MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

تقریروں میں عمران خان حکومت پر تنقید دستاویزوات میں اقتصادی ترقی کا اعتراف‘

0 226

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز) ٹیکس چھوٹ 33.71 فیصد بڑھ کر17 کھرب 57 ارب روپے تک پہنچ گئی جو ایک سال پہلے کے 13 کھرب 14 روپے تھی ٹیکس کی چھوٹ کی لاگت نے مسلسل چوتھے سال اپنے بڑھتے رجحان کو جاری رکھا جس کی بنیادی وجہ برآمدی صنعتوں کی لاگ کم کرنے کے لیے خام مال اور نیم تیار شدہ اشیا پر دیا گیا استثنیٰ تھا.
ایف بی آر نے رواں سال جنوری میں زیادہ تر سیلز ٹیکس کی مد میں تقریباً 350 ارب روپے کی چھوٹ واپس لی جبکہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کھادوں اور مشینری پر جزوی چھوٹ دی گئی اس کے علاوہ حکومت نے جولائی اور مارچ 2022 کے درمیان 2 ارب 59 کروڑ ڈالر کی ڈیوٹی فری کووڈ 19 ویکسین درآمد کی گئی.

مالی سال 2018 میں ٹیکس استثنیٰ کی مالیت 5 کھرب 40 ارب 98 کروڑ روپے تھی جو مالی سال 2019 میں بڑھ کر 9 کھرب 72 ارب 40 کروڑ روپے، مالی سال 2020 میں 14 کھرب 90 ارب روپے اور مالی سال 2021 میں 13 کھرب 14 ارب روپے تک پہنچ گئی، جس کی بنیادی وجہ صنعت کاری کو فروغ دینے کے لیے تمام شعبوں کو ٹیکس میں رعایت دینا ہے ٹیکس میں استثنٰی ریاست کی جانب سے مختلف زمروں اور گروہوں میں آمدن پر دی گئی چھوٹ ہے.

- Advertisement -

اقتصادی سروے آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال میں حکومت نے روزگار پیدا کرنے کے لیے ترقی کی حکمت عملی پر عمل کرنے کے لیے صنعتوں اور زراعت کو بڑے پیمانے پر ریلیف دیا ہے، تحریک انصاف حکومت کے ابتدائی تین برسوں میں توجہ معیشت کے استحکام پر تھی اس حکمت عملی کے نتیجے میں، زراعت کی ترقی نے اپنے متوقع ہدف کو عبور کر لیا جب کہ مجموعی اقتصادی ترقی جون 2022 کے آخر تک تقریباً 6 فیصد ہو جائے گی انکم ٹیکس کی چھوٹ مالی سال 2021 میں 4 کھرب 48 ارب 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے کم ہو کر مالی سال 22 میں 3 کھرب 99 ارب 66 کروڑ 20 لاکھ روپے ہوگئی جو کہ 11 فیصد کی کمی ہے.
انکم ٹیکس میں کاروباری افراد کو دی گئی ٹیکس کریڈٹ کی لاگت گزشتہ سال ایک کھرب 5 ارب 34 کروڑ 20 لاکھ روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 65 ارب 46 کروڑ 50 لاکھ روپے رہ گئی الاﺅنسز کی استثنیٰ لاگت کا تخمینہ 10.625 ارب روپے ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں بہترفیصد کم یعنی 37.318 ارب روپے تھا. سیلز ٹیکس کی چھوٹ مالی سال 21 میں 578.456 ارب روپے سے 75 فیصد بڑھ کر 1.014 ارب روپے ہوگئی، جس کی بنیادی وجہ درآمدات پر چھٹے شیڈول کے تحت چھوٹ ہے، پانچویں شیڈول کے تحت زیرو ریٹنگ کے استثنیٰ کی لاگت 12.88 ارب روپے سے کم ہو کر 11.36 ارب روپے ہو گئی مسلسل کمی اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ حکومت نے پانچ برآمدی شعبوں کی زیرو ریٹیڈ معاملات ختم کر دیے 19-2018 میں ان پانچ شعبوں سے آمدنی کے نقصان کا تخمینہ 87 ارب روپے لگایا گیا تھا.

