26سال تک پاکستان کو آئین کے بغیر رکھا گیا، بنو اعلامیہ ہی پشتونوں کے مسائل کا حل ہے، رحیم زیارتوال
کوئٹہ (مسائل نیوز) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال نے کہا ہے کہ پشتونخوامیپ اور اس کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کا بیانیہ ہی بحرانوں اور بربادیوں سے نجات کی راہ ہے،ملک اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین بحرانوں کا شکار ہے جس انداز میں ملک کو چلانا چاہیے تھا اسے شروع دن سے نہیں چلایا گیا، 26سال تک ملک کو آئین کے بغیر رکھا گیا اور آج بھی آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ کی خودمختاری، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی فیڈریشن کے قیام، قوموں کے وسائل پر ان کے واک واختیار کو تسلیم کرنے، سیاست اور انتخابات میں مداخلت سے گریز نہ کرنے کی روش جاری رکھی گئی ہے۔ وفاقی حکومت پی ڈی ایم کے 26نکاتی اعلامیہ پر فوری طور پر عملدرآمد کرائیں، تاریخی پشتون قومی جرگہ بنو کے اعلامیہ پر عملدرآمد ہی پشتونوں کے تمام مسائل کا حل ہے، ایم این اے علی وزیر کی فوری رہائی ممکن بنائی جائے، پارٹی اداروں کے قیام سے پارٹی تنظیمی طور پر مزید مضبوط اور فعال ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی ضلع کوئٹہ کے زیر اہتمام شیخان علاقائی یونٹ، شیراز آباد علاقائی یونٹ اور پشتون ٹاؤن علاقائی یونٹ کے کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے پارٹی کے صوبائی سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز ملک عمر کاکڑ، حبیب الرحمن بازئی، نظام عسکر، ضلعی معاون جمشید خان دوتانی اور نیاز بڑیچ نے بھی خطاب کیا۔شیراز آباد ارباب کرم خان علاقائی یونٹ کے سیکرٹری قیوم تاجک، سینئر معاون سیکرٹری عابد پیرعلیزئی ودیگر معاونین، کلی شیخان علاقائی یونٹ کے سیکرٹری قدرت اللہ بڑیچ، سینئر معاون سیکرٹری نصیب خان ودیگر معاونین، پشتون اتحاد کالونی ابراہیم زئی کے علاقائی سیکرٹری حسن پیرعلیزئی،سینئر معاون سیکرٹری سلیم اچکزئی ودیگر معاونین منتخب ہوئے۔ منتخب ایگزیکٹوز سے الگ الگ کبیر افغان، حبیب الرحمن بازئی اور جمشید خان دوتانی نے حلف لیا۔ شیخان علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام شمولیت کی تقریب اور غازی فتح خان کے نام سے نئے ابتدائی یونٹ کے قیام کے موقع پر ملک عمر کاکڑ، جمشید خان دوتانی،نیاز بڑیچ، سید عبدالخالق آغا، حسن پیر علیزئی، خان ودان کاکڑ، عثمان خان بڑیچ نے خطاب کیا۔ اس موقع پر عثمان خان بڑیچ نے اپنے 25ساتھیوں سمیت پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملکی آئین میں تمام اداروں کے دائرہ کار کا تعین کیا گیا ہے عدلیہ، فوج اور تمام اداروں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں آئین میں واضح ہے سب کو آئین کے دائرہ کارودائرہ اختیار میں رہتے ہوئے اپنی اپنی ذمہ داریاں سرانجام دینی ہونگی۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے غیر جمہوری قوتوں اور ان کے اقتدار میں ہونیوالے محکوم اقوام ومظلوم عوام پر ظلم وجبر، ان کے حقوق غصب کرنے کیخلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس کیلئے عملی جدوجہد کرتے ہوئے ہر جمہوری تحریک میں صف اول کا کردار ادا کیا۔ جس کی پاداش میں خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور پارٹی کوبارہا سزا دی گئی۔ مقررین نے کہا کہ خان پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے اس ملک کو چلانے والوں کو بارہا ملک کو صحیح سمت پر گامزن کرنے کیلئے اپنی تجاویز دیں لیکن بدقسمتی سے ان تجاویز کو زیر غور نہیں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت پہلے ایک ملکی اخبار نے اپنے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ محمود خان اچکزئی کے بیانیہ پر عملدرآمد سے ہی ملک کو بچایا جاسکتا ہے۔ لیکن لوگوں نے ملک کو اس سمت پر نہیں چلایا جس پر چلانا چاہیے تھا جو کہ قوموں کا ایک حقیقی فیڈریشن ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ پشتون وطن آج بھی تقسیم ہے اور اسے ایک متحدہ صوبے میں پرونا یہاں کے باسیوں کو ان کے سرزمین اور قدرتی وسائل پر ان کا واک اختیار اور قوموں کی زبانوں کااحترام آج بھی مقتدر قوتوں کیلئے قابل قبول نہیں جس کی وجہ سے ملک کو مزید بحرانوں اور بربادیوں کا سامنا ہے۔ ہم نے من حیث القوم فرنگی استعمار کو شکست دی ہے، یہ پشتونوں کا افتخار ہے اور ہر برے وقت میں پشتونخوا وطن کے عوام نے قربانیاں دیں ہیں۔ پشتونخوا میپ اور ان کے اکابرین کے خلاف آج لوگوں کا جو دل چاہے وہ بازاری زبان استعمال کررہے ہیں کیونکہ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم اپنے عوام کے جائز حقوق، ان کی سیالی، برابری کی بات کررہے ہیں۔ پشتونوں کی تقسیم کا فارمولہ انگریز ہی نے دیا تھا اور لوگوں نے اسے مزید جاری رکھا اس کے خلاف پشتونخواملی عوامی پارٹی نے تاریخ ساز جدوجہد کی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ پشتونوں کو اپنی محکومی کے خاتمے کیلئے پشتونخوامیپ میں شامل ہوکر مضبوط تنظیم سازی کرنی ہوگی اورپارٹی پیغام گھر گھر پہنچانا ہوگا کیونکہ موجودہ حالات کا ادراک کرنا اور اسے سنجیدہ لینا ہمارے تمام عوام کی ذمہ داری ہے۔ سیاست ہماری مجبوری ہے کیونکہ پشتون قوم جس حالت میں زندگی گزار رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہے اس سے نجات سیاست ہی کے ذریعے ممکن ہے اورہمارے عوام کی امیدیں پشتونخواملی عوامی پارٹی سے ہی وابستہ ہیں۔ مقررین نے کہا کہ عالمی سازشوں کے نتیجے میں جو فیصلے اس خطے کیلئے آنیوالی ہے ان سے نمٹنے کیلئے واحد حل سیاسی تنظیم کو مضبوط ومستحکم کرنا، تمام یونٹوں کو فعال کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی سرزمین اور نعمتوں پر کسی کو بھی قبضے کی اجازت نہیں دینگے پشتونوں کا قومی ایجنڈا اور قومی بیانیہ پشتون قومی جرگے بنوں میں واضح کیا گیا ہے۔ جس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ پشتونوں کے مسائل کا واحد حل بنوں جرگے کا تاریخی اعلامیہ ہے جو کہ پشتونخوامیپ کے میزبانی میں ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ملک اس طرح نہیں چلائے جاتے کہ 444بے گناہ انسانوں کا قاتل راؤ انور تو آزاد پھر رہا ہو اور بے گناہ ایم این اے علی وزیر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہو۔ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے علی وزیر کی فوری رہائی کو ممکن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کو سیاست کا شوق ہے تو وہ اپنی سرکاری ملازمت چھوڑ کر سرکاری خزانے سے تنخواہ لینا بند کریں پھر جہاں چاہے تقریر کریں، سیاسی پارٹی بنائیں، سیاست کریں، وزیر اعظم بنے چاہے جو کچھ بھی بنے لیکن اس طرح نہیں ہوگا کہ ان کی ڈیوٹی کچھ اور ہو جبکہ وہ سیاست میں مداخلت کررہے ہو ں اورملکی آئین میں دیئے گئے دائرہ کار ودائرہ اختیار سے تجاوز کررہے ہوں۔ مقررین نے کہا کہ ووٹ کی پرچی ہی آپ کو اپنے بنیادی ضروریات کے حصول تک پہنچا سکتی ہے، جس نے ووٹ کے تقدس کو پائمال کیا وہ اپنی بربادی کا بندوبست خود ہی کررہے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ مردم شماری میں تمام پارٹی کارکن فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنے اپنے محلوں، دیہات، تحصیل، شہروں میں آباد لوگوں کا اندراج کرائیں اور مردم شماری کے عملے کے ساتھ تعاون کریں۔ مقررین نے کانفرنسز میں منتخب ہونیوالے تمام نئے سیکرٹریز اور ایگزیکٹوز کو مبارکباد دی اور پارٹی چیئرمین محمود خان اچکزئی کا پیغام پہنچایا کہ تنظیم کو مستحکم بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔
- Advertisement -