رمضان سے قبل مہنگائی کے ڈیرے، گوشت سمیت اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور
کراچی(مسائل نیوز)رمضان المبارک کی آمد سے قبل مختلف شہروں میں مہنگائی نے ڈیرے ڈال دئیے، گوشت سمیت دیگر اشیائے ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت نے رمضان المبارک کیلئے اشیائے ضروریہ کی سرکاری قیمتیں مقرر کردی ہیں تاہم مختلف مارکیٹس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ شہری انتظامیہ نے نرخ نامے جاری کرکے جان چھڑا لی۔
تاحال رمضان المبارک کی آمد سے قبل منافع خوری اور عوامی ضروریات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کرنے کا رجحان زور پکڑ گیا جبکہ شہری انتظامیہ کی جانب سے مہنگائی کو لگام دینے کیلئے مؤثر کارروائی کا فقدان نظر آتا ہے۔
اس وقت بون لیس بچھڑے کا گوشت 1700روپے سے 1800روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے جس کی سابقہ قیمت 1600روپے فی کلو رہی اور سرکاری نرخ نامے میں بھی یہی قیمت مقرر کی گئی ہے۔ ہڈی والا گوشت سرکاری نرخ 1300روپے فی کلو کی بجائے 1400روپے میں فروخت ہونے لگا۔
شہری انتظامیہ کے مطابق مٹن کی سرکاری قیمت 2200 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم مارکیٹ میں یہ 2400 تا 2600 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ نامہ صرف کاغذوں تک محدود ہے جبکہ عملی طور پر مہنگے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔
- Advertisement -
انتظامیہ نے 100 گرام چپاتی کی قیمت 14 روپے، 120 گرام تندوری نان 18 روپے، 140 تا 150 گرام نان 21 روپے اور 180 گرام نان 27 روپے مقرر کر رکھی ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں جہاں چپاتی 15 روپے اور تندوری نان 25 تا 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ اکثر تندوروں پر وزن اور قیمت واضح طور پر درج نہیں کی جاتی جس کے باعث صارفین کو اصل وزن کا علم بھی نہیں ہو پاتا۔
کمشنر کراچی کی ویب سائٹ کے مطابق 6 فروری 2026 کوڈھائی نمبر آٹے کی سرکاری قیمت 107 روپے، میدہ 115 روپے اور چکی کا آٹا 130 روپے فی کلو مقرر تھا، لیکن مارکیٹ میں ڈھائی نمبر آٹا 130 روپے، میدہ 140 روپے اور چکی کا آٹا 150 تا 160 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے۔
اسی طرح 14 فروری کو چینی کی سرکاری قیمت 138 روپے مقرر کی گئی، جبکہ مارکیٹ میں یہ 145 تا 160 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ دالوں اور دیگر کریانہ اشیا میں بھی واضح فرق دیکھا جا رہا ہے، جہاں سرکاری طور پر ماش دھلی نمبر 1 کی قیمت 420 روپے، چنا دال نمبر 1 کی 230 روپے، کابلی چنا (8 ملی میٹر) 325 روپے، کالا چنا نمبر 1 کی 215 روپے اور بیسن 230 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر مارکیٹ میں بیسن 280 تا 400 روپے، کالا چنا تقریباً 300 روپے، کابلی چنا تقریباً 400 روپے اور ماش 420 تا 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔
اسی طرح اعلیٰ معیار کا 60 گرام آلو سموسہ اور 35 گرام قیمہ سموسہ 40، 40 روپے میں دستیاب ہیں، جبکہ پکوڑا مکس 640 روپے، جلیبی 580 روپے اور پھینی و خاجہ 845 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔
شہریوں کا ماننا ہے کہ ہر سال رمضان کی آمد سے قبل ہی مہنگائی میں اضافہ حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے جبکہ سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ فہرستیں جاری کرنے کی بجائے عملی کارروائی وقت کی ضرورت بن چکی ہے تاکہ منافع خوروں کا سدباب کیاجاسکے۔