صحافت مشن یا دھندہ
بشریٰ جبیں کالم نگار اینکر پرسن
ایک زمانہ تھا جب صحافت کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ صحافت ایک مشن ہے، اور اب اس کے بارے میں رائے یہ ہے کہ صحافت کاروبار بن چکی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کاروبار کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہے، لیکن ہماری صحافت کاروبار سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔
آج کے دور میں کوئی ایک صحافی یا کوئی ایک بھی اخبار یا رسالہ ایسا نظر نہیں آتا ہے جو صحافت کو مشن سمجھتا ہو۔حالانکہ جب قیام پاکستان کی تحریک چل رہی تھی تو اس وقت ہمارے معاشرتی ڈھانچے میں ایسی خرابیاں اور برائیاں موجود نہ تھیں جو آج کل ہمیں اپنے معاشرے میں نظر آتی ہیں ۔صحافت ایک باوقار اور مضبوط اظہار رائے کا زریعہ ہے اور اس کے زریعے معاشرتی بگاڑ کو درست کرنے کے لیے نہایت اہم اور دور روش کام لیا جا سکتا ہے
- Advertisement -
صحافت ایک عظیم لیکن ترقی پذیر فن ہے، اسے جمہوریت کا چوتھا مضبوط ستون تسلیم کیا گیا ہے۔ رائے عامہ ہموار کرنے ،حکومت بنانے اور بگاڑنے میں اس کا موثر رول ہوتا ہے۔ اس کا ایک بلند مقصد اور نصب العین ہے، یہ معاشرہ کا ترجمان اور آئینہ ہے، ایک اچھے ملک کی پچان وہاں کے اچھے اخبارات کے ذریعہ معلوم کی جاسکتی ہے، اس کا بنیادی اور اہم مقصد لوگوں کو تازہ ترین اور سچی خبروں سے آگاہ کرنا ہے، سماج کے لوگوں کوحقائق سے باخبر کرنا ، حالات و واقعات سے باخبر رکھنا ، اورعوام کو باشعور بنانا اس کا اہم فریضہ ہے
موجودہ دور میں صحافت کو بہت مشکل بنا دیا گیا ہیں سچائی، اختلاف رائے کو سنگین جرم بنادیا گیا ہے جو قابل مذمت اور آمرانہ روش ہے،انتہائی مشکل ترین حالات میں بھی صحافیوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھایا ہے
میڈیا نہ ہو تو اہل ہوس مدعی اور منصف خود ہی بن بیٹھتے ہیں حق گوئی وسچائی، عوام اور مظلوموں کے حقوق، انصاف اورشہری آزادیوں کے دفاع کادوسرا نام صحافت ہے۔
صحافت معاشرے کا ذہن اور سوچ بناتی ہے حق گوئی کا یہ سفر جتنا قدیم ہے، اتنا ہی کٹھن ہے،
پاکستان میں آج بھی ایسے صحافی موجود ہیں جنھوں نے صحافت اور صحافیوں کی جمہوریت اور عوامی حقوق کی تاریخی جنگ لڑی ،آزادی صحافت کے لئے صحافیوں نے اپنا لہو دیا، اپنی جانیں دیں جیل، ہتھکڑیاں، تشدد اورسزائیں پائی ہیں ،قربانیاں دینے اور جانیں قربان کرنے والے صحافیوں کو سلام پیش کرتی ہوں ہم حق اور سچ کا ساتھ ہمیشہ نبھاٸینگے ارشد شریف کا خون راٸیگاں نہیں جاۓ گا۔۔۔۔
کہاں نایاب لکھتے ہیں کہاں شفاف لکھتے ہیں
ہمارا وجود مٹی ہے ہم خود کو خاک لکھتے ہیں