MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کوئٹہ شہر میں شاہراہوں کی تعمیر

0 226

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:۔محمداکرم نیچاری
کوئٹہ شہر جو بلوچستان کا صوبائی دارالحکومت بھی ہے سی پیک منصوبے میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے لیکن اسے وہ اہمیت تاحال نہیں دی جارہی جو ملنی چاہیے کیونکہ سی پیک منصوبے کے تحت صوبہ بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر کے جو منصوبے شروع کئے گئے وہ تاحال مکمل نہیں کئے جاسکے جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کے دیگر علاقوں میں سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر کام تیزی سے مکمل کیا گیا ہے لیکن بلوچستان بھر میں جاری سی پیک منصوبے کی شاہراہوں کو صرف کھنڈر بناکر چھوڑدیا گیا ہے۔ حالانکہ ان منصوبوں پر کام جون 2023ءتک مکمل کیا جانا تھا لیکن اس وقت صوبے کے دیگر علاقوں کی شاہراہیں تو کجاصوبائی دارالحکومت کوئٹہ شہر میں سی پیک میں شامل شاہراہوں پر بھی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ جس کی واضح مثال سبزل روڈ اورسریاب روڈ ہیں جن کی توڑ پھوڑ کاکام تو گزشتہ ایک سال سے جاری ہے لیکن اس کے باوجود ان کی تعمیر کاکام برائے نام کیا جارہا ہے اسی طرح موسیٰ کالونی سے لنک روڈ اختر آباد بائی پاس پر بھی کام نہ ہونے کے مترادف اور ان شاہراہوں کو توڑ کر ان پر خاکہ ڈال کر چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ سبزل اور سریاب روڈ جو کہ کوئٹہ شہر کو صوبے کے دیگر علاقوں سے ملانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ان کی تعمیر بھی گزشتہ ایک سال سے تعطل کا شکار ہے۔ سبزل روڈ گولی مار چوک سے لیکر یونیورسٹی تک انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے جگہ جگہ گڑھے اور مٹی کے اٹھتے دھویں سے شہری مختلف امراض جن میں دمہ اور پیٹ کے امراض نمایاں ہیں کا شکار ہورہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پہلے سریاب روڈ کو توڑاگیا تو اسے مکمل کیا جاتا لیکن بدقسمتی سریاب روڈ کو جس تیزی سے توڑا گیا تعمیر اس رفتار سے نہیں کی گئی اور تاحال سریاب روڈ کی تعمیر کاکام مکمل نہیں ہوسکاتھا کہ سبزل روڈ کو توڑ کر شہریوں کے مسائل میں اضافہ کردیا گیا ہے اسی طرح سرکی روڈ کو گزشتہ 2سال قبل توڑا گیا اور کم وبیش 8ماہ تک روڈ کو بند رکھنے کے باوجود بغیر تعمیر کئے واپس ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا جس سے شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا کیونکہ سابقہ روڈ جیسا بھی تھا اس پر لک تو پڑی ہوئی تھی لیکن موجودہ حالت میں تو اس روڈ پر صرف پتھر ڈالے گئے ہیں جس سے شہریوں کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اسی طرح موسیٰ کالونی لنک روڈ پر بھی خاکہ ڈال کر چھوڑ دیا گیا ہے اور سبزل روڈ تو مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہے اس پر ارباب اختیار کی مہربانی کہ ہزار گنجی کے علاقے کے بولان میڈیکل کمپلیکس سے ملانے والے قمبرانی روڈ کو بھی شریف آباد سے لیکر سبزل روڈ تک توڑ کر اس پر پتھر اور خاکہ ڈال کر چھوڑدیا گیا ہے جس سے عوام کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اس لئے صوبائی وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے عوام نے اپیل کی ہے کہ شہر میں جاری سی پیک منصوبے کی شاہراہوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ اس وقت کوئٹہ شہر کی اکثریتی آبادی سریاب روڈ ‘ہزار گنجی‘ قمبرانی روڈ اور سبزل روڈ کی تعمیر میں تاخیر کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہے اور سب سے زیادہ متاثر ان علاقوں کے رہائش پذیر افراد ہیں جن کے بچے خاکہ اڑنے اور سانس میں جانے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں جبکہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانا بھی ٹوٹی شاہراہوں کی وجہ سے انتہائی مشکل امر ہے اس لئے ارباب اختیار کو چاہئے کہ وہ صوبائی دارالحکومت میں جاری شاہراہوں کی تعمیر کے کام کو جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا خاتمہ ہوسکے اور کوئٹہ شہر کی خوبصورتی بھی بحال ہوسکے کیونکہ اس وقت شہر سے ملحقہ علاقوں میں شاہراہوں سے اٹھتے مٹی کے بادل صرف اور صرف بیماریوں کو پھیلانے اور کوئٹہ شہر کی خوبصورتی کو ماند کرنے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں اس لئے اہلیان کوئٹہ ارباب اختیار سے بار بار ان شاہراہوں کی بروقت تکمیل کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ نہ صرف شہریوںکی مشکلات کا خاتمہ ہوسکے بلکہ شہر میں بڑھتی ہوئی سانس اور پیٹ کی بیماریوں کا بھی خاتمہ ممکن ہوسکے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.