یاد رکھے گا جنہیں زمانہ برسوں،تحریر:محمد اسلم
کتنا مشکل ہوتا ہے کہ ایک شہرتیافتہ شخصیت کے زندگی کے لمحات، کارکردگی، خوبیوں، سیاسی کیریٸر وغیرہ کے بارے میں کچھ لکھا جاٸے جو انصاف کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر اپنے برادی، سماج، علاقہ، ضلع و صوبے کی بہتری کے جدوجہد میں فرنٹ لاٸن پر خدمات سر انجام دے کر تاریخ کے صفحہ جات میں اپنا نام زندہ کر رکھا ہو۔ ملک بھر خصوصاً بلوچستان کے سیاست دانوں کے اسما۶ گرامی کو اُن کے خدمات کے پیش نظر چُن چُن کر گنے جاٸیں
تو بیسویں صدی کے جن اشخاص کا زکر ہوگا اُن میں جام محمد یوسف عالیانی کا نام فرنٹ لاٸن پر تصور و شمار ہوتا ہے۔ جام محمد یوسف عالیانی کی 32 سالہ سیاسی کیریٸر، عوامی و سماجی خدمات کی پوٹلی کو صرف ایک تحریری صورت میں لکھنا مشکل، نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے مگر آج میرا مقصد انہیں اُن کے برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنا مقصود ہے۔ اُن کے شخصیت سے وابستہ چند انمول باتیں، سیاسی کیریٸر، عوامی خدمات کے چند اہم پہلوٶں کا زکر کرنا اپنا خوش بختی سمجھتا ہوں۔ کیلنڈر میں ماہ فروری کی تین تاریخ کا ہندسہ آتے ہی جام محمد یوسف عالیانی کے ناقابل بھول یادیں ستانے لگتے ہیں۔ خیر وہ خود تو ہمارے درمیان نہیں رہے مگر اُن کے خدمات کی جھلکیوں کو آپ قارٸین کے سامنے جو قرض مجھ پر بیان کرنے کا ہے۔ دعا ہیکہ یہ سلسلہ تاحیات برقرار رکھ کر ادا کرتا رہوں۔
عالیانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے دسویں جام، جام محمد یوسف عالیانی 15 فروری 1954 بمطابق 11 جمادی الثانی 1373 ہجری کو بیلہ لسبیلہ میں جام میر غلام قادر کے گھر پیدا ہوٸے۔ گھر کے سیاسی ماحول، تعلیم یافتہ والدین کی بنا۶ پر جام محمد یوسف کو کم عمری ہی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرانے کے سلسلے میں کراچی بھیجا گیا۔ جہاں سے ایم اے کرنے کے بعد ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کرکے واپس اپنے آباٸی علاقہ بیلہ آٸے۔
والدین کی بہترین رہنماٸی، اچھے دوستوں کے صحبت کی بدولت جلد سیاست کے نشیب و فراز سے واقف ہو گٸے اور باقاعدہ سیاسی کیریٸر کی شروعات بطور ضلعی چیٸرمین 1981 میں کیا۔ چیٸرمین شپ سنبھالتے ہی لوگوں کی خدمت میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔ شب و روز اپنے فرض کو نبھاتے و لوگوں کے مساٸل کو کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے۔ اور لوگوں سے اچھے رویہ کے ساتھ پیش آتے۔ انہی بدولت جام محمد یوسف کی مقبولیت میں دن دگنی رات چگنی اضافہ ہوا۔ انہی دوران جام یوسف کے والد جام میر غلام قادر کی لندن میں اچانک وفات جیسے سانحہ نے جام یوسف سمیت اہل لس کو ایک غم میں مبتلا کر دیا۔
جام میر غلام محمد کی وفات کے بعد ایک بڑے پروگرام میں حسب روایت اُن کے فرزند جام آف لسبیلہ جام محمد یوسف عالیانی کی دستار بندی ہوا۔ اُس وقت کے قاٸم مقام صدر غلام اسحاق خان نے جام محمد یوسف عالیانی کو پگ باندھ کر سماج، علاقہ و پوری راج کی زمہ داری سونپ دی گٸی۔ ان ہی دوران 1988 کے انتخابات سر پر پہنچ چکے تھے۔ اور جام میر غلام قادر کے اچانک رحلت کے باعث عوامی خواہش کے مطابق جام محمد یوسف نے 1988 کے صوباٸی انتخابات میں انٹری کرکے الیکش لڑ کر کامیابی سمیٹا۔ کیوں کہ لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ ہونے کی بنا۶ پر نہ صرف الیکشن میں کامیاب ہوٸے بلکہ صوباٸی وزیر بھی بنے اور پھر لسبیلہ کے عوام کی خدمت جاری رکھی