اقتصادی سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی ڈی پی میں ٹیکس کا تناسب مالی سال 2021 میں 8.5 فیصد سے مالی سال 2022 میں 10.8 فیصد تک پہنچ جائے گا مالی سال 2007 سے یہ تناسب 10 فیصد کو چھونے پر چند مستثنیات کے ساتھ 9 فیصد کے قریب منڈلا رہا ہے، سال 2018 میں تناسب 11.1 فیصد رپورٹ کیا گیا تھا ایف بی آر کو رواں سال جون کے آخر تک 58 کھرب 20 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے تاہم اس نے غیر رسمی طور پر رواں مالی سال کے لیے اپنے ریونیو ہدف کو 61 کھرب روپے تک بڑھا دیا ہے، اس وقت سیلز ٹیکس کل وصولی کا 42 فیصد ہے، اس کے بعد براہ راست ٹیکس 36.5 فیصد، کسٹمز 16 فیصد اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 6 فیصد ہے.
پاکستان اقتصادی سروے 22-2021 کے مطابق مارچ 2022 کے اختتام پر مجموعی عوامی قرضہ 44،366 ارب روپے رہا، جو کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں 4500 ارب روپے تک بڑھ گیا جبکہ 4500 ارب روپے میں سے وفاقی بنیادی خسارے کی فنانسنگ ایک ہزار47 ارب روپے تھی، سود کی ادائیگیوں میں 2 ہزار 118 ارب روپے خرچ ہوئے، کرنسی کی قدر میں کمی ایک ہزار 744 ارب روپے جبکہ حکومت کے کیش بیلنس میں 409 ارب روپے کی کمی رہی.
سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مجموعی بیرونی قرضہ مارچ 2022 کے آخر تک 88.8 ارب ڈالر (160 کھرب 29 ارب روپے) کو چھو چکا ہے، جو کہ مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں تقریباً 2.3 ارب ڈالر بڑھ گیا ہے کثیر الجہتی اور دو طرفہ ذرائع سے قرض کے ذخیرے میں، زیادہ تر رعایتی شرائط (کم لاگت اور طویل مدت) پر، خالص 2 ارب 90 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا یاد رہے کہ اس مدت کے دوران، توسیعی فنڈ سہولت کے تحت آئی ایم ایف سے تقریباً ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہوئی، جب کہ بین الاقوامی ترقیاتی بینک نے 80 کروڑ ڈالر فراہم کیے تھے، مزید 3 ارب ڈالر سعودی حکومت نے وقتی ڈیپازٹس کی صورت میں فراہم کیے تھے.
تجارتی قرضوں کے قرضوں کے ذخیرے میں تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی درج کی گئی، جس کی بنیادی وجہ چینی کمرشل بینکوں سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کے قرضوں کی واپسی ہے، مارچ 2022 میں قرضوں کی ادائیگی کی گئی تھی لیکن حکومت کو توقع ہے کہ فنڈز اس مہینے میں کسی وقت واپس آجائیں گے حکومت نے بین الاقوامی بانڈز (جولائی 2021 میں یورو بانڈز کے ذریعے ایک ارب ڈالر اور جنوری 2022 میں سکوک کے ذریعے ایک ارب ڈالر) کے اجرا کے ذریعے 2 ارب ڈالر بھی اکٹھے کیے ہیں اور سکوک کی میچیورٹی پر ایک ارب ڈالر کی ادائیگی بھی کی سروے سے پتا چلتا ہے کہ ملکی قرضہ مارچ 2022 کے آخر تک 28,076 ارب تک پہنچ گیا تھا جو کہ ختم ہونے والے مالی سال کے ابتدائی 9 مہینوں میں 1811 ارب روپے زیادہ تھا.
سود کی ادائیگی مجموعی عوامی قرضوں میں 4,500 ارب روپے کے خالص اضافے کا 2,118 ارب روپے ہے، بجٹ کا تخمینہ 3,060 ارب روپے تھا ملکی سود کی ادائیگیاں 1,897 ارب روپے ریکارڈ کی گئیں اور یہ مجموعی سود کی فراہمی کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہیں، جو بنیادی طور پر مجموعی عوامی قرضوں کے پورٹ فولیو میں مقامی قرضوں کے زیادہ حجم سے منسوب ہے.

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.