MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستان کے مسائل کی اصل جڑ!!

0 683

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر = علی محمد بگٹی
لوگ جب بھی کسی محفل میں یا  ہوٹل پر کھانے ،چائے وغیرہ کے لیے بیٹھتے ہیں تو زیادہ تر سیاست اور حالات حاضرہ پر گفتگو کرتے ہیں۔ اگر اس میں سب لوگ ایک لیڈر یا پارٹی کو پسند کرتے ہو تو یہ گفتگو کافی بہتر ماحول میںا ہوتی ہے۔  لیکن اگر مخالفت میں بھی  کوئی بات کرے تو سارے طرفدار دوسروں پر چڑھ دوڑتے ہیں اور ماحول میں گرما گرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر  اس کے بعد سارے لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔کبھی کبھار ایسی مجلسوں کی بحثیں نفرتوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور بات ہاتا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔ ان محفلوں میں جو بات چیت ہوتی ہے وہ زیادہ ترسوشل میڈیا پر یا سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے کی جاتی ہے ۔ ان مجلسوں میں چھوٹے اپنی رائے بڑوں کی باتوں کی بنا پر قائم کرتے ہیں اور پھر جب نتیجے کی بات کی جاتی ہے تو نتیجہ اور اصل مسلئہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔ حقیقت میں جب سے وطن عزیز  پاکستان بنا ہے  مسائل ویسے کے  ویسے ہی  ہیں بلکہ مسائل اور بڑھ رہے ہیں،  جیسے کہ غربت،بھوک،بے روزگاری ،جہالت، جھوٹ ، دھوکہ، منافقت۔۔۔۔
اس کے علاؤہ ریاست پاکستان کا کوئی ایسا شعبہ/ادارہ نہیں جو اپنا کام صحیح کررہا ہو۔ عدالتوں میں انصاف نہیں، پولیس کے محکموں میں رشوت کا بازار گرم ہے، تعلیمی ادارے ذہنی غلام پیدا کر رہے ہیں، ہسپتالوں میں مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔ انتظامیہ اور پارلیمنٹ کے آپسی مسائل اور فوائد کی جنگ برپا ہے۔ ان تمام مسائل کو ہم سائنٹیفک انداز میں سمجھ کر حل کرینگے تو نتیجہ نکلے گا۔ سائنس کے مطابق کسی بھی مسلئہ کے حل کے لیے اس کی وجوہات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اگر مسلئہ کی جڑ تک آپ پہنچ جائیں تو سمجھیں کہ آپ نے %50  مسلئہ حل کرلیا۔ اس کو سمجھنے کے بعد آپ اس کے لیے مناسب پلاننگ کر کے اس کا مستقل حل کر سکتے ہیں۔

پاکستان میں 96فیصد لوگ جو کام کرتے ہیں اس کا مقصد پیسے یا دولت کا حصول ہوتا ہے یہ سوچ ماحول نے پیدا کی ہے۔ گھر میں والدین بچپن سے ہی بچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ بیٹا آپ نے بڑا ہوکر اچھی نوکری حاصل کرکے پیسہ کمانا ہے۔  اس ماحول سے نکل کر جب بچہ اسکول ،کالج، یونیورسٹی، میں جاتا ہے تو وہاں استاد، پروفیسرز 20/22سال ہمارے ذہنوں میں یہی کچھ ڈالتے ہیں کہ آپ نے بڑا ہوکر پیسہ کمانا ہے اور یہی سوچ ہمارے دینی مدارس میں بھی دی جاتی ہے ۔جب وہ نوجوان ایک ادارے میں 20سال لگاکر سماج میں آتا ہے تو نتیجہ بھی ویسا ہی نکتا ہے جیسا ہمارے والدین، اور ہمارے استادوں نے ذہن سازی کی ہوتی ہے،۔ جب نوجوان معاشرے کے کسی ادارے میں جاتا ہے تو وہاں وہ ظالم بن جاتا ہے۔ جب وہ ڈاکٹر بنتا ہے تو علاج کرنے سے پہلے پیسہ کو اول درجے پر رکھتا ہے ۔ جب وہ وکیل  یا جج بنتا ہے تو انصاف مقصود نہیں ہوتا بلکہ جو  اس نے  20سالوں سے پڑھا ہے اسی پر عمل کرتا ہے۔ جب وہ محافظ عوام یعنی پولیس بنتا ہے تو رشوت کے زریعے پسیہ نکالتا ہے،اور اسی طرح مذہب کا پیشہ بھی پیسہ ہوگا ، اور اسی طرح ملک کا ہر شعبہ اور ادارہ پیسے اور دولت کے گرد گھومنے لگتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ ماحول کیسے بنا ؟ اور 70سالوں سے یہ ماحول کس طرح قائم ہے ؟؟
یہ ماحول یہاں کے بنیادی اداروں نے پیدا کیا ہے جب پاکستان بنا تب یہاں عوام کا بہت بڑا غریب طبقہ موجود تھا اور دوسرا چند خاندانوں پر مشتمل ایک امیر طبقہ تھا جس میں

