عثمان بزدار کو بطور وزیراعلیٰ عہدے پر بحال کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر
لاہور(مسائل نیوز) وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بطور وزیراعلیٰ عہدے پر بحال کرنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے مقرر ہو گئی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد امیر بھٹی کل درخواست پر سماعت کریں گے۔لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست شہری تنویر سرور نے دائر کی تھی۔درخواست میں عمران خان، عثمان بزدار، حمزہ شہباز شریف اور عمر سرفراز چیمہ کو فریق بنایا گیا۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عثمان بزدار کو بطور وزیراعلیٰ پنجاب بحال کیا جائے۔خیال رہے کہ عثمان بزدار کے استعفے کی تکنیکی غلطی نے نیا آئینی بحران پیدا کر دیا،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو قانونی رائے بھجوا دی۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کی جانب سے گورنر پنجاب کو بھجوائی گئی قانونی رائے کے مطابق عثمان بزدار کا وزیر اعظم کے نام استعفیٰ ائین کے آرٹیکل 130 سب ایکشن 8 کی خلاف ورزی ہے، عثمان بزدار کے استعفے سے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 8کے آئینی تقاضے پورے نہیں ہوئے، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے استعفیٰ گورنر کی بجائے وزیراعظم کے نام لکھا۔
- Advertisement -
قانونی رائے کے مطابق وزیراعلی کو استعفیٰ تحریری طور پر گورنر کے نام دینا تھا، عثمان بزدار نے ٹائپ شدہ استعفے میں وزیر اعظم کو مخاطب کر کے دستخط کر دیئے، عثمان بزدار نے استعفیٰ وزیراعظم کو دیا جو اس کو منظور کرنے کے مجاز نہیں تھے، یہ تمام اختیارات آئینی طور پر گورنر پنجاب کے پاس ہیں۔ 17 اپریل کو گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کی جانب سے لکھے گئے خط میں قانونی رائے مانگی گئی تھی۔
گورنر نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کی قانونی رائے کے بعد آئینی ماہرین کا اجلاس بلا لیا۔یہ رائے لی جائے گی کہ اگر استعفیٰ آئینی تقاضوں کے مطابق نہیں تو کیا عثمان بزدار اب بھی وزیر اعلی ہیں ۔ اگر استعفیٰ ہی غیر آئینی ہے تو پھر وزیر اعلی کے انتخاب کے عمل پر بھی رائے دی جائے۔واضح رہے کہ رانا ثنااللہ خان عثمان بزدار کی اس غلطی پر پہلے ہی آواز اٹھا چکے ہیں۔