MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

دہشت گردی اور ناخواندگی کے خلاف جنگ  میں پاک  افواج کا کردار

1 365

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
محدود وسائل, قلیل بجٹ کے ساتھ ملک میں پھیلے دہشتگردی کے ناسور پر جس جوان مردی سے افواج پاکستان نے قابو کیا ہے, اس کی نظیر کسی اور ملک کی فوج کی تاریخ میں  نہیں ملتی ہے , پاکستانیوں کو اس بات پر فخر ہے کیونکہ ان کے محافظوں نے نہ ا
صرف پاکستان دشمنوں کو دھول چٹائی ہے بلکہ اپنی محنت سے پاکستان کے وقار کو سر بلند کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے, پاکستان ہمارا گھر ہے, اس کے جانب اٹھنے والی غلیظ آنکھوں کو نکالنا جانتے ہیں.
پاک فوج ملک کے دفاع ہی نہیں بلکہ انتظامی نظام کی مضبوطی کے لئے بھی بہترین اور موثر کردار ادا کر رہی ہے, الله کے فضل و کرم سے پاکستان کی تینوں مسلح افواج  ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کرنے کے بعد ناخواندگی کے اندھیروں کو مٹانے کے لئے کوشاں ہیں, افواج پاکستان ملک کے انفراسکچر کی بہتری کے لئے بھی کمربستہ ہیں, پاک فوج نے ملک کے دور دراز علاقوں جیسے گلگت بلتستان، چترال اور آزاد کشمیر میں سی سڑکوں، تعلیمی سہولیات، واٹر سپلائی سکیموں اور طبی سہولیات کی تعمیر اور فری میڈیکل کیمپس کے قیام کے ذریعے مثبت کردار ادا کیا۔
پاکستان کے سمندر کے محافظ یعنی پاک نیوی
کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں پاکستان بحریہ کے 14  کیمپس ہیں، جس میں 33,770 طالب علم زیر تعلیم ہیں, ان میں سے 49% کا تعلق غیر فوجی گھرانوں سے ہے, قابل ذکر بات یہ ہے کہ نیلے سمندر کے محافظ یہ سفید وردی والے  تعلیمی اداروں میں میرٹ کی بنیاد پر سالانہ  30 ملین روپے کے وظائف فراہم کر رہے ہیں۔ وطن کی پاک فضاؤں کے نگہبان پاکستان فضائیہ جس کی چائے کا دشمن بہت متوالا ہے, ان ہوائی جانبازوں نے ملک میں تعلیم کے فروغ کے لیے کالجز قائم کیے۔ فضائیہ کالجز کے پورے پاکستان میں 26 ادارے ہیں، جو  62,000 طلباء کو اعلی سطح تک کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جن میں سے 25% غیر فوجی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں؛ شاندار طلباء کے وظائف 37 ملین روپے اور ٹاپ پوزیشن ہولڈرز کے لیے 3.7 ملین روپے کے نقد انعامات پاکستان ائیر فورس طالب علموں کی حوصلہ افزائی پر صرف کرتی ہے,
وطن کی خاک پر جان قربان کرنے والے میرے وطن کے خاکی وردی والے پاکستان آرمی کے خوبرو جوانوں نے
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے مختلف علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لئے محکمہ تعلیم و سول انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی جرگوں کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں کمانڈر ایف سی این اے  چیف سیکرٹری جی بی، آئی جی پولیس، علما کرام، عمائدین علاقہ، سول و عسکری حکام کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پردوسکولز کی از سر نو تعمیر کے علاوہ الیکٹرانک لرننگ فسیلیٹی کا بھی افتتاح کیا گیا۔ مقررین نے تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے علاقے میں سکولوں کی از سر نو تعمیر اور الیکٹرک لرننگ سنٹر کے قیام کو علاقے کے طلبا کے لئے تعلیمی میدان میں ایک اہم قدم قرار دیاکمانڈر ایف سی این اے نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاک فوج سول انتظامیہ جی بی کے ساتھ مل کر علاقے کوتعلیمی میدان میں آگے لانے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے گی۔ بعد ازاں گماری کے مقام پر فورس کمانڈر نے دیامیر کے علماء کرام کے ساتھ خصوصی نشست کی۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاک فوج کا تعلیم کے شعبے کو فروع دینے میں اہم کردار رہا ہے۔