MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

تاجروں نے شام 7 بجے مارکیٹیں بند کرنے سے انکار کر دیا

0 226

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلا م آباد (مسائل نیوز) تاجروں نے شام 7 بجے مارکیٹیں بند کرنے سے انکار کر دیا۔ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان انجمن تاجران نے شام 7 بجے دکانیں بند کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔صدر اجمل بلوچ نے حکومت کی طرف سے انرجی کنزرویشن کے لیے اعلان کردہ اقدامات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ تاجر کسی صورت اپنا کاروبار شام 7 بجے بند نہیں کریں گے۔
حکومت تاجر برادری کے لیے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ مشکلات کھڑی کرے۔ہر اس سیکٹر کی بجلی بند کی جائے جو مفت میں استعمال ہو رہی ہے۔حکمران اپنے اے سی بند کریں گے تو غریب کا پنکھا چلے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ تاجر شام 6 بجے سے رات 10 بجے تک سب سے مہنگی بجلی خریدتا ہے۔اتنی شدید گرمی میں خریدار کا نکلنا ممکن ہی نہیں۔

- Advertisement -

خریدار شام سے پہلے گھر سے خریداری کے لیے نہیں نکلتا لہذا صبح دکانیں کھولنے کی تجویز ناقابل عمل ہے۔

گذشتہ روزفاقی کابینہ نے ملک میں ہفتے کی چھٹی بحال کردی تاہم توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے مارکیٹوں کی شام 7 بجے بندش کا فیصلہ نہیں ہوسکا ۔ بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی حکومت نے بجلی کی بچت کے لیے ہفتے میں 2 سرکاری تعطیلات کرنے کا اصولی فیصلہ کیا جس کی کابینہ نے منظوری دے دی تاہم کابینہ کے اجلاس میں مارکیٹیں شام 7 بجے بند کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہ ہو سکا جس پر بازاروں کی جلد بندش سے متعلق کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ، کابینہ کی سب کمیٹی مارکیٹوں کی 7 بجے بندش سے متعلق تجاویز دے گی کیوں کہ بازاروں کے اوقات کار تبدیل کرکے دن کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔
وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے بتایا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے طریقوں اور توانائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ سپلائی چین میں کمی کا سامنا ہے کیوں کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے ایندھن کے بہت سے معاہدے نہیں کیے گئے ، پی ٹی آئی ان تمام منصوبوں کو چار سال میں نہیں چلاسکی جو ہمارے گزشتہ دورَ حکومت میں شروع کیے گئے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.