پروپیگنڈہ
تحریر: کنول زہرا
ماضی قریب میں پروپگنڈے کی سب سے بڑی مثال 2003 میں نظر آئی, 2003ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے سے قبل یہ پروپیگنڈا کیا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر اٹیمی ہتھیاروں موجود ہیں, جس سے دنیا کے امن کو بہت بڑا خطرہ ہے, اس بارے میں پروپیگنڈا کرتے ہوئے غلط معلومات فراہم کی گئیں, گرافک تصاویر سے اپنے جھوٹ کو سچ کا رنگ دینے کی کامیاب کوشش کی گئی, بعدازاں پتہ چلا کہ امریکہ کی جانب جاری کی جانے والی خبروں میں کوئی صداقت نہ تھی, محض غلط فہمی پر اتنی جانوں کا نقصان ہوا جس پر امریکہ نے سوری کرکے معاملہ رفع دفع کیا, پروپگنڈہ پھیلانے میں سب سے اہم کردار میڈیا کی جانب سے ادا کیا جاسکتا ہے دور حاضر کے اعتبار سے سوشل میڈیا اس حوالے سے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے,یاد رہے کہ دسمبر 2020 میں انٹرنیٹ پر جعلی خبروں کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ’ای یو ڈس انفولیب کے انکشافات کے مطابق بھارت ویب سائٹ ’ انڈین کرونیکل‘ کے ذریعے اقوام متحدہ کی تنظیموں اور صحافیوں کے جعلی اکاؤنٹس سے جعلی خبریں پھیلاتی ہے۔جس میں پاکستان مخالف بیانیہ پھیلایا جاتا ہے۔جعلی خبروں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف مہم کو غلط رنگ دیا جاتا ہے,ای یو ڈس انفولیب نے جدید پروپیگنڈہ سازی کے محرکات سے روشناس کرایا, پاکستان میں سوشل میڈیا پر اہم شخصیات پر بے جا تنقید اور ہش ٹیگ بنا کر ان کی تضحیک کرنا پروپیگنڈہ مہم کی ہی کڑی ہے.پاک فوج مخالف مہم میں اپریل 2022 سے مزید تیزی آنا شروع ہوئی, پاک فوج کا کہنا ہے کہ اسے سیاست میں نہ گھسٹا جائے, مگر یہاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی دفاعی سہارے کی اسقدر متلاشی ہیں کہ اگر نہیں ملتا تو رونے پٹنے اور بین کرنا شروع کردیتی ہیں اور اپنی فوج کو کمزور کرنے کا گھناونا کھیل شروع کردیتی ہیں, آج کل پاکستان میں تقسیم زدہ سوچ بہت پروان چڑھ رہی ہے, جو ملک کی بقا کے لئے مناسب نہیں ہے, یہ تقسیم زدہ سوچ منفی پروپیگنڈے کا نتیجہ ہے, جسے کاونٹر کرنا بہت ضروری ہے, اسی وجہ سے ایف آئی اے نے بہت سی کاروائیاں کی ہیں تاہم اب بھی اس منفی پروپیگنڈہ کی گرفت مضبوط ہے, پاک فوج مادر وطن کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے سراپا جنگ ہے, الله کے کرم سے وطن کے جانباز ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرکے پاکستان کے استحکام کے لئے متحرک اور سر بکف ہیں