آئی جی پنجاب کی تذلیل
تحریر:
محمد شہزاد بھٹی
- Advertisement -
جس اخلاقی پستی کا شکار پاکستان تحریک انصاف ہے شاید کوئی اور جماعت نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے لیڈرز ہوں یا ورکرز اپنی اپنی اخلاقی پستی کا کھل کر اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ دھمکی آمیز رویہ اپنانے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تو پہلے ہی خاصے مشہور ہیں، اب وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف شاہ محمود قریشی بھی پیچھے نہیں رہے، شاہ محمود قریشی کی آئی جی پنجاب کو کھلی دھمکی کہ ”اگر ایک ایف آئی آر درج نہیں کروا سکتے تو لعنت ہے تیری وردی پر” شاہ محمود قُریشی نے یہ الفاظ اُس افسر فیصل شاہکار کو کہے ہیں جو اقوامِ مُتحدہ کی تاریخ میں پہلی بار پاکستان کی نُمائندگی بطور ‘یُو این پیس کیپنگ ایڈوائزر’ کرنے جارہا ہے۔ شاہ محمود قُریشی نے ایک افسر کو نہیں بلکہ پُوری پنجاب پُولیس کو گالی دی ہے۔ پہلے آئی جی اسلام آباد کو بار بار ہراساں کیا گیا، اُس کی کردار کُشی کی گئی اور اب آئی جی پنجاب کی تذلیل کی گئی۔ شاہ محمود قریشی کی طرف سے پنجاب پولیس کی وردی کے لیے نازیبا الفاظ کا استعمال ہزاروں شہداء پولیس کو گالی دینا شدید افسوسناک ہے، آئی جی پنجاب نے مزید خدمات سر انجام دینے سے معزرت کر لی۔ وزیر آباد کا واقعہ افسوسناک ہے، جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد سے ہمدردی ہے مگر اِس سانحے پر پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے الزامات کی نوعیت اور اُن کی حساسیت کے پیشِ نظر مقامی پولیس کی طرف سے انتہائی احتیاط ناقابلِ فہم نہیں ہے، حساس قومی اور سیاسی تنازعات سے جڑے مقدمات میں احتیاط کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی قریب میں مختلف سیاسی اور قومی رہنماؤں کے خلاف قومی اداروں اور مذہبی جذبات کی توہین جیسے الزامات کی درخواستوں پر بھی ایسی ہی احتیاط کا مظاہرہ کیا گیا، اِن سیاسی رہنماؤں میں شاہ محمود قریشی کی پارٹی کے رہنما بھی شامل ہیں۔ پولیس سیاسی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض سرانجام دیتی ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور معزز عدلیہ کو پولیس کی وردی کی توہین کا نوٹس لینا چاہیے انہیں بے لگام گھوڑوں کی طرح ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے اور انہیں قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