بیدار ھونے تک
کالمکار: جاوید صدیقی
- Advertisement -
سب سے پہلے میں اپنے انتہائی معتبر دوستوں کا شکر گزار ھوں جنھوں نے مجھے کچھ حقائق سے روشناس کیا۔۔۔ معزز قارئین!! لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔ امریکہ کو اعتراض تھا کہ یہ دہشتگردی کی جنگ میں ڈبل گیم کھیل رہے ہیں۔امریکہ، جنرل کیانی اور آصف علی زرداری کی باہمی رضامندی سے انتیس ستمبر سنہ دو ہزار آٹھ کو لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا آئی ایس آئی کےسربراہ بنا دیئے گئے۔ اس سے پہلے قبائلی علاقوں میں القائدہ اور طالبان کے خلاف منصوبہ بندی کے انچارج تھے۔ اس لحاظ سے امریکیوں کیلئے قابل قبول بھی تھے۔ اسکے علاوہ وہ جنرل کیانی کے قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے کیونکہ اس سے پہلے والے مشرف کےبھی نامزد کردہ تھے۔ اٹھارہ مارچ سنہ دو ہزار دس کو جنرل پاشاکی ریٹائرمنٹ تھی لیکن قومی”وسیع تر” مفاد، ملکی و بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی منشاء، صدر زرداری کی رضامندی، سے انہیں ایکسٹینشن دے دی گئی۔پاشا جی ریمنڈ ڈیوس کی رہائی اورمیموگیٹ اسیکنڈل کے روح رواں تھے۔یہ وہ دور تھا جب اعلیٰ حضرت نے مستقبل کے نقشہ بندی کیلئے تبدیلی کے گھوڑوں کی افزائشِ میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسوقت کے صدر زرداری خوش تھےکہ کھیل کا میدان پنجاب اور نقصان دہندہ ن لیگ تھی۔قبلہ نے مشرف دور کے جفاکش گھوڑے ایک ایک کرکے گپتان کے قافلے میں جمع کرنا شروع کئے، جس کا لازمی نقصان ق لیگ کواٹھانا پڑا۔یہاں تک کہ ایک موقع پر چوھدری برادران جنرل کیانی سے خود شکایت کرنے پہنچ گئے۔ تیس اکتوبر سنہ دو ہزار گیارہ کو قبلہ کے ایک اشارے پر گپتان کیلئے مینار پاکستان کا پنڈال سجایا گیا میڈیا پر اسکی خوب تشہیر ہوئی۔ یہ وہ دن تھا جب ایک نئے “گپتان” اور تحریک انصاف نےجنم لیا۔ انیس دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو مشرف دور کے کامیاب کھلاڑی جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی بیس دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو زیرو میٹر بلٹ پروف لینڈ کروزر متحدہ عرب امارات سے پہنچ گئی۔ یہ گاڑی جہانگیر ترین نے اپنے بیٹے علی ترین کے نام پر خریدی۔اکیس دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو یہ گاڑی بنی گالا میں پہنچادی گئی ۔تحریک انصاف کےسابق رہنما جسٹس وجیہہ الدین کے بقول ترین پہلے تیس لاکھ اور پھر پچاس لاکھ روپے ماہانہ جیب خرچ بنی گالا پہنچایا کرتا تھا یاد رہے جہانگیر ترین کا کاروبار مشرف دور میں پروان چڑھا اور جب اسی دور میں چینی اسیکنڈل کے خلاف نیب نے انکوائری کی تو موصوف کا نام سرفہرست آیا۔جوں جوں سنہ دو ہزار تیرہ کےانتخابات قریب آنے لگے توں توں مہربانوں نے پیادوں اور گھڑ سواروں کی ترتیب منظم کرنا شروع کردی۔ دسمبر سنہ دو ہزار بارہ میں کینیڈا سے ایک تازہ دم گھوڑے کو لا کر اسلام آباد کے انقلابی خیمے میں باندھا گیا تا کہ
”دین کا پتہ” کھیلا جاسکے
مقصد آنیوالے انتخابات میں نوازشریف کا راستہ روکنا تھا۔ جب تمام تر سازشوں کے باوجود انتخابات منعقد ہوگئے اور ن لیگ برسراقتدار آئی تو اسی روزفیصلہ ہوا کہ میاں برادران کو دسمبر سنہ دو ہزار تیرہ سے پہلے پہلے گھر روانہ کردیا جائیگا۔ حکومت کو کمزور کرنے کیلئے پہلا وار ماڈل ٹاؤن قتل عام کروا کر کیا گیا شریف برادران سمجھتےتھے، پکے کھلاڑی تھے فوراًکمیشن بٹھادیا، تفتیش و تحقیق ہوئی، حملہ آوروں کے نام سامنے آنے پر “بینڈ باجے” والوں نے کمیشن رپورٹ شائع نہ ہونے دی لشکری کچھ نکمے نکلے، آخر کار حضرت پاشا کو پھر میدان میں آنا پڑا۔ شفقت محمود کے گھر دونوں لشکریوں کو تازہ دم چارہ کھلا کر اسلام آباد کے محاذ پر روانہ کردیا گیا۔ عین موقع پر تحریک انصاف کے اس وقت کےصدر
جاوید ہاشمی نے رنگ میں بھنگ ڈالا اور سارا منصوبہ پارلیمنٹ کے دروازے پر ایک پریس کانفرنس کے دوران بے نقاب کردیا۔ اس کانفرنس کے بعد جاوید ہاشمی کو سب سے پہلی کال پاشا جی کی موصول ہوئی۔ جس میں برسوں کی محنت ضائع کرنے پر انہیں سبق سکھانے کی دھمکی دی گئی۔ اس کے بعد ان کے ساتھ کیا کچھ ہوا آپ سب کے سامنے ہے۔یہ رام کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ سب کچھ نہ اکیلے گپتان کا کارنامہ ہے اور نہ ہی قدرت کی کوئی ناگہانی آفت ہے،یہ پورے ایک عشرے کی محنت ہےتب جا کردشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست ہوئی اور تبدیلی کا سال آیا۔ جس کی خوشی میں” وتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ” کا ٹویٹ داغا گیا۔ لہٰذا انہیں بھی یاد کرلینا چمن میں جب انتشار آئے۔ یہ ننگ دھڑنگ کھیل ابھی جاری و ساری ھے۔ بس یہی دعا ھے کہ الله ہمیشہ کی طرح پاکستان, ریاستِ پاکستان اور پاکستان کے امین کی حفاظت اور تقویت عطا فرمائے آمین پاکستان مخالف قوتوں, منافقوں, سازشوں, ریاکاروں اور غداروں کو نیست و نابود کردے اور ان کی باقیات کا نام و نشان بھی مٹادے اور دعا ھے کہ پاکستان قوم کو ایک قوم بنادے آپس کی نااتفاقیوں, تعصبوں, لسانی نفرتوں اور مسلکی دوریوں کا خاتمہ کرکے ایک جسم ایک روح بنادے آمین یا رب العالمین ۔۔ قائد اعظم زندہ باد , پاک افواج زندہ باد , پاکستان پائندہ باد ۔۔۔۔۔۔!!