آڈیو لیکس میں کوئی اندرونی یا مخالف ایجنسی ملوث نہیں
اسلام آباد (مسائل نیوز)وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ آڈیو لیکس میں کوئی اندرونی ایجنسی یا کوئی مخالف ایجنسی ملوث نہیں۔ اس میں لوگ انفرادی طور پر ملوث ہیں۔وزیراعظم طے کریں گے آڈیو لیکس کی تفتیش کہاں پیش کی جائے ۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کے خلاف اس مہم جوئی کے ذمہ داروں کے خلاف ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی بھی ہوگی۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی سوسائٹی میں پلاٹ خریدنا کوئی جرم نہیں ہے، جس آدمی نے پلاٹ کی رجسٹری کرنی ہوتی ہے وہ فیس ادا کرتا ہے، خریدار ادا نہیں کرتا ۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ میری وارنٹ گرفتاری پر پتہ فیصل آباد کا درجہ ہے، میں فیصل آباد میں دو دن رہ کر آیا اگر مجھے گرفتار کرنا تھا تو وہاں آ جاتے۔
- Advertisement -
میرے وارنٹ لینے کے لیے ریکارڈ ٹیمپر کر کے عدالت کو گمراہ کیا گیا۔خیال رہے گذشتہ روز ق عدالت کی جانب سے رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کیلئے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے جانے پر اینٹی کرپشن ٹیم وفاقی وزیر داخلہ کی گرفتاری کے لیے تھانہ سیکرٹریٹ اسلام آباد پہنچی۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق اسلام آباد پولیس نے رانا ثنا ء اللہ کی گرفتاری کیلئے کسی بھی طرح کے تعاون سے انکار کر دیا جس کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کی ٹیم تھانے سے روانہ ہوئی۔
اینٹی کرپشن حکام نے الزام عائد کیا کہ ہمارے ساتھ ناروا رویہ اختیار کیا گیا ،پولیس نے اینٹی کرپشن ٹیم کی آمد و روانگی کا اندراج بھی نہیں کیا۔ ہماری گاڑیاں تھانے سے باہر نکال دی گئیں۔ تھانے میں پیش آنے والی کارروائی سے عدالت کو آگاہ کریں گے۔صورت حال کے برعکس اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تھانے میں وارنٹ گرفتاری باقاعدہ وصول کیے گئے جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے ریکارڈ دینے سے انکار کردیا۔ ترجمان کے مطابق تھانے میں آمدوروانگی کا باقاعدہ اندراج بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو ہدایت کی گئی کہ وہ مروجہ طریقہ کار کے مطابق قانونی راستہ اختیار کریں۔