- Advertisement -
پھر 1990 میں دونوں نشستوں (صوباٸی،قومی) پر الیکشن لڑ کر مد مقابل امیدواروں کے لیے کوٸی خالی جگہ نہیں چھوڑی۔ اور 1993 میں کامیابی کا تاج اپنے سر پر سجا کر سینیٸر وزیر بن گٸے۔ جو ایک تاریخی لمحہ تھا۔ اور جب 1997 کے الیکشن پہنچے تو یہاں بھی حسب معمول دونوں نشستوں پر باآسانی فتح یاب ہوٸے۔ یہ سلسلہ چلتا گیا۔ کہ 2002 میں اپنی سیاسی وابستگی کا اعلان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ کیا۔ پھر الیکشن بھی قریب پہنچے جو کہ اس الیکشن میں جام صاحب صرف صوباٸی اسمبلی کے لیے الیکشن لڑے جو کہ کامیاب قرار پاٸے۔ نہ صرف کامیاب،
بلکہ وزیراعلیٰ بلوچستان کا عہدہ بھی لسبیلہ سے تعلق رکھنے والے عالیانی قبیلے کے جام محمد یوسف عالیانی کے پلڑے میں آیا۔ یہ دور بلوچستان کی تاریخ میں ترقی کا نہ رُکنے والا دور تھا۔ اور بطور وزیراعلیٰ اتحادیوں و اپوزیشن دونوں کو ساتھ لے کر اپنی آٸینی مدت پوری کی۔ بلوچستان کی تاریخ میں وزارت اعلیٰ کے منصب کی آٸینی مدت پوری کرنے والے صفحہ میں اوّل نمبر پر اپنا نام شمار کراکر ریکارڈ اپنے نام کرانے میں کامیاب ہوگٸے اس کریڈٹ کے پیچھے وجہ خدمت خلق و بلوچستان کے عوام کے ہر دکھ درد میں شامل ہونا و اُن کے امنگوں پر اتر کر ترقیاتی کاموں کا جال بچھانا وغیرہ سرفہرست تھے۔ آپ نے اپنے دور سیاست میں ضلعی چیٸرمین، ایم پی اے، صوباٸی وزیر، سینیٸر صوباٸی وزیر، وفاقی وزیر پانی و بجلی، وفاقی وزیر نجکاری، وزارت اعلیٰ جیسے عہدوں پر رہنے کے باوجود جام محمد یوسف،
ہر روپ میں یوسف ہی رہے۔ حتٰی کہ لاسی ہی رہے اور بطور لاسی لسبیلہ کے عوام کی خدمت میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی وجہ سے آج آٹھ برس گزرنے کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں۔ جیسے جام یوسف تھوڑی دیر پہلے ہماری نظروں سے اوجھل ہوٸے ہیں۔ جام محمد یوسف عالیانی نے بطور وزیراعلیٰ بہت سارے ترقیاتی کام کراکر اپنے عوام کے دل جیت لیے۔ جن میں سر فہرست لسبیلہ یونیورسٹی، ٹیکنیکل کالج اوتھل، ریزیڈینشل کالج اوتھل، مختلف گرلز کالجز، ہاٸی سیکنڈری سکولز، ماربل سٹی، حبکو پاور کمپنی، ددّر ماٸننگ کمپنی، کنراج سڑک، سرکٹ ہاٶس اوتھل،
و لسبیلہ میں دیگر اربوں روپے کے مختلف پروجیکٹس مکمل کیے تھے۔ جن کے پھل سے آج ہم مستفید ہو کر جام یوسف کو سنہرے لفظوں میں یاد کر رہے ہیں۔ آج سے 9 برس قبل 2 فروری 2013 بمطابق 23 ربیع الاوّل 1434 ہجری کو جام یوسف پورے لس کو ایک عظیم شخص سے محروم کرکے اگلے جہاں کے لیے رحلت کر گٸے۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ جام محمد یوسف (مرحوم) کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرماٸے۔ اور جام آف لسبیلہ شہزادہ جام میر کمال خان عالیانی کو قبیلہ، قوم و ملک خصوصاً بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنے کا حوصلہ عنایت فرماٸے اور اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمارے ضلع لسبیلہ کو ہمیشہ امن و بھاٸی چارگی کا محور بناٸے (آمین)