پاک فوج کے سیلاب متاثرین کے لئے ریسکیو اور ریلیف کے اقدامات
تحریر: کنول زہرا
بارشوں کی کثرت کی وجہ سے ملک سیلابی کیفیت سے دوچار ہے۔ اس وقت دریائے جہلم، راوی، چناب اور ستلج معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں جبکہ دریائے سندھ میں اٹک، چشمہ، تونسہ اور سکھر میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، کالاباغ، گڈو اور کوٹری میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے، تربیلا, دریائے کابل میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ نوشہرہ,ورسک اور دریائے سوات, اماندرہ اور منڈا میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔پاک فوج کی متاثرین کو سیلاب سے بچانے اور امداد کرنے کی کوششیں قوی جذبے کے ساتھ جاری ہیں, متاثرہ علاقوں میں 62 ہیلی پروازیں کی جا چکی ہیں۔246 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جاچکا ہے, 14.712 ٹن راشن/ امدادی اشیاء فراہم کی گئی ہیں,سیلاب متاثرین میں 7854
راشن کے پیکٹ اور 1600 خیموں کی تقسیم کی جا چکی ہے مختلف میڈیکل کیمپوں میں اب تک 29205 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ واضح رہے ان اعداد و شمار میں روز اضافہ ہو رہا ہے, یہ ریسکیو اور ریلیف کا عمل ابھی روکا نہیں ہے, دھرتی کے بیٹے جوان مردی سے اپنوں کے لئے کمربستہ ہیں, آرمی فلڈ ریلیف کوآرڈینیشن سینٹر ہیڈ کوارٹر آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ کے تحت کام کرتا ہے جس کا مینڈیٹ فوج کی سطح پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہم آہنگی میں ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو مربوط کرتا ہے۔ 217 ریلیف آئٹمز جمع کرنے کے پوائنٹس تمام فارمیشن ایریا میں جمع کیے گئے ہیں اور ریلیف اسٹورز کی اس کے بعد
تقسیم کی ذمہ داری ہے۔
چاروں صوبوں میں پاک فوج کی امدادی کاروائیاں
صوبہ بلوچستان, پاک فوج اور فرنٹیئر کور نے کوئٹہ، مسلم باغ، چمن، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، لہری، نصیر آباد، بیلہ، اُٹھل اور جعفر آباد کے علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے جو کہ خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ سیلاب متاثرین کے لیے کوئٹہ، مسلم باغ، سوئی، ڈیرہ بگٹی، سبی، دوبندی، لہری، سدوری، لکڑہ ضلع لسبیلہ میں فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں۔
صوبہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان، روجھان اور لیہ میں ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کیے گئے, پاک فوج نے سیلاب متاثرین ریسکیو کرکے خوراک اور دیگر سہولیات فراہم کیں۔ ضلع راجن پور میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی اور بچاؤ کی کوششیں کی گئیں تحصیل جام پور، نور پور ماجھو والا تہہ جام پور، موضع کان والا تہہ جام پور، ماڑی جام پور، دربار سخی بور جام پور، بمبلی جام پور، بستی نوخمی جام پور میں ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں۔
صوبہ سندھ میں پاک فوج نے ضلع خیرپور، ضلع لاڑکانہ، ضلع نوشہرو فیروز، ضلع شکارپور، ضلع قمبر شداد کوٹ، ضلع جیکب آباد، ضلع کشمور، ضلع بدین، ضلع میر پور خاص، ضلع سانگھہ، ضلع مٹیاری، ضلع عمرکوٹ، میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا۔ ضلع حیدرآباد، ضلع ٹنڈو محمد خان، ضلع ٹھٹھہ، ضلع جامشورو، ضلع بدین، ضلع سجاول، ضلع دادو۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں چار میڈیکل کیمپ لگائے گئے۔بدین، سجاول، ٹھٹھہ اور عمرکوٹ میں 1700 سے زائد مریضوں کا علاج کیا گیا
صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 150 افراد کے لیے امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ اٹک اور ایبٹ آباد میں فوج کی فارورڈ تعیناتی کی گئی ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 4x فیلڈ میڈیکل کیمپ لگائے گئے جہاں 715 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ چارسدہ میں سیلاب متاثرین کے لیے سات ریلیف کیمپ قائم کیے گئے جبکہ نوشہرہ اضلاع کی ہر تحصیل میں تین ریلیف کیمپ قائم کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاک فوج سول انتظامیہ کو ضروری مدد فراہم کررہی ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق میں چند دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کادورہ کررہا ہوں۔کل میں نے بلوچستان کے علاقے اوتھل اور بیلا جبکہ آج میں خیر پور سندھ آیا ہوں۔
یہاں بہت تباہی ہوئی ہے۔وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، پاکستان آرمی، نیوی، ائیرفورس اور فلاحی ادارے کوشش کر رہے ہیں کہ لوگوں کو ریلیف پہنچایا جائےاس سال سیلاب بہت بڑے پیمانے پر آیا ہے۔
اس کو ٹھیک ہونے میں، لوگوں کو ریلیف دینے اورRehabilitateکرنے میں بہت سال لگ جائیں گے۔
میں اپیل کرتا ہوں اپنے تمام پاکستانی مخیر حضرات سے کہ وہ اس مشکل حالات میں اپنے ان بھائیوں کی جو اس وقت بہت ہی مشکل حالات میں ہیں، ان کی مدد کریں۔ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن فیڈرل گورنمنٹ، صوبائی گورنمنٹ اور آرمڈ فورسز کے وسائل محدود ہیں۔
آپ لوگ سامنے آئیں اور جس طرح سے بھی مدد کرنا چاہتے ہیں آپ ان لوگوں کی مدد کریں۔تاکہ ان لوگوں کو ہم Rehabilitateکرسکیں۔
پاکستان آرمی نے مخیر افراد سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد میں اپنا حصہ ڈالیں
[…] نیوز) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا پہلا […]