MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ میں خونی رشتوں کا قتل

1 443

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عبدالغنی شہزاد

- Advertisement -

گزشتہ ایک ہفتے میں کوئٹہ میں خونی رشتوں کی اموات کی خبروں نے ہر انسان کو افسردہ کردیا ہے، ان پر کیا گزررہی ہوگی جن کے گھروں کے چراغ گل ہوگئے ، اس میں سب سے دلخراش اور دماغ ماؤف کرنے والا واقعہ کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر معروف آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر ناصرچکزئی کے تین بیٹوں کا المناک قتل ہے،بدقسمتی سے تین معصوم اور پھول نما بھائیوں کا قاتل سگا بھائی ہی نکلا ۔ بے دردی سے لقمہ اجل بننے والوں کے سگے بھائی قیس نے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ شادی کی تقریب سے واپسی پر تینوں کو قتل کیا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ رات چمن سے تعلق رکھنے والے آرتھو پیڈک کے سربراہ ڈاکٹر ناصر اچکزئی کے بیٹے گھر شادی کی تقریب سے گاڑی پر جوائنٹ روڈ پر واقع ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی واپس آرہی تھے کہ قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر ناصر خان اچکزئی کے تین بیٹے موقع ہی پر جاں بحق ہوئے۔ اور گھریلو ملازم نے سب کہانی کا بھانڈا پھوڑدیا کہ قاتل ان کا بھائی ہی ہے۔ ڈاکٹر ناصر خان اچکزئی کے ماتم کدے میں فاتحہ کا موقع ملا ، ڈاکٹر ناصر خان اچکزئی کو جمعیت کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مفتی محمد روزی خان ضلعی امیر مولانا عبد الرحمن رفیق نے دلاسہ دیا اور صبر کی تلقین کی ۔ لیکن یہ غم تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کم کرسکتی ہے، انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ اس کے علاو خیزئی کے علاقے میں کمسن بیٹے نے نوجوان والد کو قتل کر دیا، باپ کی اسی بیٹے کے ساتھ چند دن قبل کھنچوائی گئی سیلفی سوشل میڈیا پر دیکھنے والوں کے افسوس میں اضافہ کررہی ہے، تھانہ خروٹ آباد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرلیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ دن تھانہ خروٹ آباد کے حدود میں ملزم سعیدالرحمان ولد حاجی محمد حسن ساکن کلی خیزی کوئٹہ نے فائرنگ کرکے اپنے والد کو قتل کیا تھا پولیس نے ملزم کو گرفتار کیا۔واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد
کرلیا۔ ایک اور دل شکن خبر ہے کہ شاہ زمان روڈ پر شوہر نے ماموں کے گھر میں اپنی بیوی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا ۔ پولیس کے مطابق سٹیلائٹ ٹائون کا رہائشی شہاب خان اپنی بیوی کے ہمراہ اتوار کی شب اپنے ماموں کے گھر شاہ زمان روڈ پر آیا ہوا تھا جہاں میاں بیوی میں تلخ کلامی ہوئی۔ جس پر شوہرنے بیوی پر فائرنگ کی اور فرار ہو گیا۔ فائرنگ سے خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پرپہنچ کر لاش کو تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کیا جہاں ضروری کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ یہ واقعات کس قسم درندہ معاشرے کی نشاندہی کرتے ہیں ، کہ لوگوں کے ہاں خون اس قدر سفید ہوا کہ اب خونی رشتوں کو بہت آسانی سے موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ معصوم انسان
اور تو دور کی بات ہے اپنے ہی خونی رشتوں کا قاتل کیسے بن جاتا ہے، یقیناً انسان پر ماحول کا زبردست اثر ہوتا ہے۔ جو خارجی عوامل انسان پر بہت زیادہ اثرات مرتب کرتے ہیں وہ بنیادی طور پر دو ہیں ایک ماحول دوسرا تعلیم۔ تعلیم کے اثرات انسانی زندگی میں کس قدر نمایاں ہیں یہ کسی سے مخفی و پوشیدہ نہیں خاندان کا اگر ایک بچہ پڑھ لکھ کر کامیاب ہوجاتا ہے اور وہ بڑا بن جاتا ہے تو صرف گھر اور خاندان ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں تبدیلی اور انقلاب آجاتا ہے۔دوسری چیز ہے ماحول: ماحول کے اصل معنی تو ہیں گرد و پیش کے ،لیکن ماحول کامطلب یہ ہے کہ آدمی جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے ،فکر و نظر اور عملی زندگی میں ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس کو ایک مثال سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پانی کی اصل فطرت ٹھنڈا ہونا ہے ،وہ نہ صرف خود ٹھنڈا ہوتا ہے ،بلکہ دوسرے کو بھی ٹھنڈک پہنچاتا ہے لیکن جب سخت گرمی، لو اور تپش کا موقع ہوتا ہے اور دھوپ کی حدت و شدت اور اس کی تمازت بڑھ جاتی ہے تو پانی بھی گرم ہو جاتا ہے اور پینے والوں کی پیاس بجھائے نہیں بجھتی۔ اسی طرح انسان پر ماحول کا اثر پڑتا ہے۔ اگر اس کو نیک ،شریف اور بااخلاق لوگوں کا ماحول میسر آتا ہے تو اس کی فطری صلاحیت، تقوی اور نیکی پروان چڑھتی ہے اور اس کی خوبیاں دو چند ہو جاتی ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے پانی میں برف ڈال دیا جائے کہ اس سے اس کی ٹھنڈک اور بڑھ جاتی ہے۔ اور پھر یہ پانی پیاسوں کے لئے اکسیر بن جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس اگر انسان کو ماحول غلط ملے تو وہ خراب ہوجاتا ہے اور اس کے اندر جو خوبیاں ہوتی ہیں وہ بھی بتدریج ختم ہوجاتی ہیں۔ اس کی مثال اس صاف و شفاف پانی کی ہے جس کے اندر کسی نے گندگی ڈال دی ہو۔اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان فطرتاً نیک ہوتا ہے اس کی فطرت میں بنیادی طور پر خیر ہی کا غلبہ رہتا ہے۔ مگر آج کل کی بے ہودہ اور انٹرنیٹ کی مصنوعی دنیا نے نوجوان نسل کو بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے منور کرکے علماء اور صلحاء کی محافل کا حصہ بنائے ورنہ تمام آسائشوں کے باوجود نسل نو ڈپریشن کا شکار ہو کر خاندان اور معاشرے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)کوئٹہ کے علاقے جوائنٹ روڈ پر 27 ستمبر کو اپنے تین سگے بھائیوں کو قتل کرنے والے چوتھے بیٹے کو والدین نے معاف […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.