زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے کال پر احتجاج جاری
کوئٹہ(مسائل نیوز)زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے کال پر یارو ، قلعہ سیف اللہ ، وڈھ ، کھڈکوچہ کے ساتھ ساتھ پنجپائی ، کانک ، اغبرگ ، گردگاپ کے زمینداروں نے ملک عبدالمجید مشوانی ، حاجی ولی محمد رئیسانی ، حاجی عزیز سرپرہ ، حاجی حمید اللہ مشوانی ، عبدالاحد افغان ، ٹکری ملک عبدالغفور ، ٹکری عبدالحق ابابکی، عبدالباسط ابابکی ، ٹکری میر احمد نواز ابابکی ، حاجی غلام محمدشہی ، حاجی محمد انور رخشانی ، امین اللہ رئیسانی کی قیادت میں چار روز سے ساروان ھوٹل کانک کراس پر غیر ملکی پیاز اور کیھرا کے درآمد پر احتجاجی کیمپ میں موجود. کیمپ میں سینکڑوں زمیندار موجود ہے اور کل سے ایک غیر ملکی پیاز سے لوڈ ٹریلر کو کھڑا کیا گیا ہے زمینداروں کا کہنا ہے کہ ایک ماہ تک بلوچستان کی زرعی پیداوار سے ملکی ضرورت پورہ ہوسکتی ہے لہذا ایک ماہ تک حکومت درآمد پر پابندی لگالیں. حالیہ شدید سیلابوں کی وجہ سے زمینداروں کو بہت ہی زیادہ نقصان ہوا ہیں. موجودہ حکومت ایک سال تک زرعی قرضے اور بجلی کے بل معاف کریں منڈی تک رسد کیلئے فوری طور پر بلوچستان کے اہم شاہراوں کو بحال کریں.
- Advertisement -

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے اب تک حکومت کی طرف سے کوئی نمائندہ نہیں آیا ہے. کیمپ کے ممبران نے وکلاء ، سول سوسائٹی ، ٹرانسپورٹرز اور تاجر برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل حالات میں زمینداروں کو بھر پور ساتھ دیں. احتجاجی میں شریک لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی زمینداروں کے ساتھ یہی روش رہا تو زمیندار اپنی حقوق کے حصول کیلئے سخت اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگی جسکی تمام تر ذمداری موجودہ حکومت پر عائد ہوگی.