MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

درسگاہوں میں سیاست, نامنظور

1 383

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر: کنول زہرا
اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان خواندگی کی شرح کے لحاظ سے دنیا کے 120 ممالک میں 113 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی صرف 59.13 فیصد آبادی خواندہ ہے, ملک میں ناخواندگی کی بڑی وجہ جگہ جگہ سیاسی مداخلت ہے, جب کسی درسگاہ میں سیاسی بھرتیاں ہونگیں تو وہاں بہتر تعلیم کا حصول ممکن نہیں ہوسکے گا. سیاسی مداخلت نے تعلیمی اداروں پیشہ وارنہ نظام  کو بے حد متاثر کیا ہے. حال ہی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے گورنمنٹ کالج لاہور جاکر طلبہ سے خطاب کیا, اپنی تقریر میں انہوں نے طلبہ سے پر زور ہوکر کہا کہ یونیورسٹیاں سماجی تبدیلی کی تحریکوں میں صفِ اول کا کردار ادا کرتی ہیں, یہ وہ ہی عمران خان ہیں جب وہ برسر اقتدار تھے تو ان کابینہ کے وزیر تعلیم شفقت محمود تعلیمی اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے لئے پر عزم نظر آتے تھے تاہم وہ اپنے لیڈر کو نہ سمجھا سکے. افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان  پاکستان کے سارے ہی شعبہ زندگی کو مفلوج کرنے کا عزم لئے نظر آتے ہیں, عدلیہ ان کا ساتھ دے تو منصف, فوج ان کے ساتھ ہو تو محب الوطن, الیکشن کمیشن ان کی ماننے تو بہترین مگر اگر کوئی عمران خان سے ان کے عمل کے بارے میں باز پرس کرلے تو اسے وہ انتہائی برا اور ملک دشمن بناکر پیش کرتے ہیں, نوازشریف کا بطور وزیراعظم ناشتے کی وجہ سے ہیلی کاپٹر کا استعمال یقینا قابل مذمت ہے مگر کیا چارسدہ میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال عمران خان کے لئے جائز عمل ہے? کیا بطور سیاسی جماعت کے سربراہ کے وزیراعلی سے ملاقات کے دوران ان کی کرسی پر براجمان ہونا اخلاقی امر ہے? کیا عوام کو اپنے مقاصد کے استعمال کرنا مگر ان کی داد رسی نہ کرنا زیب دیتا ہے? ملک سیلابی حالت سے دوچار ہے, جگہ جگہ اداروں کے خلاف زہر اگلتے عمران خان خاص طور پر کسی سیلاب زدہ گان کے پاس نہیں گئے, عمران خان اداروں کو دھمکیاں دینے پر عوام کو اکساتے ہیں, کیا یہ درست امر ہے?
سیاسی قائدین رائے ساز ہوتے ہیں جو نوجوانوں اور طلباء پر بہت گہرا اثر  رکھتے ہیں, طلبا اور نوجوان شخصیت سازی کے  مرحلے پر ہوتے ہیں, اس وقت انہیں مثبت رجحانات کی جانب راغب کرنا چاہئے نہ کہ ان کی شخصیت بنے سے قبل ان کی شخصیت کو کریش کرنے کی کوشش کی جائے, یہ سچ ہے کہ
عمران خان کے زیادہ تر حامی نوجوان طلباء ہیں جن کے ذہنوں کو ڈھالنا آسان ہے، بجائے اس کے کہ عمران خان ان کی صلاحیتوں کو  ملک کے روشن مستقبل کے طور استعمال کریں وہ انہیں منفی اثرات کی جانب راغب کر رہے ہیں۔ عمران خان کی سیاسی مخالفین کے خلاف دھماکہ خیز تقریر نے نوجوان ذہنوں کا استحصال کیا گیا ہے۔ جو جمہوری اصولوں سمیت اخلاقیات کے بھی خلاف ہے, عمران خان اور ان کی جماعت نہ صرف ملک اور اداروں کے درمیان خلیج اور تقسیم کا باعث بن رہی ہیں بلکہ لوگوں کو بھی ایک دوسرے سے دور کر رہی ہے, یہ ہی حال درسگاہوں کا ہوتا جا رہا ہے, ایک طالب علم اپنے دوسرے ساتھی سے محض سیاسی نظریات کی بنیاد پر دور ہوتا جا رہا ہے, جو کہ معاشرے کی تباہی کی بدترین شکل ہے حالانکہ عمران خان ملک اور سماج کی ترقی کی باتیں کرتے ہیں, صاف ظاہر ہے وہ اس قسم کے بیانات محض زبانی جمع خرچ کے طور پر جاری کرتے ہیں جبکہ ان کی ترجیحات مختلف ہیں, ریاستی اداروں کے خلاف عمران خان کی زہریلی اور نفرت انگیز تقاریر طلباء اور نوجوانوں کو مجموعی طور پر گمراہ کر رہی ہیں۔ ریاستی اداروں کا کھلے عام مذاق اڑانا اور لوگوں کو اداروں کے خلاف اکسانا غداری سے کم نہیں ہے, ایک طرف تو تحریک انصاف ملک و قوم کی فلاح و بہبود کی باتیں کرتی ہے لیکن عملی طور پر ان کی کارگردگی صفر ہے.نظام تعلیم میں بہتری کے لئے درسگاہوں کو ہر قسم کی سیاست اور سیاسی رجحانات سے بالائے طاق رکھنا ضروری ہے,  درسگاہوں میں ایسی شخصیات پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہئے جو معاشرے میں بگاڑ کا باعث ہو, اگر ایسا نہیں ہوا تو پاکستان کا مستقبل ہیجانی کیفیت سے مزین ہوگا جو ریاست کے لئے بالکل بھی مناسب نہیں ہے لہذا ریاست کو ابھی سے ٹھوس اور جامع فیصلے پر عمل پیرا ہوکر پاکستان کی بہتری کے لئے بہتری اقدامات کرنے ہونگے

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] کی ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کو عدلیہ مخالف تقریر پر توہین عدالت کا نوٹس جاری […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.