میگنیشیم والی غذائیں ہمیں کینسر سے بھی بچا سکتی ہیں، تحقیق
کیمبرج(ویب ڈیسک )غذا میں میگنیشیم کی مناسب مقدار ہمارے جسم کے قدرتی دفاعی نظام (امیون سسٹم) کو مضبوط بناتی ہے لیکن اب نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی موجودگی کینسر سے لڑنے میں بھی ہماری مددگار ہوتی ہے۔بتاتے چلیں کہ میگنیشیم ہمارے اہم غذائی اجزاءمیں شامل ہے جو بادام، کاجو، مونگ پھلی، کدو کے بیجوں، لوبیے، گندم، دودھ، دہی اور پالک جیسی غذاو¿ں میں وافر موجود ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے خواتین کی روزانہ غذا میں میگنیشیم کی مقدار 310 سے 320 ملی گرام جبکہ مردوں کی یومیہ غذا میں اس کی مقدار 400 سے 420 ملی گرام ہونی چاہیے۔
- Advertisement -
یہ نئی تحقیق یونیورسٹی آف بیسل میں کی گئی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’سیل‘ میں شائع ہوئی ہیں۔ اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ امنیاتی نظام سے تعلق رکھنے والے ’ٹی سیلز‘ کو درست طریقے سے کام کرنے کےلیے میگنیشیم کی مناسب مقدار درکار ہوتی ہے۔ ’ٹی سیلز‘ دوسرے کاموں کے علاوہ سرطان زدہ خلیوں کو تلاش کرکے تباہ کرنے میں بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ماضی میں چوہوں پر کیے گئے تجربات سے معلوم ہوا تھا کہ جن چوہوں کی غذا میں میگنیشیم کی مقدار کم رکھی گئی،
ان کا جسمانی دفاعی نظام کمزور ہوا اور وہ دیگر چوہوں کےمقابلے میں فلو سے زیادہ متاثر ہوئے۔اب بیسل یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹوف ہیس کی ٹیم نے کیمبرج یونیورسٹی کے اشتراک سے دریافت کیا ہے کہ جسم کے اہم خلیات ’ٹی سیلز‘ بگڑے ہوئے شکستہ خلیات کو ختم کرتے ہیں۔ لیکن وہ یہ کام صرف اسی صورت میں بہتر طور پرانجام دیتے ہیں کہ جب پورے نظام میں میگنیشیم کی بھرپور مقدار موجود ہو۔سب سے بڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ ٹی سیل کی سطح پر ایک اہم پروٹین ’ایل ایف اے ون‘ پایا جاتا ہے جو میگنیشیم کی موجودگی میں ہی اچھی طرح کام کرسکتا ہے۔