MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ملک کیلئے بڑا اعزاز، پاکستانی اسپورٹس کمپنی نے فٹبال کی برآمدات میں چائنیز حریف کو پیچھے چھوڑ دیا

0 8

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز)فورورڈ اسپورٹس، جو دنیا کے سب سے بڑے فٹبال بنانے والوں میں سے ایک ہے اور عالمی برانڈز کا اہم سپلائر بھی ہے، اس سال سعودی عرب میں آپریشنز شروع کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

پاکستان میں قائم اس کمپنی نے ایڈیڈاس کے ساتھ دو دہائیوں سے زیادہ کام کیا ہے اور 2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں استعمال ہونے والے الرحلہ بال کے دو مینوفیکچررز میں سے ایک تھی۔

فورورڈ اسپورٹس سالانہ تقریباً 15 ملین فٹ بال برآمد کرتی ہے اور حال ہی میں چینی مقابل کو پیچھے چھوڑ کر ایڈیڈاس کا سب سے بڑا فٹ بال سپلائر بن گئی ہے۔

عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سی ای او خواجہ مسعود اختر نے کہا کہ کمپنی سعودی عرب میں توسیع کے ابتدائی مراحل میں ہے اور محدود موجودگی کے ساتھ آغاز کرے گی۔

یہ جوائنٹ وینچر سعودی عرب کے ایک شراکت دار کے ساتھ قائم کیا جائے گا جو کھیلوں کی مصنوعات کے شعبے میں فعال ہے، تاہم خواجہ مسعود اختر نے شراکت دار کا نام ظاہر نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس سال کے اندر آغاز ہو اور پہلے مرحلے میں صرف مارکیٹنگ پر توجہ دی جائے گی۔

- Advertisement -

یہ توسیع گزشتہ سال اکتوبر میں ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو سمٹ کے دوران سعودی حکام سے ملاقاتوں اور اس ماہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفیر نوواف بن سعید المالکی سے بات چیت کے بعد کی گئی ہے۔

مسعود اختر نے کہا کہ فورورڈ اسپورٹس پہلے سعودی مارکیٹ کا جائزہ لے گی اور پھر مینوفیکچرنگ میں قدم رکھے گی اور سرمایہ کاری کی تفصیلات ابھی حتمی نہیں کی گئیں۔

ابتدائی مرحلے میں کمپنی سعودی شراکت دار کے انفراسٹرکچر پر انحصار کرے گی اور پاکستان سے صرف دو یا تین عملہ تعینات کرے گی، جبکہ مقامی سطح پر عملہ بھرتی کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں کسی بھی مینوفیکچرنگ کے لیے لوکلائزیشن کے تقاضوں کی پیروی کی جائے گی، جبکہ زیادہ تر پیداوار پاکستان میں برقرار رہے گی۔

مسعود اختر نے کہا کہ 70 سے 80 فیصد پیداوار پاکستان میں جاری رہے گی، جبکہ 20 سے 30 فیصد سعودی عرب میں مکمل کی جائے گی، جس سے “Made in KSA” لیبل استعمال کیا جا سکے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ اس توسیع سے پاکستان کی برآمدات یا ملکی ملازمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ بنیادی مینوفیکچرنگ، فینشنگ، پیکنگ اور لاجسٹکس پاکستان میں جاری رہیں گی۔

انہوں نے کارکنوں اور اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا کہ کمپنی کا ہیڈکوارٹر پاکستان میں ہی رہے گا اور ملکی پیداوار کی صلاحیت بڑھتی رہے گی۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.