*سترہ جولائی کے آفٹر شاک *
تحریر: کنول زہرا
فافن کی رپورٹ کے مطابق سترہ جولائی 2022 کو صوبہ پنجاب کی اسمبلی کے 20 حلقوں کے ضمنی انتخابات میں 49.7 فیصد کا ٹرن آؤٹ رہا, یہ متاثر کن ٹرن آوٹ جمہوریت کے لیے اچھی علامت ہے۔
الیکشن کے دن کچھ لڑائی, جھگڑے کے واقعات کی رپورٹس ملیں تاہم یہ انتخابی عمل منظم طریقے اپنے منطقی انجام کو پہنچا, جس میں مسلم لیگ نون کو شکست سے دو چار ہونا پڑا, ان کے حصے میں محض 4 نشیت آئیں جبکہ پی ٹی آئی نے 15 سیٹس اپنے نام کیں.انتخابات کے قواعد و ضوابط کے مطابق الیکشن سے ایک روز قبل انتخابی کمپنگ ختم ہوجاتی ہے تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے یہ سرگرمی سوشل میڈیا پر جاری رہی, اس نکتے کو الیکشن کمیشن کو سمجھنا ہوگا اور اس قسم کے قوانین بنانے ہونگے جس سے اس activity کی حوصلہ شکنی ہو, الیکشن کمیشن کی یہ تعریف ہے کہ اس نے فوری نتائج دینے کے عمل کو موثر بنایا سوائے پی پی سیون روالپنڈی کے سارے حلقوں کے نتائج بلاتاخیر موصول ہوئے تاہم الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کی جانب سے Election campaign اور الیکٹرانک و سوشل میڈیا پر فوری نتائج کی کوریج روکنے میں ناکام رہا جبکہ الیکشن کمیشن ہر بار پہلا نتیجہ خود نشر کرنے کو کہتا ہے مگر ہر بار بازی نجی چینلز لے جاتے ہیں,تحریک انصاف نے بدتمیزی اور بدتہذیبی کا ہر مؤقع پر مظاہرہ کیا, انتخابات میں جیت مل جانے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے چیئرمین اور دیگر رہنما الیکشن کمیشن پر کھلی تنقید کر رہے ہیں.
عمران خان سے نہ تو شکست برداشت ہوتی ہے نہ ہی وہ تنقید سہہ سکتے ہیں, جب دل کرتا ہے اداروں پر بے جا تنقید اور ملک کو توڑنے کی باتیں بہت آسانی سے کر جاتے ہیں, انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر وازات عظمی سے جاتے جاتے پاکستان کا ڈیڑھ ارب کا نقصان کیا پھر بھی وہ اپنے آپ کو سب سے بڑا حب الوطن سمجھتے ہیں, یوں لگتا ہے سارے بکاوں تحریک انصاف کا حصہ ہیں جن کی سینٹ کے انتخابات میں بولی لگی, تحریک عدم اعتماد کے دنوں میں بکے اور اب وزیراعلی پنجاب کے انتخاب کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اراکین کو خریدنے کی اطلاعات ہیں بلکہ ایک رکن تو عمران خان کے ٹوئٹ کے مطابق 50 کڑوڑ میں بک کر ترکی جا بیٹھا ہے, عمران خان کو شدید ضرورت ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی اخلاقی تربیت کریں تاکہ نہ تو ان کے جلسوں میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی ہو نہ ہی ان کے اراکین کی قیمت لگے, یہ ہی نہیں بلکہ عمران خان کو اپنی بھی اصلاح کرنی ہوگی تاکہ انہیں تہذیب سے بات کرنی آئے, یہ بھی کتنی عجیب بات ہے 15 سیٹس جیتنے کے بعد ایک نشیت کی ہار کو دھالندلی کہا جارہا ہے, جس پر پی ٹی آئی کا رونا ختم نہیں ہورہا ہے, جبکہ عمران خان اپنے آپ کو کامیاب کپتان قرار دیتے ہیں مگر ان میں نکتہ برابر برداشت کی قوت نہیں ہے, ملک میں سیاسی انتشار, معاشی بحران دن بدن بڑھ رہا ہے, جو کہ ملک کے لئے اچھا سائن نہیں ہے, عمران خاں نے جس طرح اداروں کو مفلوج کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ہے, تاہم عمران خاں کو یہ بھی سوچ لینا چاہیں ہر چیز کی ایک حد اور وقت ہوتا ہے, اور وقت کسی کا نہیں ہوتا ہے, الله پاکستان کو قائم و دائم رکھے, الہی آمیں