ایک سالار سب کو چھوڑ کر چلے گئے
تحریر: علی آحمد
بحثیت مسلمان یہ ہمارا پختہ ایمان و یقین ہے کہ ہر انسان کو فنا ہونا ہے ۔بالکل قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے ۔
(کل نفس ذائقتہ الموت)
یعنی ہر سانس لینے والی شہ کو موت کا مزہ چھکنا ہوگا ۔قدرت خداوندی نے اس کائنات میں بہت ساری ایسی چیزیں تخلیق کی ہیں جن سے انسان کی محبت ضرور ہوتی ہے بالکل انسانوں میں بھی کچھ ایسے انسان ہوتے ہیں جو کہ ہر وقت اپنے عزیز و رشتے داروں اور چاہنے والوں کے لیے قیمتی ہیرے ہوتے ہیں یقینآ ان میں سے میر سالار خان سنجرانی جو کہ نہ صرف اپنے خاندان اور عزیز و اقرباء کے لیے ایک قیمتی ہیرے تھے بلکہ ان کی ناگہانی موت نے ضلع چاغی سمیت پورے بلوچستان بلکہ ملک بھر کے عوام کو سوگوار بنا دیا ۔
میر سالار خان سنجرانی جو کہ پاکستانی سیاست کے ایک چمکتے دمکتے ستارے اور ایوان بالا کی شان چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کے سب سے چھوٹے بھائی اور قبائلی رہنماء خان سنجرانی پینل کے روح رواں خان محمد آصف سنجرانی کے فرزند تھے آپ نے 12 دسمبر 1998 کو ملک کے انتہائی پسماندہ اور دور افتادہ علاقے نوکنڈی میں خان محمد آصف سنجرانی کے گھر میں آنکھ کھولی ۔ آپ کا چہرہ اپنے دادا و سنجرانی قبائل کے خان محمد عمر خان سنجرانی سے ملتا جلتا تھا ۔آپ پیدائشی طور پر ایک ہنس مکھ انسان تھے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے نوکنڈی سے حاصل کرلی اور مذید تعلیم کے لیے دالبندین کا رخ کرلیا اور گورنمنٹ ڈگری کالج دالبندین سے ایف اے پاس کرلی ۔
آپ کو لوگوں کی خدمت کرنے کا شوق اور جذبہ تھا یہ جذبہ انھیں وراثت کے طور پر ملی تھی کیونکہ ان کے دادا خان محمد عمر خان سنجرانی عوامی خدمت میں پورے ملک میں ایک نام رکھتے تھے سنجرانی قبائل کے ساتھ دیگر قبائل کے لوگوں کی خدمت ۔جھگڑوں کے فیصلوں میں بھی خان محمد عمر خان سنجرانی ایک نام رکھتے تھے ۔جبکہ سالار خان سنجرانی کے والد خان محمد آصف سنجرانی کی دریا دلی اور سخاوت پورے رخشان ڈویژن میں مثالی ہے
- Advertisement -
اسی طرح سالار خان سنجرانی کے بڑے بھائی چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی جو کہ کمال کے سیاست دان اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں ان کے بھائی ایم ڈی سیندھک پروجیکٹ حاجی رازق سنجرانی کا تو کوئی ثانی نہیں ۔سابقہ صوبائی مشیر میر اعجاز خان سنجرانی بھی لوگوں کی خدمت میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ضیاء سنجرانی بھی ان کے بھائی یہ بھی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں ان کے چچا خان محمد ابراہیم خان سنجرانی ایک قد آور شخصیت کے مالک ہیں یعنی میر سالار خان سنجرانی کو لوگوں کی خدمت بھلائی کے کام کرنے انصاف پسندی سخاوت بہادری اور مہمان نوازی جیسی صفات خاندانی طور پر وراثت میں مل چکی تھی ۔
آپ ہمیشہ اپنے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے کسی کو کیا معلوم کہ اتنا کم عمر انسان اور ایک نوجوان جو کہ دنیا کی تمام خوشیوں سے بے خبر ہو کر اپنے آباواجداد کی طرح لوگوں کی بھلائی کا کام کررہا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی بیشک ان لوگوں کو پسند فرماتا ہے جو کہ اس کے بندوں کی خدمت کرے اور مصیبت زدہ لوگوں کی داد رسی کرے ۔۔میر سالار خان سنجرانی نے کم عمری میں اپنی خدادا صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے میں ایک نام پیدا کر دیا وہ ہمیشہ اپنے قریبی رشتے داروں اور اپنے ہم عمر لوگوں کے ساتھ ہو کر بھی اپنے بزرگوں کا ہاتھ بٹھاتے اور فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ۔
