اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ اور کشمکش بڑھتی جارہی ہے جو تصادم کی طرف کھنچ رہی ہے،نئی مخالفتیں اور رقابتیں جنم لے سکتی ،جنوبی ایشیاءمیں سٹرٹیجک استحکام کےلئے جوہری صلاحیتوں سے متعلق متفقہ طور پر طے شدہ پابندیاں اور روایتی افواج ناگزیر ہیں
،ہمیں قومی سلامتی حکمت عملی میں انسانی سلامتی کو مرکزیت دینے کی ضرورت ہے، سلامتی پر مبنی پالیسیز سے خطے میں ترقی اور خوش حالی کی طرف جانا ہوگا، پاکستان کی معاشی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ’سی پیک‘ خطے کو جوڑنے کیلئے بھی ایک اہم راستہ ہے،عمران خان حکومت قومی سلامتی کےلئے لاحق اس سنگین خطرے کا اداراک کرتے ہوئے ان اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہی ہے،جنوبی ایشیاءکی خوش حالی کے لئے خطے میں علاقائی تعاون لازم ہے۔
- Advertisement -
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پرامن اور خوش حال جنوبی ایشیاءکے عنوان سے اسلام آباد کانکلیو2021 سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے اس مجلس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لائق تحسین اقدام ہے۔ انہوںنے کہاکہ انسٹی ٹیوٹ نے وژن 2023 پر عمل درآمد کے ضمن میں نمایاں پیش رفت کی ہے،
اسلام آباد کانکلیو ان کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو انسٹی ٹیوٹ نے تحقیق اور مکالمے کے ذریعے پاکستان کے نکتہ نظر کے فروغ دینے کے لئے اٹھائے ہیں۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد کانکلیو‘ انسٹی ٹیوٹ میں کام کرنے والے پانچ مراکز،فضیلت (Centers of Excellence) کی پانچ سالہ کاوشوں کا نکتہ عروج ہے۔