اوسط درجے کے نجی تعلیمی ادارے
عبد الغنی شہزاد
- Advertisement -
ہمارے ملک میں کچھ نعرے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر مشہور کئے گئے ہیں ۔ مثلاً سیاست مفاد پرستی کا نام ہے، سیاست دان چور ہیں۔ سارے ڈاکٹرز قصائی ہیں۔ پرائیویٹ ہسپتال منافع بخش کاروبار ہے۔ پرائیویٹ سکولز والے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں۔ اس قسم کی مثالیں تقریباً ہر شعبے کے حوالے سے مشہور ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایک دوست نے فیس بک پر وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا تھا کہ پرائیویٹ سکولوں کے خلاف ایکشن لیں کہ وہ چھٹیوں یعنی جنوری فروری کی فیس کیوں لیتے ہیں میں نے کہا کہ اگر وہ فیس نہ لیں تو جنوری فروری کے مکان کرایہ اور تنخواہیں کہاں سے دیں تو موصوف نے جواب دیا کہ پھر ایسے ادارے بند ہونے چاہیے جو پورے سال کمائی کرتے ہیں مگر دوماہ کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا جذباتی انداز سے محسوس ہوا کہ واقعی یہ توجہ طلب مسئلہ ہے ۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ کسی بھی ادارے یا جماعت کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا انتہائی غیر مناسب عمل ہے ۔ تمام سیاستدان چور نہیں۔ تمام ڈاکٹرز قصائی نہیں بلکہ میں تو ان ڈاکٹرز کو بھی جانتا ہوں جو مدارس اور یتیم خانوں کو اپنی جیب سے چلاتے ہیں۔ جہاں تک لوٹنے جیسے گھٹیا الفاظ کا استعمال ہے وہ ہر دکان ہر کاروبار، ہر محکمہ کے حوالے سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور سب سے زیادہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بجٹ خرچ کرنے کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ لوگ تو مدارس اور ملک بھر میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنے والےمقدس رفاحی اداروں کو بھی معاف نہیں کرتے۔ لہذا ضروری ہے کہ لوگ اچھے اور برے کی تمیز کرکے غلط کو غلط صحیح کو صحیح کہیں ۔ محض معروف اور آئیڈیل باتوں کے ذریعے ان اداروں کی حوصلہ شکنی نہ کریں جو انتہائی نیک جزبے سے قوم اور ملت کی خدمت میں روشن کردار ادا کررہے ہیں ۔ ہمارے بلوچستان میں نجی تعلیمی اداروں میں سب سے زیادہ سی کٹیگری یا اوسط درجے کے ہیں جنہوں نے حکومت سے کافی بوجھ اپنے سر لیا ہے ، ان کی فیس تین سو سے لے کر دوہزارتک ہے، مختلف ناموں سے پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشنز کے ذمہ داران کا تعلق بھی اکثر سی کٹیگری سے ہے، ان بچاروں کی جدوجہد کا فائدہ بادی النظر میں اے کٹیگری کو پہنچتا ہے ، مگر اے کیٹگری کے نجی تعلیمی اداروں میں بچوں کے داخلے کے لئے وزراء بھی لائن میں کھڑے ہونے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ بدقسمتی سے محکمہ تعلیم کی جانب سے جو بھی حکم نامہ یا تادیبی کاروائی آتی ہے اس سے براہ راست یہ غریب ادارے زد میں آتے ہیں، جو پہلے سے مکان مالکان اور والدین کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہیں۔ کوڈ کے دوران سب سے زیادہ اوسط درجے کے نجی سکولز بند ہوگئے، سالوں سال محنت کرنے والے غریب اساتذہ اور پرنسپل صاحبان ہوٹلوں میں مزدوری پر مجبور ہوئے بہت سارے سفید پوشی کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہوئے۔ دوسری جانب محکمہ تعلیم کی جانب سے رجسٹریشن کیلئے وہ شرائط رکھی گئی ہیں جو لندن کے کسی پوش علاقے میں واقع سکول بھی پورا کرنے سے قاصر ہے ۔ ضروری ہے کہ حکومت اس قسم سی کٹیگری کے سکولوں سے تعاون کرتے ہوئے ان کیلئے رجسٹریشن کی شرائط نرم کردے، اور مالی تعاون کرے۔ اگرچہ
آئین کے آرٹیکل 37-Bکے مطابق ناخواندگی کا خاتمہ اور معیاری تعلیم کی بلا معا وضہ فراہمی ریاستی ذمہ داری ہے۔ لیکن معاشی مسائل کا شکار اور دفاعی امور پر توجہ دینے والی ریاست نان شبینہ کے محتاج عوام کو صاف پانی تک کی فراہمی میں ناکام ہے تو صحت اور تعلیم تو دور کی بات ہے ۔
آج اگر تعلیمی شعبے کا بغور جائزہ لیا جائے تو محسوس ہو گا کہ نجی شعبہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک ناگزیر حصہ بن چکا ہے۔مگر جہاں ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نجی شعبے کا آگے آنا سود مند ثابت ہوا وہیں ہمارا تعلیمی نظام دوہرے پن کا شکار ہوا۔نجی تعلیمی اداروں اور سرکاری تعلیمی اداروں کا موازنہ کیاجائے تو کیا جائے تو دونوں شعبوں کی اپنی اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔یونیسکو کے ایک آرٹیکل کے مطابق پاکستان میں سرکار کے تحت کل163,000پرائمری،14,000لوئر سیکنڈری اور 10,000ہائر سیکنڈری سکول ہیں۔دوسری طرف ایک رپورٹ کے مطابق کل 1,73,110نجی سکول ملک کے طول و عرض میں کام کر رہے ہیں۔جن میں سے 97810پنجاب،32850سندھ،24660خیبر پختونخواہ ،5880بلوچستان اور 2380اسلام آباد میں ہیں۔جب کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریبا9450نجی سکول ہمارے نظام تعلیم کا حصہ ہیں۔ان 1,73,110 نجی سکولوں میں تقریبا 2,38,39,431بچے زیر تعلیم ہیں۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے تعلیم کے میدان میں سرکاری اور نجی اداروں کی اتنی بڑی شراکت کے باوجود ابھی بھی ایک بڑی تعداد سکولوں سے باہر ہے ۔الف اعلان کی ایک رپورٹ کے مطابق ابھی بھی 5سے16کی عمر کے 25ملین بچے سکول نہیں جاتےجو لمحہ فکریہ ہے۔