تعلیم کسی بھی شعبے کی ہو اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اسی لیے ہر کامیاب معاشرے میں بنیادی تعلیمی نصاب اورنظام اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ طالب علم کو ابتدائی جماعتوں میں ہی یہ سبق مل جاتا ہے کہ معاشرے کا مفید شہری کس طرح بنا جاسکتا ہے اور معاشرے میں میل جول کے دوران رنگ، نسل، زبان اور جنس کی بنیاد پر تفریق نامناسب عمل ہے, اس حقیقت سے کون آشنا نہیں ہے کہ پاکستان آرمی نے صوبہ بلوچستان میں تعلیم کو عام کرنے میں معاون کردار ادا کیا ہے, کوئٹہ سمیت صوبے کے دوسرے بڑے شہروں جیسے خضدار، لورالائی ، چمن اور ژوب میں بھی پاکستان آرمی نے تعلیمی اداروں کا قیام کیا۔ ان سکولوں میں 12171طلبا پڑھ رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ایف جی پبلک سکولزبھی کافی عرصے سے بلوچستان میں تعلیمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ کوئٹہ کے علاوہ خضدار ، سبی، لورالائی، چمن اور ژوب میں کھولے گئے۔ایف جی سکولز اور کالجز میں اس وقت صوبہ بلوچستان کے 3432 طلبا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ صوبہ کے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں ایف سی بلوچستان کے زیر نگرانی 82سکول و کالج قائم ہیں جن میں 21068طلبا پڑھ رہے ہیں جو آگے جاکر پاکستان کی تعمیر اور ترقی میں اہم کردار اداکریں گے۔چمالانگ ایجوکیشن پروگرام 2007میں شروع کیا گیا جس میں 303 بچے شامل ہوئے۔ کمانڈر سدرن کمانڈ کی ذاتی دلچسپی سے یہ پروگرام بلوچستان کے دیگر 23اضلاع تک پھیلادیا گیا ہے۔  پاک آرمی کی بدولت اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں کے مختلف سکولوں میں بہت سے بلوچ طلبا فری تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی پاک آرمی کے تحت بہت سے ایجوکیشن پروگرام چل رہے ہیں جس میں بلوچستان کے طالب علم بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور اِن شاء اللہ یہ طالب علم پاکستان کی تعمیروترقی میںکلیدی کردار اداکریں گے۔ کے پی کے اور وزیرستان میں بھی پاک فوج کے زیر انتظام بہت سے سکول چل رہے ہیں۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کہہ چکے ہیں کہ گلگت بلتستان حکومت پاک فوج کے ساتھ مل کر تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے ،دیامر میں تعلیم کا فروغ اولین ترجیح ہے۔یامر میں تعلیمی جرگوں کا تسلسل جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی جیسے پاک فوج نے جاری رکھا۔پاک فوج نے روائتی لفظ جرگہ کو تعلیم کیساتھ جوڑ کر یہاں کے دو سو سے زائد بچوں کو ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں داخل کراکر انہیں اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آنے والے دس سال بعد دیامر فخر کرے گا اور وہ بچے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کو لیڈ کریں گے۔ گلگت بلتستان کو ہرحکومت، ہر حکمران اور ہرادارے نے اپنے مخصوص انداز میں علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے قابل تحسین کردار ادا کیا ہے لیکن اگر ان دشوار گزار ، پہاڑی اور دفاعی نوعیت کے حساس ترین علاقوں میں پاک فوج اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ علاقے کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا حصہ نہ ڈالتی تو آج گلگت بلتستان کا یہ نقشہ کچھ اور ہوتا۔ زلزلے سے پیش آنے والے حادثات ہوں یا سیلاب کی تباہ کاریاں، ٹریفک حادثات ہوںسٹرک اور پلوں کی فوری تعمیر ہو،فوج کا کردار نمایاں ہے۔جب گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ 80کے عشرے میں ٹیلی فون کا نظام قائم کیا جارہا تھا تب بھی پاک آرمی کے شعبہ سگنل کے آفیسرزاور جوان ان دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر کام کررہے تھے اور لائنیں نصب کرتے ہوئے درجنوں جوان شہید ہوگئے اور آج تک ایس سی او ہی ٹیلی فون کا نظام کامیابی سے چلا رہی ہے۔ 