آٹھ اکتوبر, بھارتی یوم فضائیہ
تحریر،کنول زہرا
دشمن ملک میں اپنے جنگی طیارے گرانے والے ملک بھارت کا یوم فضائیہ 8 اکتوبر کو منایا جاتا ہے. بھارتی فضائیہ کو اپنے لڑاکا طیاروں کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی بڑی فضائیہ مانا جاتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پاس 5 ہزار سے زائد، روس کے پاس 2244، چین کے پاس 2656 طیارے ہیں، جبکہ بھارت کے پاس 1600 کے لگ بھگ طیارے موجود ہیں۔اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 473 لڑاکا طیارے اور 135 اٹیک ایئر کرافٹ جبکہ نگرانی کے لیے مختلف نوعیت کے 13 طیارے ہیں۔ فضا میں ایندھن کی فراہمی کے لیے 6 فیول ٹینکر، 251 ٹرانسپورٹرز، 429 ہیلی کاپٹرز اور 429 تربیتی طیارے ہیں۔ اس پوری فضائیہ کو سنبھالنے کے لیے بھارتی فضائیہ نے بڑی افرادی قوت کو بھرتی کیا ہے۔ بھارت کی 7 ایئر کمانڈز اور 60 ایئر بیس آپریشن ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی بحریہ نے اپنے ایئر کرافٹ کیریئر کے لیے بھی الگ سے فارمیشن قائم کیے ہوئے ہیں۔غربت اور افلاس کے باوجود بھارت اپنے جی ڈی پی کا تقریباً 5 فیصد دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے,بھارتی فضائیہ میں پیشہ ورانہ عزم کی کمی ہر سطح پر دکھائی دیتی ہے۔ فضائیہ کی یہ حالت ہے کہ وہ پاکستان کی طرف سے آنے والے گیس کے غبارے سے بھی ڈر جاتی ہے اور اگر کوئی گیس کا غبارہ پاکستان کی سرحد سے بھارت میں داخل ہوجائے تو وہ اس قدر گھبرا جاتے ہیں کہ لڑاکا طیارے فضا میں اڑا دیتے ہیں۔ چند سال قبل بھارتی فضائی حدود میں ایک غبارہ جس پر سالگرہ مبارک کی عبارت لکھی تھی, اس دیکھ کر سورموں کے ہاتھ پیر پھول گئے, انہوں نے غبارے کو مارنے کے لئے فوری اپنا ایس یو 30 طیارہ فضا میں بھیجا۔ جس نے لگا تار فائر کیے, اس دلچسپ واقعے نے بھارتی فضائیہ کی کارکردگی کا پول کھو ل دیا, جس میں چند روپے کے غبارے کو مارنے کے لیے لاکھوں ڈالر کا اسلحہ خرچ کردیا گیا۔مزید مزے کی بات یہ ہے کہ ایسا ہرگز بھی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے بلکہ 27 جنوری 2016ء اور 14 جولائی 2018ء کو بھی بھارتی فضائیہ نے پاکستان سے آنے والے غباروں کو اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے زیر کیا تھا, 27 فروری 2019 بھارتی فضائیہ کی وہ شرمندگی ہے جو ہمیشہ ان کے منہ پر سیاہی کی صورت میں رہے گی جب ان کے دو جہاز پاکستان کے شاہینوں نے زیر کیے تھے, بھارتی فضائیہ کا پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن بھارت کی وہ سبکی ہے جسے وہ کبھی بھولا نہیں سکتے ہیں, وہ ابھی خفت مٹانے کے لئے اسے انعامات اور ترقی سے نواز کر اپنے لوگوں میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ وہ بہادر پائلٹ ہے جبکہ اس کے اقبال جرم کی ویڈیو اور غیور کشمیری سے مار کے کلپ آج بھی انٹرنیٹ کی زینت ہیں, اس واقعے نے بھی بتا دیا کہ بھارتی فیضائیہ کی کیا کارگردگی ہے, بھارتی فضائیہ جولائی 2021 میں پاکستان کی جانب سے 14 ڈورن آنے کا جھوٹ بھی بول چکی ہے مگر کسی ایک کو مار گرنے کے حقائق سامنے نہیں لاسکی ہے, دوسری جانب پاکستان ہر ایک بات کا سچ دنیا کے سامنے رکھنے کا عادی ہے, جس سے بھارت بار بار بے نقاب ہوتا ہے, بھارتی فیضائیہ کا حال یہ ہے کہ رواں سال مارچ میں ایک میزائل پاکستان پر داغ دیا, جس کا الله کے کرم سے کوئی جانی و مالی نقصان تو نہیں ہوا مگر بھارت کو ایک اور سبکی کا سامنا ضرور کرنا پڑا کیونکہ اتنا بڑا واقعہ محض غفلت کی بنیاد پر رونما ہوا, جس پر پوری دنیا میں ان کا ایک بار پھر مذاق بنا.بھارتی فوج میں خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ دشمنوں سے زیادہ ہندوستانی فوجی خودکشی کے کیسز میں مارے جاتے ہیں۔ • پچھلے چار سالوں میں، انڈین ائیر فورس کے 79 اہلکار خودکشی کر چکے ہیں, بھارتی مسلح افواج میں خود کشی کے اعداد شمار2001 سے اب تک 3,300 سے زائد ہیں, خودکشیوں کی کثیر تعداد فورسز میں نظم و ضبط کی کمی اور ناقص قیادت کی ترجمانی کرتی ہے. بھارتی فضائیہ میں مگ 21 طیاروں کو اڑتا ہوا تابوت بھی کہا جاتا ہے, واضح رہے, مگ 21 اور ایس یو 30 کا نشانہ پاکستان کے شاہین 27 فروری 2019 کو کرچکے ہیں, بھارتی فضائیہ کے حکام رواں سال جولائی میں ان طیاروں کو گراؤنڈ کرنے کا عندیہ بھی دے چکے ہیں, رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مگ-21 کا پہلا اسکواڈرن ستمبر میں ریٹائر کیا جائے گا جبکہ دیگر تین اسکوارڈن2025 تک گرائونڈ کردیے جائیں گے۔ اسی طرح بھارتی میڈیا نے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے 2027 تک اپنے مگ 29 لڑاکا طیارے بھی گرائونڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے, واضح رہے کہ گزشتہ 20 ماہ کے دوران بھارت میں 6 مگ 21 طیارے گر کر تباہ ہوئے جن میں سے ایک طیارہ رواں برس حادثے کا شکار ہوا۔ ان حادثوں میں 5 پائلٹس ہلاک ہوئے۔ تاہم 28 جولائی کو تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہونے والا مگ 21 طیارے کا حادثہ ماضی قریب میں پیش آنے والا مہلک ترین حادثہ تھا جس میں دو پائلٹس ہلاک ہوئے۔ بھارت میں مجموعی طور پر 60برس کے دوران 400سے زائد مگ 21طیارے حادثے کا شکار ہوئے جن میں 200سے زائد پائلٹس ہلاک ہوئے ۔ بھارتی فضائیہ کے پاس اس وقت تقریباً 70 مگ-21 طیارے موجود ہیں۔ خیال رہے کہ فروری 2019 میں پاک بھارت فضائی معرکے میں پاکستان ایئرفورس (پی اے ایف) کے ہوابازوں نے بھارتی ایئر فورس (آئی اے ایف) کا مگ-21 اور ایس یو 30 طیارے مار گرائے تھے اسی طرح 1999 کی کارگل جنگ میں بھی پاکستانی فورسز نے بھارت کا مگ-21 طیارہ مار گرایا تھا۔ مگ 21 کے دیگر واقعات کے مطابق 2002 میں، MiG-21 جالندھر میں ایک دفتر کی عمارت سے ٹکرا گیا، جس میں 8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے۔ حادثے کی وجہ تکنیکی خرابی تھی۔ 2014 میں، MiG-21 جیٹ جموں اور کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ جولائی 2018 میں، ایک اور MiG-21 ہماچل پردیش میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ 2021 میں، ہندوستانی فضائیہ (IAF) کے پانچ MiG-21 لڑاکا طیارے گر کر تباہ ہوگئے، جس میں تین ہندوستانی پائلٹ ہلاک ہوگئے۔ 2003 اور 2013 میں 38 مگ 21 طیارے گر کر تباہ ہوئے۔ ہندوستانی میڈیا نے فلم “رنگ دے بسنتی” میں انڈین ائیر فورس کی نااہلی اور ونٹیج طیاروں کے استعمال کو دکھایا گیا، جس سے جانیں ضائع ہوئیں۔1971 سے اب تک بھارتی فضائیہ کے 400 سے زائد مگ-21 طیارے گر کر تباہ ہوچکے ہیں۔بھارتی فوج میں کرپشن کی تاریخ کچھ نئی نہیں ہے, بھارتی فوج میں کرپشن کے حوالے سے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل کی دو رپورٹوں میں بھی متعدد انکشافات کئے گئے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوجی افسر سیاچن اور سکم کے سرد ترین علاقوں میں تعینات فوجیوں کے لئے مقامی فرم سے ناقص بوٹ خرید جاتے ہیں,بھارتی فوج میں پائی جانے والی کرپشن کی ایک مثال1999ء میں اس وقت سامنے آئی جب کارگل کی جنگ میں پاک فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے بھارتی فوجیوں کی لاشیں جلانے کے لئے نئی دہلی واپس لانے کی غرض سے ایک کھیپ کے طور پر پانچ سو تابوت خریدے گئے۔ ریکارڈ میں فی تابوت قیمت ڈھائی ہزار ڈالر ظاہر کی گئی جو مارکیٹ سے تیرہ گنا زیادہ تھی۔جنرل (ر) ایس پی مرگائی کو دفاعی خریداری کے معاملے میں 70,000 روپے کی رشوت لینے کا قصوروار پایا گیا۔ بھارتی وزارت دفاع کے مطابق 2010 سے اب تک مسلح افواج کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات درج ذیل ہیں۔ 1. انڈین آرمی: 10462. انڈین فضائیہ: 293۔بھارتی بحریہ: 05 2019 میں سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے ادارے نے 2009 میں 75 بنیادی تربیتی طیاروں کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں ہندوستانی فضائیہ، وزارت دفاع، ہتھیاروں کے ڈیلر سنجے بھنڈاری اور سوئٹزرلینڈ میں قائم پیلاٹس ایئرکرافٹ لمیٹڈ کے نامعلوم اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ دوران تفتیشی ایجنسی نے الزام لگایا ہے کہ اس سودے میں 339 کروڑ روپے کی کک بیکس ادا کی گئیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دسمبر 2016 میں3600 کروڑ روپے کی کرپشن کے الزام میںسابق ایئر چیف مارشل ایس پی تیاگی کو گرفتار کیا گیا, انہیں ہیلی کاپٹرز کی خریداری میں غیر شفاف ڈیل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا.یہ ہے بھارتی سورماوں کی وہ حقیقت جو زبان زد عام ہے پھر بھی پاکستان پڑوسی ملک کو ان کے یوم فضائیہ کی مبارکباد دیتا ہے, بھارت کو ابھی نندن مبارک