کی طرف رخ کرنے سے مسائل کا حل ممکن نہیں. تمام تر مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہو سکتے ہے. حکومت کی جہاں اس وقت کوشش ہے کہ بلوچستان کے تمام تر مسائل کو مفاہمت کے ذریعے حل کئے جائے وہی سرکاری ملازمتوں کو پبلک سروس کمیشن کے توسط سے پر کرنے اور ای ٹینڈرنگ کے اجراء سے صوبے بھر میں شفافیت کو فروغ ملے گی. قارئین کرام واضح ہوتا ہے کہ حکومت بلوچستان کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اس بات پر متفق ہوچکی ہے کہ بلوچستان کی ترقی باہمی اشتراکیت, اتحاد مسلم, اخوت اور رواداری سے ہی ممکن ہے.

یہاں پر ضروری ہے کہ ہم بطور ایک قوم کے اجتماعی طور ان عناصر کو پہچاننا چاہیے جو ہمارے درمیان کبھی مین سٹریم میڈیا کی شکل میں, کبھی سوشل میڈیا کے توسط سے تو کبھی دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں. حال ہی میں کوہلو بارکھان میں دلخراش واقعہ رونما ہوئی جس پر پورا ملک سراپا احتجاج بنا, اور کچھ شرپسند عناصرنے بڑی مہارت کے ساتھ اس واقعے کو ملک کے دفاعی اداروں کے ساتھ جوڑا. اس واقعے کی آڑ میں کسی نے سوشل میڈیا پر سردار عبدالرحمن کھیتران کے ان تصاویر کو شیئر کئے جس میں وہ آرمی کے افسران کے ساتھ بیٹھے تھے تو کسی نے صوبے کے دارالحکومت کوئٹہ کے ریڈ زون میں شہدا کے ساتھ دھرنے میں بےتکی تقاریر کے ذریعے قومی اداروں کو حدف تنقید بنایا. یہ وہی لوگ ہے جو لاپتہ افراد کے مسلے سے منسلک ہے. میں زاتی طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ بالکل اسی طرح اظہار یکجہتی کرتا ہوں جسطرح سے دفاعی اداروں کے ساتھ کرتا ہوں جو کہ ایک زمہ دار شہری کی حیثیت سے میرے فرائض میں شامل ہے. یہ ضروری ہے کہ لاپتہ افراد کو ڈھونڈ کر انکے خاندان کے حوالے کئے جائے, البتہ اگر ان پر ریاست کے خلاف کوئی الزام ہے تو عدالتوں کے ذریعے ان پر مقدمات  قائم کئے جائے اور ان ملزمان کے لئے عدالتوں کے توسط سے جزا سزا کا تعین کیا جائے تاکہ لواحقین کو مطمئن کیا جاسکے نہ صرف بلکہ اس عمل سے بلوچستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی بھرپور پذیرائی مل سکے گی. جولائی 2022 میں پاک فوج کے کرنل لئیق مرزا کو فیملی کے ساتھ اغوا کیا گیا اور دوسرے روز انہیں بےدردی کے ساتھ شہید کیا گیا تو اسی مناسبت سے زیارت میں پاک فوج کی جانب سے سرچ آپریشن کیا گیا جہاں سے کرنل لئیق مرزا کی جسد کو بھی برآمد کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ وہاں اس آپریشن میں 9 دہشت گرد بھی مارے گئے جس پر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ مسنگ پرسنز ہی اس میں مارے گئے جس میں ظہیر احمد نامی شخص کو بھی شہید قرار دیا گیا. جبکہ اسکے اگلے روز ہی ظہیر احمد پریس کانفرنس کے توسط سے خود نمودار ہوئے.  غرض یہ کہ عوام شہری ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے وجود کئ دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر اس بات کی تحقیق کرے کہ کہیں میرے کسی بات سے ملک کا نقصان تو نہیں ہورہا. خصوصا ایسے حالات میں کہ جب بلوچستان حکومت مفاہمتی پالیسی پر عمل پیرا ہو, جب ناراض بلوچ افراد کو اس بات کی دعوت دی گئی ہو کہ وہ مزاکراتی عمل حصہ بنے.

 

ان تمام عوامل پر بات کرتے ہوئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناراض بلوچ حکومت کے مفاہمتی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مذاکرات کا راستہ اختیار کریگی؟ کیا بلوچستان سے پسماندگی کے خاتمے, غربت, احساس محرومی میں کمی, خوشحال بلوچستان کیلئے ناراض بلوچ اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گے؟ کم سے کم مجھے اس بات پر یقین ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان مزاکرات کا قوی امکان ہے جس کی خوشخبری قوم کو بہت جلد ملے گی. انشاءاللہ

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.