مولوی کی ڈکشنری میں موت کا لفظ تو ہوسکتا ہے مگر خوف کا نہیں،حافظ حمد اللہ
کراچی (ویب ڈیسک)مدینہ مسجد کے معاملے پرسپریم کورٹ کے فیصلے کے حوالے سے اہل علاقہ اور سیاسی و مذہبی جماعتوں نے احتجاج کیا۔اس احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان پاکستان ڈیمو کریٹک مومنٹ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آج اس عظیم الشان مظاہرے میں شریک لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔تمام پارٹیوں کے لوگ یہاں شامل ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے یہ کسی ایک کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے۔حافظ حمداللہ نے کہا کہ اس ملک میں اصل حکومت اہم قوتوں کی ہے۔
- Advertisement -
ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن عدلیہ فیصلے پر نظر ثانی کرے۔پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ مدینہ مسجد غیر قانونی جگہ پر قائم ہے۔اس زمین پر مسجدتمام متعلقہ اداروں سے اجازت کے بعد تعمیر کی گئی۔آپ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس مسجد میں نماز ہوسکتی ہے۔تو جناب آپ اس کا جواب وفاقی شرعی عدالت سے پوچھ لیں۔یہ کیسی ریاست مدینہ ہے۔ جہاں مسجدیں گرانے کے احکامات جاری کئیے جارہے ہیں۔مولوی کی ڈکشنری میں موت کا لفظ تو ہوسکتا ہے
مگر خوف کا نہیں۔اگر پارک ضروری ہے تو جھیل پارک کو بحال کیا جائے۔ہم مسجد کو گرانے نہیں دیں گے۔لوگ مسجد چاہتے ہیں پارک نہیں۔ جمیعت علما اسلام سندھ کے جنرل سیکرٹری راشد محمود سومرونے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سرکاری زمین پر اسکول یونیورسٹی کالج بعد میں بنے گا۔سرکاری زمین سب سے پہلے جو عمارت بنی گی وہ مسجد ہوگی۔ہم کسی صورت مسجد نہیں گرنے دیں گے۔یہاں سیکولر نظام نہیں چلے گا صرف مدینے کا ہی نظام چلے گا۔مسجد قائم تھی اور رہے گی۔