شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن معطل
اسلام آباد (مسائل نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ میں شہزاد اکبر اور شہباز گل کی اسٹاپ لسٹ نے نام نکلوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سماعت میں کہا کہ جی کیا مسئلہ ہے۔بلیک لسٹ کے حوالے سے عدالت کا فیصلہ موجود ہے۔وکیل نے کہا کہ اس وقت کوئی وزیراعظم بھی ملک میں موجود نہیں تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ نوٹس جاری کرکے کل پوچھ لیتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے علاوہ کوئی نام بلیک میں مہیں ڈال سکتا۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا۔عدالت نے سیکرٹری داخلہ سے وضاحت طلب کر لی۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ سیکرٹری داخلہ کسی افسرکو عدالتی معاونت کے لیے مقرر کریں۔عدالت نے شہزاد اکبر اور شہباز گل کا نام نو فلائی لسٹ سے نکال دیا۔
- Advertisement -
وزارت داخلہ کا نوٹیفیکیشن کل تک کے لیے معطل کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل تک کے لیے سماعت ملتوی کر دی۔خیال رہے کہ ایف آئی اےنے سابق وزیر اعظم عمران خان کے متعدد قریبی ساتھیوں کے نام نو فلائی لسٹ میں شامل کیے تھے۔لسٹ میں شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام بھی شامل تھے۔-پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء اللہ تارڑ کے مطابق سابق معاونین خصوصی ڈاکٹر شہباز گل، شہزاد اکبر، عمران خان کے سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سمیت ڈاکٹر رضوان، گوہر نفیس ، ڈاکٹر ارسلان خالد کے نام نو فلائی لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا”ملک چھوڑ کر نہیں بھاگ سکتے۔ میں کب سے یہ بات کر رہا تھا۔انتقام، جھوٹ اور فریب کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا- اس حوالے سے سوشل میڈیا پر فہرست بھی گردش کر رہی ہے، جسے عطا اللہ تارڑ نے اپنے ٹویٹ میں شیئر کیا ہے- واضح رہے کہ چند روز قبل ریحام خان اور سعید غنی نے شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا-سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے عہدے پر فائز رہنے والے شہباز گل کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکا مطالبہ کیا تھا۔