ریکوڈک, معدنیات کا ذخیرہ
تحریر: کنول زہرا
ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔
ریکوڈک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیں-
ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے جبکہ
وہاں ایک کینیڈین کمپنی کی جانب سے بھی اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں, یہ بات اس جھوٹے پروپیگنڈے کی نفی ہے کہ بلوچستان میں صرف چینی کمپنیاں ہی کام کر رہی ہیں.
تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔
صوبہ بلوچستان کی حکومت نے چاغی کے مقام پر بین الاقوامی مائننگ کمپنی بی ایچ پی بلیٹن کے ساتھ 1993ء میں دستخط کیے تھے جس میں یہ طے پایا تھا کہ ایک مشترکہ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا جس میں بلوچستان کا حصہ 25 فی صد اور بی ایچ پی کا حصہ 75 فیصد ہوگا۔ اُس وقت ہونے والے معاہدہ میں یہ طے ہو چکا تھا کہ معدنیات تلاش کرنے والی کمپنی کو ہی معدنیات نکالنے کا لائسنس ملے گا۔ بعد ازاں دی آسٹریلین مینکو ریسورسز کمپنی نے سنہ 2000ء میں بی ایچ پی بلیٹن کے حصص خرید لیے۔ اس سلسلے میں جون 2000 ء میں ایک تحریری دستاویز کے ذریعہ بی ایچ پی بلیٹن کے حقوق سے دست برداری اور ٹیتھیان کمپنی کو منتقلی کا ایک معاہدہ بھی ہوا تھا- ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) دراصل مینکور ریسورسز کی ایک ذیلی کمپنی ہے۔ یہ ٹیتھیان کمپنی مزید آگے بارک گولڈ آف کینیڈا اور چلی کی انتوفاگستا منرلز کمپنیوں کا جوائنٹ وینچر ہے۔ اس کے بعد اپریل 2006ء میں
ایک تجدیدی معاہدہ ہوا جس کے ذریعہ ریکوڈک منصوبہ میں اینٹوفگسٹا کا حصہ 5 .37 فیصد، بیرک گولڈ کا حصہ 5 .37 فیصد اور بلوچستان کا حصہ 25 فیصد بنا۔ اسی تجدیدی معاہدہ کے تحت سال 2006 میں ٹیتھیان کاپر کمپنی کو یہ پراجیکٹ دیا گیا۔
ٹیتھیان کمپنی نے اگست 2010ء میں اپنی رپورٹ بنا کر حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان کو سونپ دی۔ جس میں بتایا گیا کہ اس مقام پر اتنا تانبہ اور سونا موجود ہے جسے 56 سال تک متواتر نکالا جاسکتا ہے۔ دسمبر 2010ء میں قومی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع سونے اور تانبےکے ریکوڈک منصوبے کو چلانے کی اجازت دے دی۔
بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔
حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔
کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے 2012 میں 1993 میں ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ٹیتھیان کمپنی نے 2012 میں منسوخ ہونے والے معاہدے پر عالمی سرمایہ کاری ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔
میں ٹربیونل نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر جرمانہ،2 ارب ڈالر سود اور اخراجات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
پاکستان کی نظرثانی درخواست پر فروری 2020 میں ٹربیونل نے عبوری حکم امتناع جاری کیا۔
اپریل 2020 میں مستقل حکم امتناع کی درخواست پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی تھی, ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے 6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر آسٹریلوی اور چلی کی کمپنیوں کو جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع جاری کر دیا, ٹربیونل نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے سے روکا, اس بڑے ریلیف کی پیچھے پاکستان آرمی کی کاوش ہے, جس نے وطن عزیز کو ریکوڈک کیس میں 11 بلین ڈالر کے جرمانے سے بچایا,
ریکوڈک ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کان ہوگی۔ یہ پاکستان کو قرضوں سے نجات دلائے گا اور ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز کرے گا۔ الله کی فضل سے یہ منصوبہ بھی بلوچستان کے عوام کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گا۔ اس سے نہ صرف پاکستان میں سرمایہ کاری میں بہتری ہوگی بلکہ مقامی معدنیات کی تلاش کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا اور اس کے نتیجے میں بلوچستان کے لوگوں کے لیے ایک اہم سماجی و اقتصادی فروغ حاصل ہو گا۔
نئے معاہدے میں بلوچستان کے لوگوں کے لیے سماجی و ماحولیاتی فوائد شامل ہیں 8000 ہنر مند اور غیر ہنر مندوں کے لیے براہ راست ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گا جبکہ 12000 بالواسطہ نوکریاں بھی فراہم کیں، جس کے تحت سی پیک کے پروجیکٹ میں راستے اور بندرگاہوں کو بھی فعال کیا جائے گا، انشا الله وہ وقت دور نہیں ہے جب صوبہ بلوچستان شورش زدہ علاقہ نہیں بلکہ سرمایہ کاری، تعمیر اور ترقی کا میدان ہو گا۔