MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

بچوں پر بے جا پابندی چور دروازے کھولتی ہے

0 308

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: ایم فاروق انجم
جب ہم کسی پر بھی کوئی پابندی عائد کرتے ہیں تو اس کے اندر تجسس اور شوق بڑھتا ہے
اور اگر ہماری پابندی اس عمل کو کرنے یا نہ کرنے کا شعور پیدا کئے بغیر صرف حکم کے درجے میں ہو یا غیر معمولی ہو تو یہ چور رستہ کا دروازہ کھولتی ہے
یا پھر ہم اپنے آپ کو ایک مثال بنا کر پیش نہ کر رہے ہوں تو نصیحت یا اصول وزن کھو دیتے ہیں۔
میں نے بغیر کمیونیکشن کے یا قائل کئے بغیر لگائی جانے والی پابندی پر مختلف گھرانوں میں دیکھا کہ اولاد والدین کے سامنے مختلف تھی اور ان کی غیر موجودگی میں بالکل مختلف۔
ایسی پابندی ہمیں چور رستے دکھاتی ہے۔
سپرنگ کو دیکھا جائے
اسے جب دبایا جاتا ہے تو وہ دبتا ہے اور جب اسے چھوڑا جاتا ہے تو اچھل کر دور جا گرتا ہے
ایک اور نکتہ جو اہم ہے۔
جب سامنے والا (اولاد، رعیت) ہم سے ایک چیز ڈیمانڈ نہیں کر رہا ، امید بھی نہیں رکھتا لیکن خواہش ضرور رکھتا ہے تو ایسی صورت میں ہم جب اسے بغیر کہے وہ مخصوص چیز دلا دیں تو وہ نہ صرف ہمارا احسان مند ہو گا بلکہ ہمارے بتائے اصول بھی دل و جاں سے اپنائے گا
یہ کرنا ہوتا ہے.
انھیں من پسند چیز دلا دیں اور اس سے پہلے اپنی شرائط بھی رکھ دیں ، وہ خوشی خوشی مان لیں گے۔ مثلاً موبائل کی مثال ہی لے لی جائے ۔
جب اردگرد ایک ماحول ہو ، ایک چیز زندگیوں میں غیر محسوس طریقے سے شامل ہو چکی ہو اور
یہ بھی دھیان رہے کہ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے بچوں کا بچپن ہمارے بچپن سے بہت مختلف ہے
آپ نے انھیں ڈیوائس دلا دی (اب تو خیر پڑھائی کے لئے بھی کمپیوٹر لازمی ضرورت ہے)
اب آپ انٹرنیٹ ٹائمنگ سیٹ کر سکتے ہیں ، ویک ڈیز پر ایک گھنٹہ بھی کافی ہے ، ویک اینڈ پر کچھ تبدیلی کر لی جائے ، گھر کی ڈیوائسز پر مختلف وقت سیٹ کر سکتے ہیں ، ایپ کنٹرول کر سکتے ہیں۔دسیوں طریقے ہیں ،سرچ چیک رکھنے تک۔
لیکن شرائط ، اصول وضع کرنا کافی ہے ، غیر محسوس طریقے سے چیک رکھنا۔
لیکن یہ جو والدین بچوں کے موبائل کو بغیر اجازت تلاشی لیتے ہیں ، یہ نامناسب ہے
ہر کسی کی ، اولاد کی بھی پرسنل سپیس ہوتئ ہے۔
گھر کا کوئی فرد کسی کے کمرے میں یا اس کی ذاتی اشیاء میں بلااجازت دخل نہ دے۔
اس سے بے اعتباری چھلکتی ہے
تربیتی سیشن ، حدیث سٹنگ ، گفتگو کے حلقے رکھے جائیں ، یہ تربیت کے لئے اہم ہیں۔
خوب محبت ، دوستی اور احترام دیا جائے۔ ہر بچے کے ساتھ انفرادی سیشن بھی۔
باقی دعا اور اللہ توکل
انھیں ان کی زندگی پر کچھ اختیار دیں ، اچھے برے کی رہنمائی کرنا والدین کا کام ہے ، خود عمل کر کے مثال بننا بھی والدین کا کام ہے۔ ہدایت اللہ دیتے ہیں ، اللہ سے ہی مانگنی ہے۔
ڈکٹیٹر نہیں بننا ، ہمدرد دوست اور ہمراز بننا ہے. زور زبردستی ، پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔
ہمیں صرف ان اصولوں پر بے لچک انداز میں پابندی کروانے کا قائل ہونا چاہیے جہاں شریعت کا حکم ہو ، اس کے لئے بھی پہلے خود عمل کرنا ضروری ہے ، عمل بھی ہو اور دوسرے کو ترغیب بھی محبت سے دی جائے اور پھر انداز بے لچک ہو جائے
حکم الہی پر کوئی کمپرومائز نہیں اور یہ بھی زبردستی نہیں بلکہ شروع سے ہی فضائل سنا سنا کر ، اللہ کی محبت اور اللہ کے حکم کی عظمت دل میں
ڈال کر ، خود عمل کر کے
انھیں علم ہو ہم کچھ بھی چھوڑ سکتے ہیں لیکن نماز
نہیں. تلاوت قرآن روز کی زندگی کا جزو ہے.
نظر کی حفاظت اللہ کا حکم ہے وغیرہ. نظر کی حفاظت پر خصوصی بات کی جائے, دل کا زنا کیا ہوتا ہے, زبان کی حفاظت پر, غیبت کے نقصانات پر, دوسروں کو ہر حال میں خود سے بہتر سمجھنے پر.
یہ سب کم عمری سے ہی انھیں سمجھانے سے نہ ہچکچائیں
ہر موضوع پر خود بات کریں
یہ اکیسویں صدی میں پیدا ہونے والے بچے ہیں. پری ٹین یا ٹین ایجر ہیں. اور یہ سب والدین کے کرنے کے کام ہیں.
اور غیر ضروری پابندی سے خوب بچا جائے.ایسے کہ جہاں کسی کی بچیاں سکارف اور مکمل لباس میں باہر جاتی ہوں اور گھر میں انھیں آزادی دی جائے ، میک اپ کریں ، من پسند بال بنائیں ، مرضی سے ڈریس اپ ہوں (ساتر لباس)
اسی طرح کئی دوسری مثالیں ہیں
دینی حرج نہ ہو تو ہر لحاظ سےاختیار دیا جائے ، آزادی کا احساس دیا جائے
بے محل اور غیر ضروری پابندی اکتاہٹ پیدا کرتی ہے.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.