بلوچ کلچر ڈے
تحریر: کنول زہرا
- Advertisement -
ہر قوم کی اپنی ثقافت ہوتی ہے، پاکستان مختلف زبان، رنگ و نسل کا گلدستہ ہے، اس گلدستے کے مختلف پھولوں کی منفرد خوشبو ہے، جسے ثقافت کہتے ہیں، آج ہم بلوچ کلچر ڈے پر تفصیل سے بات کریں گے جو ہر سال 2 مارچ کو منایا جاتا ہے، بلوچ کے معنی بلند تاج کے ہیں، بلوچی ادب کو چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلا رند دور جو 1430ء سے 1600ء تک رہا، دوسرادور قوانین کا دور 1600ء سے 1800 ء تک رہا، تیسرا دور 1800ء میں برطانیہ کی آمد سے شروع ہوا اور قیا م پاکستان کے وقت1947ء میں تما م ہو ا ۔ چوتھے اورموجودہ دور کاآغاز قیا م پاکستان سے ہوا ۔ بلوچ قوم میں بہت سے شعراء نے جنم لیا جن میں میربیورخ رند،سردار گہرام لاشاری ،میر ریحان رند اور خان عبداللہ خان، گل خان نصیر، محمد حسین عنقا، سید ظہور شاہ ہاشمی، ملک طوقی، عطا شاد، آدم عقانی، مراد ساحر ، ظفر علی ظفر، کریم دشتی، بشیر بیدار، مبارک قاضی ، منیر مومن کے نام قابلِ ذکر ہیں۔بلو چوں کے چند مشہور قبائل رند،لاشاری ، جتوئی، مینگل ، مری ،بلیدی ، بگٹی، رائیسانی ، میروانی ،کہرانی ، کرد ، جعفری ، بلو چ ، میرالی ، جمالی ، ھوکانی ، ہوتی اور زرداری وغیرہ ہیں۔ بلوچ قوم کی ثقافت منانے کی ابتداء پندرہویں صدی عیسوی میں تاریخی شہر سبی سے ہوئی، بعد ازاں 2010 میں اس دن کو باقاعدگی سے ہر سال منایا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے ہمارے بلوچی بہن بھاءی روایتی لباس پہن کر اور مختلف اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں لوک میوزیکل اورعلاقاءی کھانوں کا انتظام کیا جاتا ہے، اس روز روایتی کھیل تیر اندازی کا خصوصی انعقاد کیا جاتا ہے، مختلف درسگاہوں میں ہر قوم کی مناسبت سے بلوچ کلچر ڈے کو بھی بھت جوش سے منایا جاتا ہے، بلوچستان پاکستان کا بڑا اور بہت اہم صوبہ ہے، یہاں قدرتی معدنیات کی بہتات ہے، بلوچستان میں تقربیا 40 انتہاءی قمیتی معدنیات کے ذخائر دریافت ہوچکے ہیں جو محتاط تخمینوں کے مطابق آئندہ پچاس سے سو سال تک ملکی ضروریات پورا کرنے کے لئے کافی ہیں، ان میں تیل، گیس، سونا، تانبا، یورینیئم، کولٹن، خام لوہا، کوئلہ، انٹی مونی، کرومائٹ، فلورائٹ‘ یاقوت،گندھک، گریفائٹ، چونے کا پتھر، کھریامٹی، میگنائٹ، سوپ سٹون، فاسفیٹ، درمیکیولائٹ، جپسم، المونیم، پلاٹینم، سلیکاریت، سلفر، لیتھیئم اور اربوں ڈالر کی کئی دوسری قیمتی دھاتیں شامل ہیں۔قدرتی مناظر اور ذخاءر سے مالامال صوبہ دشمن کی نظر میں کھٹکتا ہے، جب ہی اکثر وہ شیطانی حرکات کرنے سے باز نہیں آتا ہے تاھم اللہ کے کرم سے فوری منہ کی بھی کھاتا ہے، جس کی جیتی جاگتی مثال کل بھوشن یادیو ہے، جس کا اقبال جرم اس کی ریاست اور ادارے کے بارے میں کھل کر بتا ہے کہ اصل میں کون دہشتگرد ہے اور کون دہشتگردی کے خلاف سراپا جنگ ہے، افواج پاکستان کا اپنے بلوچ بھاءی بہن کے ساتھ ایک الگ ہی پیار اور احترام کا تعلق ہے، پاکستان آرمی میں بلوچ رجمنٹ کی بہت اہمیت ہے، پاک آرمی کے بہت سے جنرلز، دیگر افسران اور سپاہی بلوچ رجمنٹ سے وابستہ ہیں، صوبہ بلوچستان کے شہر چاغی کو یہ اعزاز حاصل ہے جہاں ایٹم بم کا تجربہ کر کے ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا گیا تھا
ملک دشمن عناصر پاکستان میں لسانی فسادات کراکر مادروطن کی جڑوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تاہم ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، دیگر صوبوں کے عوام کے یوم ثقافت کی طرح بلوچ کچر ڈے کا جوشیلا اھتمام دشمن کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے جس کا ہر حربہ پے در پے ناکام ہورہا ہے، انشااللہ دشمن آگے بھی اسی طرح شکست خوردہ رہے گا اور پاکستان کا بلوچستان خوشحال صوبہ بنکر وطن عزیز کا مضبوط بازو بنے گا، انشااللہ، پاکستان کا بلوچستان زندہ باد