سنجرانی قبائل کے یہ نوجوان اور خان سنجرانی خاندان کے یہ عظیم ہستی اور مستقبل کے ایک ہیرو اور چاغی سمیت بلوچستان بھر کے لیے سنہرے خواب سجائے یہ نوجوان کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز کوئیٹہ آنا چاہتے تھے کہ موسم کی خرابی اور فلائیٹ کینسل ہونے کی وجہ سے انھیں ٹو ڈی کار گاڑی کے ذریعے کوئیٹہ آنا پڑا مگر کس کو کیا پتہ کہ کراچی کوئیٹہ شاہراہ پر واقع ملک الموت 07 جنوری کی شام ایک کم عمر نوجوان کی روح لینے کے لیے اوتھل کے مقام پر بے آب و تاب کھڑی ہے کہ اس دوران ٹو ڈی کار گاڑی میں سوار میر سالار خان سنجرانی ڈرائیور یونس بلوچ سمیت ایک آئل ٹینکر سے ٹکرا گئے حادثہ اتنا شدید تھا کہ بڑی کوشش کے بعد دونوں زخمیوں کو نکال کر کراچی منتقل کردیا گیا مگر میر سالار خان سنجرانی نے نجی ہسپتال میں ڈاکٹروں اور اپنے بھائی و رشتہ داروں کی موجودگی میں ایک بار آنکھ کھولی بعد میں ابدی نیند لے کر ہمیشہ کے لیے چلے گئے ۔
(ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے) ۔
(بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا )
چاغی کے امیدوں کی کرن میر سالار خان سنجرانی کی ٹریفک حادثے میں موت واقع ہونے کی خبر ضلع چاغی سمیت پورے ملک میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی علاقے میں ہر عام و خاص اشکبار تھا کہ آیا خدا جان اس ننھے سے سالار خان کو کیا ہوا ۔یہ سوال ہر زبان پر تھی ۔
ان کی میت اگلے روز C-130 طیارے کے ذریعے کراچی سے دالبندین ائیرپورٹ پہنچا دی گئی جنھیں بعدازاں ایمبولینس کے ذریعے سنجرانی ہاوس دالبندین میں منتقل کر دیا گیا اور ان کے آبائی قبرستان دالبندین میں ہزاروں افراد کی آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا ۔چاغی کی تاریخ میں شاید پہلی بار یہ دیکھنے کو ملا کہ ایک نوجوان کی ٹریفک کے المناک حادثے میں موت واقع ہونے پر اتنے بہت سارے لوگ افسردہ تھے بلکہ ملک کی قدآور شخصیات جن میں چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی ۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید وفاقی وزراء شبلی فراز ۔اعظم سواتی سییٹرز ڈپٹی چئیرمین سینٹ مرزا محمد آفریدی۔وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو گورنر بلوچستان سید ظہور آغا ۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل ۔صوبائی وزراء۔اراکین اسمبلی۔ اعلی سرکاری حکام سمیت مختلف مکتبہ ء فکر کے لوگوں نے ہزاروں کی تعداد دیگر نے شرکت کی اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی ۔نماز جنازہ خلیفہ شبیراحمد ہیجباڑی نے پڑھائی۔
(آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے )۔ سالار خان سنجرانی کی المناک حادثہ میں موت واقع ہونے پر تعزیت کا سلسلہ سنجرانی ہاوس نوکنڈی میں جاری رہا جہاں پر اندرون ملک سمیت سمیت بیرون ممالک سے بھی سیاسی و قبائلی افراد نے مرحوم کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور ان کی درجات کی بلندی کے لئے بارگاہ خداوندی میں خصوصی طور پر دعائیں کی تین دن تک سنجرانی ہاوس کوئیٹہ جبکہ تین دن تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی کی رہائش گاہ پر سالار خان سنجرانی کی روح کی ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری رہا جہاں پر وزیراعظم عمران خان ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سمیت وفاقی و صوبائی وزراء اور بیوروکریٹس سمیت اعلی ججز نے بھی سالار خان سنجرانی کی مغفرت کےلئے دعا کی اور چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ہم سب کی یہی دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی میر سالار خان سنجرانی کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
آج میر سالار خان سنجرانی مرحوم کی چہلم ان کے آبائی علاقے نوکنڈی سمیت دالبندین چاغی کوئیٹہ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی جس میں اہلخانہ سمیت عزیز و اقارب اور علاقائی لوگوں نے شرکت کی مرحوم کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے قرآن خوانی کی گئی اور لنگر تقسیم کیا گیا ۔
[…] نیوز)قبائلی رہنماء میر سلمان کرد نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہاہے کہ نواب اکبر خان بگٹی […]