اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیر داخلہ راناثناء اللہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن جنرل باجوہ کے ساتھ کسی سمجھوتے میں شامل نہیں تھی، حکومت میں شامل کسی شخص نے کبھی نہیں کہا کہ ہمیں 28 نومبر کے بعد حکومت ملی،مریم نواز نے یہ کہا ہے تو وہ پارٹی لیڈر ہیں،اپنی رائے اظہار کر سکتی ہیں۔راناثناء اللہ نے کہا کہ جس ٹولے نے عمران خان کو مسلط کیا انہوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی کہ اس بدبخت کو ملک پر مسلط کیا جو ملک کو کسی حادثے سے دوچار کرنے والا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام میں اس بیانیے کے ساتھ جائیں گے کہ اس بدبخت عمرانی ٹولے نے 2016 میں ملک کو آگے لے جانے والی حکومت کے خلاف سازش کی۔ساڑھے تین سال میں ملکی معیشت کا ستیاناس کر دیا ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔
راناثناء اللہ نے کہا کہ الیکشن کب کرانے ہیں یہ کام الیکشن کمیشن اور عدلیہ کا ہے۔حکومت اپریل میں بھی الیکشن کے لیے تیار ہے اور اکتوبر میں بھی تیار رہے۔
- Advertisement -
ہماری صرف ایک رائے ہے اور وہ یہ ہے کہ انتخابات اکٹھے کرائے جائیں، ورنہ الیکشن متنازع ہوں گے اور ہارنے والا دھرنے دے گا۔قبل ازیں رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ دھمکی نہ دیتا تو ہم نے مستعفی ہو کر الیکشن کرانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ فری اینڈ فئیرالیکشن کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے، اگر الیکشن ہوں گے تو انشاللہ ہم تیار ہیں، حالیہ فیصلے سے پی ڈی ایم حکومت یا ن لیگ کا کوئی سروکارنہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ گورنر کے پی نے جو خط لکھا وہ ان کی ایک رائے ہے، ہم الیکشن میں حصہ لینے کیلئے بطور سیاسی جماعت تیار ہیں تاہم انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ الیکشن ہوئے تو اس سے سیاسی انتشار بڑھے گا، ہماری رائے ہے کہ الیکشن ایک ساتھ ہوں تو صاف شفاف ہوں گے۔