MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

قیامِ امن کیلے افغان مہاجرین سے مواخات ضروری ہے

1 370

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر = نجیب جالب

- Advertisement -

پاک افغان تعلقات پر طرح طرح کے قصیدے اور ٹی وی انٹریو پر تبصرے سننے کو ملتے ہیں جو بعض دفعہ حقیقت پر تو کبھی کبار نفرت کے پیراہن میں دکھائی دینے لگتے ہیں دراصل ہم نے مثبت نگاہ سے پاک افغان تعلق کو بہت کم ہی پرکھا ہے اور  کسی حدتک کسی  انفرادی عمل کو پورے قوم و ملک کے مزاج سے ملانے کی کوششیں کررہے ہوتے ہیں ہم علمی و فکری لطیفے جھاڑنے پر آجائیں تو دہشتگردی کو تمام مزاہب و قوم و رنگ و۔نسل سے دور رکھنے کی بلا کی منطقیں جھاڑتے ہیں لیکن کئی دفعہ ہم نے سیاسی تناظر میں اکثر انفرادی عمل کی وجہ سے پورے افغانستان یا پھر دوسرے جانب پورے پاکستان پر۔الزام آئید کرنے لگ جاتے ہیں اگرچہ دو زبان رسم و رواج اور مذہب کے اتنے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں کہ حکمران چاہتے ہوئے بھی دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتے سیاسی سکورنگ اور مفاد کی خاطر دیرینہ رشتوں میں دراڑیں ڈالنے کی ہزارہا کوششیں کی گئی لیکن تمام تر بےسود ثابت ہوئے دو مسلمان و برادر ہمسائے ملکوں کی باہمی تعلق اور عوامی رشتے عآلمی دنیا کے سازشی آلاکاروں کو ہضم نہیں ہورہا یہ پرامن اور محنتی شہریوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں لیکن یہ رشتہ کافی مظبوط ہوچکا ہے
کیونکہ نہ صرف  اب ان افغان مہاجرین کی تیسری نسل پاکستان میں جوان ہو رہی ہے بلکہ ہزاروں افغانی، پاکستانی مرد و خواتین کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھنے سے یہ مکمل پاکستانی بن چکے ہیں خواہ ان کی قانونی حیثیت کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ ان کا اوڑھنا بچھونا پاکستان ہے ان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تہذیبی اور ثقافتی رشتہ اس وقت اور مضبوط تھا جب دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ سرحدی تجارت تمام قانونی پیچیدگیوں سے مستثنی تھا۔لیکن آج بیرؤنی سازشوں اور اندرون ملک نفرت بیچنے والے بیوپاروں نے اس آزادانہ تجارت کا بھی جنازہ نکال دیآ دونوں جانب انتہائی سخت رویہ اپنایا جاتا ہے اور ہر بار مختلف واقعات کے ضد میں بارڈر ٹریڈ روک دی جاتی ہے جس سے ہزاروں خاندانوں کا زرائع معاش متاثر ہوتا ہے پاک افغان باب دوستی بارڈر پر ہر روز تقریباً بیس سے تیس ہزار لوگوں کا آمدورفت ہوتا ہے پاکستان کے جانب سے ہر صبح ہزاروں کی تعداد میں باردڈ کراس کرکے سپن بلدک و دیگر اطراف کے علاقوں میں دکانوں سمیت مختلف چھوٹے چھوٹے کاروبار کرتے ہیں اور شام واپس پاکستان آتے ہیں  ہاس آمدورفت کی وجہ سے پاکستان کے جانب سے ضلع چمن اور افغانستان کے طرف سے سپن بولدیک تک فری ویزا سسٹم متعرف کروائی گئی ہے  ایک دور وہ تھا کہ پاکستان میں پشاور، کوئٹہ، مہمند خیبر پاراچنار میرانشاہ اور چمن افغان عوام کے سب سے بڑے کاروباری مراکز تھے۔ جبکہ افغانستان میں کابل جلال آباد کونڑ اور قندہار پاکستانیوں سے بھرے رہتے۔ اس آزادانہ کاروباری اور معاشی سرگرمیوں سے دونوں ممالک کو فائدہ کم تھا یا زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے لاکھوں لوگ براہ راست اور کروڑوں لوگ بالواسطہ مستفید ہو رہے تھے۔ جس میں تاجروں کے علاوہ، دیہاڑی دار مزدور، ڈرائیور، کنڈیکٹر، گاڑی مالکان، ہوٹل مالکان منشی اور ہزاروں چھوٹے بڑے دکاندار شامل تھے۔ افغانستان کئی دہائیوں تک عالمی مصنوعات کی بڑی منڈی اور ٹیکس فری زون رہا ہے یہاں سے یہ ٹیکس فری سستی مصنوعات کوئٹہ اور پشاور کے راستے ملک کے باقی حصوں تک بآسانی پہنچائی جاتی تھی۔
