اسلام آباد(مسائل نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے الیکشن نہیں کرانے، عبوری سیٹ اپ کی طرف جا سکتے ہیں۔انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل شکست کے بعد حکومت الیکشن کرانے کو تیار نہیں،انتخابات کرانے کے دو ہی راستے ہیں۔آرمی چیف وزیراعظم کو فون کریں یا پھر اسٹیبلشمنٹ حکومت کے پیچھے سے ہٹ جائے۔
فواد چوہدری نے کہا حکومت انتخابات کرانے میں سنجیدہ نہیں۔ن لیگ کے اپنے ایم پی ایز ان کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے۔انہوں نے اپنے کیسز ختم کرانے تھے وہ کر دئیے۔مجھے نہیں لگتا نوازشریف پاکستان آئیں گے۔اسحاق ڈار اور سلیمان اپنے کیسز ختم کرنے آئے ہیں یہ واپس جائیں گے۔حکومت عبوری سیٹ اپ کی طرف تو جا سکتی ہے لیکن عام انتخابات کی طرف نہیں۔
عبوری سیٹ اپ کے لیے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اچھی امیدیں ہیں۔اسٹیبلشمنٹ میں نئی تبدیلی لانے میں ہمارا بہت بڑا ہاتھ ہے۔فوج کی لیڈر شپ کی تبدیلی میں ہمارا مکمل تعاون رہا۔صدر مملکت تاخیر بھی کر سکتے ہیں۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ بڑے فیصلے بڑے جلسوں میں کیے۔عمران خان کوئی نوازشریف یا شہباز شریف نہیں کہ بند کمروں میں فیصلے کریں۔
قبل ازیں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 20 مارچ سے پہلے عام انتخابات کا عمل مکمل ہوگا۔اگر پی ڈی ایم 20 دسمبر تک ملک بھر میں عام انتخابات کا کوئی حتمی فارمولا سامنے نہیں لاتی تو پنجاب اور خیبر پختونخواہ اسمبلیاں تحلیل کر دی جائیں گی جس کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں 20 مارچ سے پہلے عام انتخابات کا عمل مکمل ہو گا،اس ضمن میں اتحادیوں کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے اکابرین الیکشن نہیں چاہتے لیکن ملک کیسے چلانا ہے کوئی پتہ نہیں۔صرف وزیر بنانے اور بیرونی دورے کرنے سے ملک نہیں چلتے، یہ ایک پیچیدہ اور مشکل کام ہے جس کی اہلیت ان حکمرانوں میں نہیں،پاکستان کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے اور یہ مستحکم حکومت کے بغیر ممکن نہیں ہے جبکہ تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری اسد عمر نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے معاملے پر پارٹی میں اختلاف رائے موجود ہے
Get real time updates directly on you device, subscribe now.