MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سندھ طاس معاہدہ کی بھارتی خلاف ورزیاں اور معصوم کشمیری

0 250

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان ، بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور عالمی بینک کے صدر کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر 19 ستمبر 1960ء کو دستخط ہوئے تھے جس سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا تعمیری منصوبہ شروع ہوا تھا۔۔!
سندھ طاس معاہدہ کیا تھا ؟
سندھ طاس معاہدہ یا Indus Water Treaty کے مطابق منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر کے علاوہ پانچ بیراج ، ایک سائفن اور آٹھ الحاقی نہریں بنائی گئی تھیں۔ اس معاہدے کے تحت تین مغربی دریاؤں ، سندھ ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان اور تین مشرقی دریاؤں ، راوی ، ستلج اور بیاس کے پانیوں پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا تھا۔ بدلے میں بھارت نے پاکستان کو 62 لاکھ پونڈ ادا کیے تھے جو 125 میٹرک ٹن سونا کے برابر تھے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو دس سال کا عرصہ بھی دیا گیا تھا جس میں الحاقی نہروں کی تعمیر سے راوی اور ستلج کی پیاس بجھائی گئی تھی۔ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے وؤلڈ بینک کے علاوہ برطانیہ ، امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ اور مغربی جرمنی نے بھی فنڈنگ کی تھی۔
دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام
یاد رہے کہ پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ، انگریزوں کا اس خطے پر بہت بڑا احسان تھا جو چار کروڑ پچاس لاکھ ایکڑ زرعی زمین کو سیراب کرتا ہے۔ 1909ء میں شروع ہونے والے اس عظیم منصوبے کے ذریعے دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم کے علاوہ 85 چھوٹے ڈیم ، 19 بیراج ، 45 نہریں ، 12 رابطہ نہریں اور 7 لاکھ ٹیوب ویل قائم کئے گئے ہیں۔ 1932ء میں سکھر بیراج مکمل ہوا تھا جو دنیا کا سب سے بڑا آب پاشی کا نظام تھا۔ قیام پاکستان کے بعد سب سے بڑا منصوبہ سندھ طاس معاہدہ تھا۔
منگلا اور تربیلا ڈیم کس نے بنائے تھے؟
اس سلسلے میں مرزا اختیار بیگ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ صدر ایوب خان نے اس وقت ملک کے دو بڑے بیورو کریٹس غلام اسحاق خان اور غلام فاروق کے ذمہ یہ کام سونپے۔ غلام فاروق امریکہ گئے اور ورلڈ بینک کے صدر یوجین رابرٹ سے ڈیم ڈیزائن کرنیوالی 10بڑی کمپنیوں کی فہرست لی اور ان سے پوچھا کہ ان میں سے کون سی کمپنی کا سربراہ امریکی صدر کے قریب ہے۔ ورلڈ بینک کے صدر نے مسکراتے ہوئے فہرست کی تیسری کمپنی پر انگلی رکھی اور وہ کمپنی ہارزا انجینئرنگ تھی۔ کمپنی کا سی ای او امریکی صدر کے ساتھ گولف کھیلتا تھا۔ غلام فاروق نے کمپنی کے سی ای او سے ملاقات کی اور پہلی میٹنگ میں ہی اسے منگلا ڈیم کی ڈیزائننگ کا کام سونپ دیا گیا۔ غلام فاروق نے آرڈر دینے میں نہ تو پیپرا قوانین لاگو کئے اور نہ ہی انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ کوئی ادارہ ان سے یہ پوچھ سکتا ہے کہ آپ نے پہلی دو کمپنیوں کو چھوڑ کر یہ کام تیسری کمپنی کو کیوں دیا کیونکہ اس دور میں یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ کوئی بے ایمان یا نالائق افسر کسی اعلیٰ عہدے پر پہنچ جائے۔ ہارزا انجینئرنگ سے یہ معاہدہ ہوا کہ کمپنی 270امریکی انجینئرز پاکستان لائیگی اور ہر امریکی انجینئر دو پاکستانی انجینئر کو تربیت دیگا۔ پاکستان نے 1962ء میں منگلا ڈیم کی تعمیر کا عالمی معاہدہ کیا جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سول انجینئرنگ کنٹریکٹ تھا۔ پاکستان کے پاس ڈیم کی تعمیر کیلئے مجموعی لاگت کا صرف 15فیصد تھا جبکہ باقی 80فیصد رقم ہمیں 17ممالک نے گرانٹ کی شکل میں دی۔ 2سال بعد تربیلا ڈیم پر بھی کام شروع ہو گیا جو منگلا ڈیم سے دگنا بڑا منصوبہ تھا جس کا 3ممالک کی کمپنیوں نے مل کر ٹھیکہ لیا۔  تربیلا ڈیم اس دور کا اہرامِ مصر تھا اور پوری دنیا کی انجینئرنگ یونیورسٹیوں نے اس پر مقالے لکھے۔ منگلا اور تربیلا ڈیم اپنی مدت سے کم وقت میں مکمل ہوئے اور دنیا پاکستان کے جذبے، شفافیت اور قوتِ فیصلہ کی معترف ہو گئی۔