نائن الیون کے بعد افغانستان میں امریکہ سمیت نیٹو فوجوں کی موجودگی نے اس کاروبار اور آزادانہ آمد و رفت کو نقصان پہنچایا، اور باہمی نفرتوں کو ہوا دی گئی جس سے پاکستان میں مختلف ادوار میں افغانیوں کو واپس بھیجنے کی تحریکیں چلائی گئ اور قوم پرست سیاسی جماعتوں نے ایسے نعروں سے ووٹ سمیٹے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بسنے واکے تمام افغانی اپنے کاروباروں میں مصروف عمل ہیں بدقسمتی سے اس پر ابھی تک کوئی واضح ریسرچ نہیں ہوئی ہے کہ یہ قوم پاکستان میں کتنی مصروف ترین قوم ہے اور ان کے رہن سہن کے طریقہ کار اور چھٹیوں کے سرگرمیاں سمیت خوشی غمی رسم و رواجوں میں بندھی یہ قوم کتنی آزاد ہے کہ اسے یہاں دہشتگردی کرنے کا وقت میسر ہو
پاکستان
میں موجود  تیس سے پینتیس لاکھ آفغانی مختلف شعبہ روزگار سے منسلک مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوتے ہیں ان۔کے بچے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور بہت سے ایسے فیملی بھی موجود ہیں جن کے بچے بیرونِ ممالک کاروبار کے غرض مقیم ہیں ان کے کاروباری ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے مختلف دوردراز میں رہنے والے غریب شہریوں کو بھی روزگار میسر ہے
محبت امن اور اخوت کا درس صرف ریاست نہیں دیتی بلکہ اسلام بھی اس کا سبق دیتا ہے اور مسلمانوں کو یک جان کا فلسفہ دیکر آپس میں ہر طرح کے اختلافات سے بننے والے دوریوں کا۔خاتمہ کردیا گیا ہے  پاکستان میں بسنے والے تمام افغان مہاجر اب پاکستان کو ہی اپنا وطن سمجھتے ہیں اور پاکستان میں ہی اپنے بزرگوں کے قبروں کے قیام میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ پاکستان میں ہونے والے سیاست کو افغان مہاجر کے خلاف اکسا کر ووٹ بٹورے جاتے ہیں لیکن اس امر سے کسی کو کوئی دلچسپی نہیں کہ ایک پرامن شہریوں کو اگرچہ ان کی قانونی حثیت کچھ نہ ہو لیکن اب وہ یہیں کے ہیں وہ یہاں رہنا پسند کرتے ہیں  انہیں یہاں لزیز کھانے یہاں کہ روائتی ڈیزائن کردہ لباس پسند ہیں
ہمیں محبتوں کے تقسیم میں کنجوسی نہیں کرنی چاہیے ہمیں آپس باہمی رشتوں کو فروغ دینا ہوگا مواخات کی  روش قائم  کرنا ہوگا یہی وہ عوامل ہیں جو باعثِ امن و باعثِ ترقی ثابت ہونگے ہمیں آج نہیں تو کل بیٹھ کر یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ امن کے قیام کیلے کن عوامل کو اپنانا ہے ؟ اور سب سے بہتر یہ کہ ہم اپنے مہاجر دوستوں کو دل سے قبول کرلیں ان کے کاروبار و رہن سہن پر اعتراضات کے بجائے خندہ پیشانی سے تسلیم کرلیں یہ۔ہمارے اسلامی بھائی ہیں ہمیں نفرت کی عینک اتار کر فیصلے کرنے ہونگے ہمارے مہاجر بھائیوں کے متعلق چلنے والے غلط افواؤں کو منتق اور دلیل سے رد کرنا ہوگا ہمیں یہ اشد سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اس فلسفے کو سمجھنے کیلے حضورِ اکرمﷺ کی فرامین عام کرنے ہونگے تاکہ گلی کوچوں میں پلنے و جنم لینے والی نفرت کو اسلام کی تلوار سے کچلا جاسکے
دنیاوی معاملات اور جب سے ریاستوں کے وجود دریافت ہوئے تب سے ہم فقط اپنے ملکوں کے اندر صرف ایک لکیر کی حدتک تقسیم ہیں ناکہ ہم الگ ہیں
ہم ایک تھے ہم ایک رہیں گے انشاءاللہ

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)گڈانی کراس پر کوچ مالکان اور کسٹم حکام میں مبینہ لین دین کے معاملے پر ایک بار […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.