(1) سرمایا دار
(2) جاگیردار
(3) بیوروکریٹ
(4) آفسر شاہی

شامل تھےاور یہاں سسٹم کے بنیادی اداروں پر یہی لوگ قبضہ کرکے بیٹھ گئے ان چاروں طبقوں کا اصل مقصد پاکستان سے دولت کو اپنے پاس اکھٹا کرنا تھا تو پاکستان میں ایسا نظام  ترتیب دیا گیا جس کے ذریعے عوام سے  دولت ایک خاص طریقہ کے پاس اکٹھا ہونا شروع ہو گئی اور خاص کر کسان اور مزدور لوگ جو کہ دن رات محنت اور مزدوری کرتے ہیں جس میں کسان غلہ پیدا کرتا ہے اور خود وہ دو وقت کی روٹی  نہیں کھا پاتا وہی مزدور جسکی وجہ سے سرمایا داروں کی بڑی بڑی کمپنیاں اور  فیکٹریاں بنتی اور چلتی ہیں  لیکن اس تنخواہ سے مزدور کا گھر بھی نہیں چلتا۔  یہ 2فیصد طبقہ سسٹم کی اتھارٹی کو قائم کرکے ساری دولت کو اکھٹا کرکے بغیر کسی محنت کے قابض ہوگیا ہے۔

اب ہم ان تمام کو سائٹنفک انداز میں سمجھنے کی کوشش کرینگے

1. دولت کی پوجا کی سوچ

جسے ہم سرمایا پرستانہ سوچ  بھی کہتے ہیں جس کو قائم رکھنے کے لئے چار طبقہ کام کرتے ہیں

- Advertisement -

(1) سرمایا دار
(2)جاگیردار
(3)افسر شاہی
(4) میڈیا
ان چار طبقوں نے سسٹم کے تین بڑے اداروں کو ہر غمال بنا لیا ہے۔ یعنی،۔

(1) پارلمینٹ
جہاں قانون سازی کی جاتی ہے

(2)انتظامیہ
جو قانون کو لاگو کرتا ہے

(3) عدلیہ
جو اس قانون کی تشریح کرتا ہے۔

ان  بڑے اداروں کے ماتحت  مختلف چھوٹے چھوٹے ادارے ہوتے ہیں جیسے!

(1) تعلیم کا۔ادارہ
(2) صحت کا ادارہ
(3) مالیات کے ادارے
(4) الیکشن کا ادارہ

ان اداروں کے عملی اشتراک سے  ملک کا ماحول بنتاہے  اور عوام اسی ماحول میں پلتی ہے۔ اب اس نظام کی اصل جڑ سرمایا پرستانہ فلسفہ ہے مطلب یہ ہے کہ ملک کے اندر جتنے بھی برے کام یا جرائم ہوتے ہیں وہ اس سرمایا پرستانہ سوچ کی وجہ سے ہوتے ہیں جس سے ثابت ہوتا کہ قصور عوام کا نہیں ہے بلکہ ملک کے تباہ ہونے میں چار طبقات کا قصور ہے جس کو ہم نے اوپر سمجھ لیا تھا ۔ عوام تب ہی ٹھیک ہوسکتی ہے جب ماحول ٹیھک ہو اور ماحول سسٹم کے کنٹرول میں ہوتا ہے اس لیے عوام کو ٹھیک کرنے کے لیے درست نظامکا ہو نا ضروری ہے۔ورنہ  جتنا مرضی آپ اصلاحی کام کرلو اس کا کوئی خاطر خواہ فائدا نہیں ہوگا۔ دوسری بات کہ اس سسٹم کے اندر رہ کر سسٹم کو درست نہیں کیا جاسکتا  کیونکہ اس نظام میں حکومت میں وہی شخص آسکتا ہے جس کے تعلقات سرمایا دار ، جاگیر دار اور افسر شاہی سے ہوتے ہیں۔
پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں یہ بات واضح ہے کہ حکمران طبقہ عوام میں سے نہیں ہوتا جب کوئی مصیبت یا طوفان زلزلہ یا  قحط آئے نقصان ہمشہ عوام نے اٹھایا ہے ہہ طبقہ ہر طرح کے حالات میں ہمشہ خوشحال رہا ہے ۔
ہمارے ملک میں کچھ لوگ  ادارہ جاتی اصلاح  کی بات کرتے   ہیں جیسے کہ اگر تعلیم کا ادارہ ٹیھک کرلیا جائے تو معاملات صحیح ہو جائیں گے، یا عدلیہ صحیح ہو جائے تو ملک ٹھیک ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ جو کہ بلکل غلط سوچ  ہے کیونکہ یہ مسائل تب تک جاری رہیں گے  جب تک ان کی اصل وجوہات یعنی نظام حکومت کو درست نہ کر لیا جائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.