ورلڈ بینک نے پاکستان کو منگلا اور تربیلا ڈیم کے علاوہ کالا باغ ڈیم بنانے کی بھی تجویز دی تھی جو منگلا اور تربیلا کے مقابلے میں نسبتاً آسان تھا چنانچہ واپڈا نے فیصلہ کیا کہ ہم امریکی انجینئرز سے منگلا اور تربیلا ڈیم بنوا لیتے ہیں اور اس دوران ہمارے تربیت یافتہ انجینئرز خود کالا باغ ڈیم بنا لیں گے۔ یہ ہماری وہ غلطی تھی جس کا قوم آج تک خمیازہ بھگت رہی ہے۔
1958ء سے 1971ء تک اللہ تعالیٰ نے پاکستان میں ترقی کے دروازے کھولے
بھارت نے آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی مکمل خلاف ورزی 1999ء میں کی جب دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم کی تعمیر شروع کردی۔ آپ اندازہ لگائیں کہ بھارت کی اس آبی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کی 67 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو پانی سے محروم کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ دریائے چناب سے پاکستان کو سالانہ تقریباً 92لاکھ ایکڑ اراضی سیراب کرنے کی ضرورت ہے اور یہ پاکستان کا بھارت کے ساتھ مذکورہ معاہدے کے تحت حق بھی ہے لیکن بگلیہار ڈیم کی تعمیر کی وجہ سے دریائے چناب سے پاکستان کی صرف 25لاکھ ایکڑ اراضی مشکل سے سیراب ہونے لگی۔ اس بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان نے پرزور احتجاج کیا جس پر پاک بھارت کے درمیان متعدد بار مذاکرات ہوئے، مذاکرات کا یہ دور 1999ء سے 2004ء تک چلتا رہا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مذاکرات بے نتیجہ رہے۔
آخرکار 18اپریل 2005ء کو پاکستان نے عالمی بینک کو صورتحال سے آگاہ کیا اور عالمی بینک کی ثالثی سے طے پانے والے سندھ طاس معاہدہ کے آرٹیکل 9 کی شق2کا حوالہ دیتے ہوئے فوری طورپر غیر جانبدار عالمی ماہرین کا تقرر کرنے کی درخواست کی تا کہ یہ مسئلہ حل ہو سکے۔ اس پر عالمی بینک کی مقرر کردہ
ٹیم نے دوسال کے بعد یعنی 2007ء میں بعض شرائط کے ساتھ بھارت کو بگلیہار ڈیم بنانے کی اجازت دے دی۔ بھارت نے اسی سال اس فیصلے کے بعد کشن گنگا ڈیم کی تعمیر بھی شروع کر دی اور یوں یہ ڈیم بھی تعمیر ہوگیا۔جب سے ہندوستان نے مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت کو ختم کرکے آرٹیکل 370 منسوخ کیا ہے, جب سے دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدے مزید التوا کا شکار ہوگیا  ہے, بھارت, غیور کشمیریوں کو اپنا غلام بنانا چاہتا ہے, ان کے ڈومیسائل کے حق سے محروم کرکے ان کی ملازمتوں پر ڈاکہ ڈال رہا ہے, جبکہ وہ 75 سال سے وادی پر قابض بھی ہے اور معصوم کشمیریوں پر مسلسل ظلم کر رہا ہے, پاکستان بھارت کی جارحیت کے خلاف ہے اور معصوم کشمیریوں کو ان کا حق دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے, جس پر بھارت کو شدید اعتراض ہے, اس وجہ سے وہ پاکستان کے خلاف ہر ممکن اقدامات کرتا ہے, اسی وجہ سے ہندوستان سندھ طاس کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا مشتاق ہے مگر ورلڈ بینک کی ثالثی کی وجہ سے ایسا کرنے سے معزول ہے.
پاکستان, کشمیریوں کو ان کے حقوق دلانے کے لئے عالمی دنیا کو متوجہ کرتا رہے تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے, اسی لئے بھارت کو پاکستان کھٹکتا ہے, اسی لئے کبھی کل بھوشن, کبھی ابھی نندن, کبھی کبوتر, کبھی غبارے, کبھی ڈرون جیسے احمق کردار اور کہانیاں دیکھنے اور سننے کو ملتی رہتی ہیں, تاہم پاکستان, ہندوستان کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرتا رہے گا. انشا الله

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.