شناختی کارڈ میں نادرا کا نیا مجوزہ فیچر، جانیں کیسے بنے گا زندگی بچانے والا کارڈ؟
اسلام آباد(مسائل نیوز)قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) عوام کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) میں خون کے گروپ کی معلومات شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ قدم ہنگامی طبی امداد کو بہتر بنانے اور قیمتی جانیں بچانے کے مقصد سے تجویز کیا گیا ہے۔
یہ تجویز پنجاب اسمبلی میں رکنِ اسمبلی احمد اقبال چوہدری کی پیش کردہ ایک متفقہ طور پر منظور شدہ قرارداد کے بعد سامنے آئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ حادثات یا طبی ہنگامی حالات کے دوران اگر کسی شخص کے خون کے گروپ کی فوری معلومات دستیاب ہوں تو اسپتالوں اور ریسکیو ٹیموں کے لیے بروقت علاج اور خون کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔
- Advertisement -
قرارداد کے مطابق خون کے گروپ سے متعلق معلومات کی فوری دستیابی نہ ہونے کے باعث سڑک حادثات، طبی ایمرجنسیوں اور قدرتی آفات جیسے نازک حالات میں تاخیر پیدا ہو جاتی ہے، جس سے کئی قیمتی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
شناختی کارڈ پر یہ معلومات شامل کرنے سے ایمرجنسی طبی خدمات کی رفتار اور مؤثریت میں نمایاں بہتری آسکتی ہے اور ملک کے مجموعی ریسکیو و ہیلتھ ریسپانس سسٹم کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
اگر یہ تجویز نافذ ہو جاتی ہے تو یہ نادرا کے نظام میں ایک اہم جدید قدم ہوگا، جس کے تحت قومی شناختی کارڈ صرف شناخت کا ذریعہ نہیں بلکہ جان بچانے والی معلومات کا حامل دستاویز بھی بن جائے گا۔