“ہم ہیں انصاف کرنے والے لوگ “
تحریر: احمد وقاص کاشی
انویسٹی گیشن آفیسر وفاقی محتسب ریجنل آفس کوئٹہ
آسمانوں کے نزدیک وہ شخص لائقِ تحسین ہے جو زمین والوں کے درمیان انصاف قائم کرے اور شاید ہم ان لوگوں میں شامل ہیں جو خدائے برتر کی قائم کی ہوئی دنیا میں اس کی مخلوق کے لیے جلد اور مفت انصاف کی کوشش میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔
وفاقی محتسب ایک ایسا ادارہ ہے جو لوگوں کے لئے مفت اور جلد انصاف کا شاید واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔ جہاں نہ تو انصاف کی تلاش کے لئے اگلی نسل کو انتظار کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی انصاف کی تلاش میں اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے ۔
شاید یہ مملکت خداداد پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے جہاں بغیر کسی فیس اور وکیل کے صرف 60 دن کے اندر انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔
وفاقی محتسب کا قیام 1983 میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ عمل میں آیا اور تب سے لے کر اب تک اس ادارے نے نہ دن دیکھانہ رات نہ گرمی نہ سردی نامسائب حالات کے باوجود بس ایک دھن میں چلتا رہا کہ ” ہم ہیں انصاف کرنے والے لوگ ”
- Advertisement -
وفاقی محتسب نے اپنے سفر کا آغاز دارالحکومت اسلام آباد سے کیا اور رفتہ رفتہ صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلعی سطح پر عوامی مسائل سننے کا آغاز ہوا اور پھر شہر تو شہر بلکہ دور دراز علاقوں مثلاً خاران ڈیرہ اسماعیل خان سکھر بہاولپور گلگت بلتستان اور دیگر اضلاع میں بھی اپنے دفاتر کھولنا شروع کیے جو کہ کامیابی سے کام کر رہے ہیں ۔
موجودہ وفاقی محتسب جناب اعجاز احمد قریشی صاحب کی ہدایت کے مطابق وفاقی محتسب کا عملہ عوام کو سہولت فراہم کرنے میں ہمہ وقت لگا ہوا ہے ۔ مقصد ہے تو صرف یہ کہ کسی طرح مہنگائی کی ماری اس عوام کو سکون کے چند لمحے عطا کیے جا سکیں ۔ پھر وہ سکون بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مالی امداد کی شکل میں ہو یا بجلی اور گیس کے بلوں میں بےجا جرمانے ہٹانے کی شکل میں۔ مقصد ہے تو بس عوام کا ریلیف پھر چا ہے اس کے لیے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
وفاقی محتسب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم جہاں بھی گئے وہاں داستان رقم کر کے آئے ۔ چند روز پہلے ہی آذربائیجان میں ہونے والی ایشین امبڈذ مین ایسوسی ایشن کے اجلاس کی صدارت پاکستان کے موجودہ وفاقی محتسب جناب اعجاز احمد قریشی نے کی جس میں تقریبا 25 ممالک نے شرکت کی ۔ اور اجلاس کے دوران جلد اور مفت انصاف کے پاکستانی طریقہ کار کو بہت سراہا گیا ۔
وفاقی محتسب کاادارہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے عوام کو انصاف فراہم کیا جائے ۔عوامی مسائل ARD کے تحت حل کرنے کے لئے جب رسمی طریقہ کار کم محسوس ہوا تو غیر رسمی طریقہ یعنی IRD متعارف کروایا ۔جس میں عوامی مسائل باہمی رضامندی سے بطریق احسن حل ہو رہے ہیں ۔ اور اس طریقے کار کو قبائلی اور دیہاتی علاقوں میں خوب پذیرائی مل رہی ہے ۔اور الحمدللہ وفاقی محتسب کے اس طریقہ کار سے لاتعداد مسائل روز کی بنیاد پر حل بھی ہور ہے جو کہ خوش آئند بات ہے ۔
وفاقی محتسب جہاں پاکستان میں موجود پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں لگا ہوا ہے وہیں وہ پاکستانی جو پاکستان سے باہر رہ کر اس ملک کی خدمت کرتے اور اس ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری لے کر آتے ہیں انہیں بھی اس ادارے نے اپنے سینے سے لگایا ہوا ہے ۔اور اس سلسلے میں پاکستان کے تمام انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر باقاعدہ ایک ون ونڈو فیسیلیٹشن ڈیسک وفاقی محتسب کے زیر انتظام کام کر رہا ہے جہاں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کیے جاتے ہیں ۔ اور اس سلسلے میں اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب کو اوورسیز پاکستانیوں کی شکایت سیل کا کمشنر بھی مقرر کیا گیا ہے ۔جن کی نگرانی میں ان پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہو رہے ہیں جو اپنے وطن سے دور مسافری کی زندگی برداشت کر رہے ہیں ۔
وفاقی محتسب کی کامیابی کی داستانیں لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ۔اور اگر میں یہ داستانیں رقم کرنے بیٹھا تو شاید وقت کی رفتار تھم جائے اور الفاظ ختم ہو جائیں ۔ مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ کہنا ضروری ہے ۔ وفاقی محتسب کے حکم پر پی ایم ڈی سی کے ریٹائرڈ ملازمین کو کروڑوں روپے کی پینشن دلوائی گئی ۔
انشورنس ایجنسیوں سے عوام کو کروڑوں روپے واپس دلوائے گئے ۔
بے روزگاروں کو روزگار دلوایا گیا ۔
مہنگائی سے دم توڑتی عوام کو بے نظیر انکم سپورٹ کے ذریعہ مالی امداد دلوائی گئی ۔
بیواؤں اور یتیموں کو ان کے حقوق دلوائے گئے ۔
بجلی کمپنی کے غیر منصفانہ اضافی بلوں کو ایفینڈ کرایا گیا
ہاؤسنگ سوسائٹیز میں عوام کے بے انتہا سے مسائل کو حل کیا گیا ۔
الغرض وفاقی محتسب ہر شعبے میں عوام کی خدمت کرنے کے لئے کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ ہمارے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ہر آنے والے سال میں شکایات گزاروں کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے بڑھتی چلی جارہی ہے ۔شاید یہی عوام کا اعتبار ہے جو ہمیں کام کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔
دوسری طرف ہم بھی قائد کے فرمودات پر عمل کرنے والے لوگ ہیں ۔
کام کام اور بس کام ۔۔۔۔۔
پھر چاہے اس کے لیے اپنے آرام کو ہی کیوں نہ ختم کرنا پڑے ۔
ہم کو اعجاز یہ ملا کاشی
ہم ہیں انصاف کرنے والے لوگ