1980 کے عشرے میں ہی پاک فوج کے انجینئرز ایف ڈبلیو او نے گلگت سے سکردو تک شاہراہ قراقرم تعمیر کی اور اس سٹرک کی تعمیر کے دوران افسروں اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیالیکن بلتستان کے عوام کے لئے ایک عظیم تحفہ دیااور پہلی مرتبہ ستمبر1980 میں سکردو میں بسوں کی آمددرفت شروع ہوئی اور ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ 1989  کے دوران ہی سکردو سے گونگما تک سڑک بھی ایف ڈبلیو اے نے برق رفتاری سے تعمیر کی اور یہ سٹرک ایف ڈبلیو او کے جوانوں کی تعمیرکردہ ایک عظیم شاہکار ہے۔پاک فوج نے ذمہ دارانہ، مثالی اور عوام دوستانہ کارنامے انجام دیے جو قوم کبھی فراموش نہیں کرسکتی ہے۔ پاک فوج نے 1948 میں آزادی کے بعد سکردو اور گلگت ہسپتالوں کا نظام بھی سنبھالا جو جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جانب سے 2010 میں سویلین اداروں سے فوجی افسروں کو واپس بلانے کے فیصلے تک جاری رہا اوریہ نظام انتہائی موثر اور نظم وضبط کے لحاظ سے انتہائی قابل تحسین تھا۔ 2010 کے بعد جب ایم ایس آرمی سرجن آرمی اسپیشلٹ ڈاکٹروں کو ہسپتالوں سے واپس بلالیا گیا, تب سے ہسپتالوں میں نظم وضبط ختم ہوچکا ہے۔ آرمی کی جانب سے آنے والی ادویات کی فراہمی بند ہوگئی ہے۔ صفائی کا وہ نظام جو ایک ڈی ایچ کیو کے شایان شان ہوتا ہے ختم ہوچکا ہے۔ تاہم پاک آرمی کے ہسپتالوں میں اب بھی سویلین مریضوں کا علاج معالجہ مفت ہواکرتا ۔پاک آرمی کی جانب سے لگائے جانے والے فری میڈیکل کیمپس الگ سہولتیں فراہم کررہے ہیں۔ پاک آرمی نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں نہ صرف اپنی نگرانی میں آرمی پبلک اسکولز قائم کررکھے ہیں جہاں معیاری اورجدید تعلیم دی جاتی ہے، ان میں آرمی پبلک سکول جٹیال گلگت، آرمی پبلک سکول دیامر، آرمی پبلک اسکول اسکردو اور آرمی پبلک سکول خپلو شامل ہیں۔ کیڈٹ کالج سکردو اور پبلک سکول اینڈ کالج سکردو کا اگرنام ہے توصرف حاضر سروس آرمی آفیسرز کی سربراہی کی وجہ سے ہے اور ان تعلیمی اداروں کا نہ صرف گلگت بلتستان میں بلکہ پورے ملک میں بڑا نام ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج جس کام کے کرنے کا بیڑا اٹھا لے اسے پوری توجہ’جانفشانی اور محنت سے کیا جاتا ہے’ڈسپلن کو برقرار رکھا جاتا ہے اور اپنے منصوبوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے کسی سمجھوتے سے کام نہیں لیا جاتا یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے اقدامات نتیجہ خیز واقع ہوتے ہیں, صوبہ خیبر پختونخوا کی بات کریں تو پاکستان آرمی کے زیر انتظام لگ بھگ ہر ضلع میں تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ان کی تفصیل خاصی طویل ہے البتہ اگر ماضی کے قبائلی اورحال کے ضم شدہ اضلاع کی بات کی جائے تو کئی دلچسپ اعداد و شمار سامنے آتے ہیں جن سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاک فوج اس خطے میں تعلیم کی ترقی و فروغ اور شرح خواندگی میں اضافے کے لئے کس قدرشاندار خدمات انجام دے رہی ہے۔خیبر پختونخوا کے ان چند علاقوں میں قائم تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار سامنے لانے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ نجی سکولوں اور کالجوں کے مقابلے میں یہاں تعلیم حاصل کرنے والے بہت کم فیسیں ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ طلباء کی بڑی تعداد ان تعلیمی اداروں سے مستفید ہوتی ہے۔ضم شدہ قبائلی علاقوں میں دو اضلاع شمالی وزیر ستان اور جنوبی وزیرستان میں جہاں پاک فوج نے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کے بعد قابل ذکر ترقیاتی کام کئے، وہیں معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے بھی نمایاں اقدامات کئے۔شمالی وزیرستان میں مجموعی طور پر چھ تعلیمی ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔1992ء میں یہاں فرنٹیئر کور پبلک سکول رزمک قائم کیا گیا جس میں اس وقت 642 طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں گویا یہ امر بھی نمایاںہے کہ ان تعلیمی اداروں میں زیادہ تر کو ایجوکیشن ہے جہاں طلباء و طالبات اکٹھے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔2001 ئ  میں میران شاہ میں فرنٹیئر کور پبلک سکول قائم کیا گیا جس میں اس وقت 523 طلباء زیر تعلیم ہیں۔اس علاقے میں طالبات کے لئے ایک الگ سکول کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی جس کے پیش نظر جنوری2016 ء میں نہ صرف طالبات کے لئے الگ سکول کی تعمیر کا کام مکمل ہو گیا بلکہ طلباء کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ایک اور سکول کی سہولت فراہم کر دی گئی ۔پاک فوج نے یہ سکول گولڈن ایرو آرمی پبلک سکول کے نام سے قائم کئے۔2017 ء میں گولڈن ایرو پبلک سکول رزمک میں قائم کیا گیا جس میں 850 طلباء زیر تعلیم ہیں۔یہ امر بھی لائق ستائش قرار دیا جا سکتا ہے کہ اس علاقے میں سب سے زیادہ طلباء گولڈن ایرو میران شاہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار123 ہے۔یوں پاک فوج نے 1992 ء کے بعد شمالی وزیرستان میں چھ سکول تعمیر کئے۔اب اگر جنوبی وزیرستان کی بات کی جائے تو 1962 ء کے بعد اب تک یہاں مختلف مقامات پر اور اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہے، 18 تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں۔ان تعلیمی اداروں میں سات ہزار 148 طلباء و طالبات خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔صرف تعداد کا تذکرہ ہی لازم نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ انہیں معیاری تعلیم دی جا رہی ہے تو یہ قطعی غلط نہیں ہو گا۔ ماہر اساتذہ کی زیر نگرانی یہ طلباء مستقبل میں ملک و قوم کی باگ ڈور سنبھالنے اور زندگی کے مختلف شعبوںمیں کامیابیاں حاصل کرنے کے جذبہ سے سرشار حصول تعلیم میں مصروف ہیں۔ماضی کی قبائلی ایجنسی اور آج کل کے ضلع جنوبی وزیرستان میں سب سے پہلے 1962 ء میںوانا میں طلباء کے لئے فرنٹیئر کور پبلک سکول قائم کیا گیا۔یہ ایک کیمپ سکول تھا۔اسی طرح1964 ء میںایف جی پبلک سکول نیو کینٹ ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم کیا گیا۔1989 ء میں ڈیرہ ہی میں آرمی پبلک سکول اینڈ کالج جبکہ 1993 ء میں یہاں پاسبان آرمی پبلک سکول قائم ہوا۔ آجکل صرف ڈیرہ اسماعیل خان کے تین انسٹی ٹیوشنز میں لگ بھگ2 ہزار900 طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی تعلیمی ادارے قائم کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ان میں آرمی پبلک سکول کانی گرام، ماڈل پبلک سکول چغملائی،آرمی پبلک سکول شیر نواز شہید ساراروغہ،آرمی پبلک سکول شکئی تیارزا، خم رنگ پبلک سکول ،راغزئی پبلک سکول،سپن ماڈل پبلک سکول توئی خولہ،آرمی ماڈل پبلک سکول اعظم وارسک، تانائی فرنٹیئر کور پبلک سکول ،فرنٹیئر کور پبلک سکول جنڈولہ اور ایجوکیشن کمپلیکس خان کوٹ شامل ہیں۔الله کے بے شمار فضل سے افواج پاکستان نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھنکنے کے بعد ناخواندگی کو مٹانے کی جنگ کو بھی کامیابی سے اپنے نام کیا ہے, تو پھر کیوں نہ کہا جائے, پاک فوج زندہ باد, پاکستان پائندہ باد

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] نیوز)کراچی میں ملک کی پہلی الیکٹرک بس سروس کا افتتاح کردیا، یہ بس ملیر، ایئرپورٹ سے ہوکر سی ویو تک […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.